کراچی:’پولیس مقابلہ، چوہدری اسلم پر خودکش حملے کے ملزمان ہلاک‘

تصویر کے کاپی رائٹ epa
Image caption یہ گذشتہ تین روز میں کالعدم تحریک طالبان کے خلاف کراچی پولیس کی تیسری کارروائی ہے

پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں پولیس نے ایک مبینہ پولیس مقابلے میں سات مشتبہ شدت پسندوں کو ہلاک کر دیا ہے۔

ملیر کے ایس ایس پی راؤ انوار کے مطابق ہلاک کیے گئے ملزمان ایس ایس پی سی آئی ڈی چوہدری اسلم پر ہونے والے خودکش حملے میں بھی ملوث تھے۔

کراچی پولیس کا کہنا ہے کہ یہ جھڑپ اتوار کو ملیر کے ایوب گوٹھ میں ہوئی جہاں پولیس شدت پسندوں کی موجودگی کے اطلاع پر پہنچی۔

پولیس کا کہنا ہے کہ شدت پسندوں نے مزاحمت کرتے ہوئے پولیس اہلکاروں پر دستی بموں سے حملہ کیا اور فائرنگ کی تاہم تمام اہلکار محفوظ رہے۔

راؤ انوار کے مطابق جوابی فائرنگ سے سات شدت پسند ہلاک ہوگئے جبکہ دو شدت پسند زخمی حالت میں فرار ہوگئے۔

ایس ایس پی ملیر کے مطابق انہیں کالعدم تحریک طالبان کے اجلاس کی اطلاع ملی تھی، جس پر پولیس نے علاقے کا گھیراؤ کیا تھا۔

انہوں نے بتایا کہ سات میں سے تین شدت پسندوں کی شناخت ہوگئی ہے، جن میں امین، حضرت حسین اور لال زادہ شامل ہیں۔

انھوں نے دعویٰ کیا کہ ہلاک ہونے والا امین نامی شدت پسند چوہدری اسلم پر خودکش حملہ کرنے والے نوجوان عثمان کا بھائی تھا اور یہ بیرون ملک سے کچھ دن قبل ہی واپس آیا تھا، جبکہ حضرت حسین نے چوہدری اسلم کی ریکی کی تھی اور وہ کالعدم تحریک طالبان کی قیادت کے ساتھ بھی رابطے میں تھا۔

اس کے علاوہ لال زادہ بارود سے بھری گاڑی لایا تھا جو خودکش حملے میں استعمال ہوئی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption چوہدری اسلم پر لیاری ایکسپریس وے پر خودکش حملہ کیا گیا تھا جس کی ذمہ داری طالبان نے قبول کی تھی

واضح رہے کہ رواں سال جنوری میںلیاری ایکسپریس وے پر خودکش حملے میں ایس ایس پی سی آئی ڈی چوہدری اسلم ہلاک ہوگئے تھے۔

پولیس جائے وقوع سے بارود، کیمیکل اور دیگر اسلحہ بھی برآمد کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

یہ گذشتہ تین روز میں کالعدم تحریک طالبان کے خلاف کراچی پولیس کی تیسری کارروائی ہے۔

اس سے پہلے میٹرو ول کے قریب پولیس نے تین شدت پسندوں کو گرفتار کرکے اسلحہ بارود برآمد کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔

اس کے علاوہ رینجرز نے سہراب گوٹھ کوئٹہ ٹاؤن سمیت مختلف علاقوں میں سرچ آپریشن کرکے سو سے زائد مشتبہ افراد کو حراست میں لیا ہے، جن میں کالعدم تنظیموں کے کارکن بھی شامل ہیں۔

اسی بارے میں