سیلاب کے بعد سکول تباہ، تعلیم کھلے آسمان تلے

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

جھنگ شہر سے تقریبا 40 کلومیٹر کے فاصلے پر جوگیرا گاؤں دریائے چناب کے کنارے پر واقع ہے۔ حالیہ سیلاب سے اس کا ایک حصہ مکمل طور پر دریا برد ہوچکا ہے۔

اسی حصے میں لڑکیوں کا پرائمری سکول بھی تھا۔ جس کی ایک اینٹ بھی باقی نہیں بچی۔ پرانی عمارت سے کچھ فاصلے پر ایک کھلے سے احاطے میں مختلف جماعتوں کے لگ بھگ 50 بچے آج کل ایک بڑے سے درخت کے نیچے پڑھائی کررہے ہیں۔

یہ درخت جس عمارت کے صحن میں لگا ہے وہ ایک نجی سکول ہے۔ صحن کی دوسری جانب دو کمرے بھی ہیں لیکن بچے پھر بھی کھلے آسمان تلے بیٹھے ہیں۔

دن بھر جس طرح سورج اپنی جگہ تبدیل کرتا ہے یہ بھی اپنے بنچ اور دریاں گھماتے رہتے ہیں تاکہ درخت کے سایے تلے ہیں رہ سکیں۔

اللہ بخش یہاں پڑھاتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے ’کمروں میں دراڑیں پڑ چکی ہیں۔ اس لیے ہم بچوں کو اندر نہیں بٹھاتے۔ ہمیں خطرہ رہتا ہے کہ کہیں چھت گر ہی نہ جائے۔ اب یہ ہمارے اور سرکاری سکول کےبچے اکٹھے بیٹھے ہیں۔ ان کی پڑھائی کیا ہوگی۔‘

Image caption سکول کی عمارت نہ ہونے کے باعث بچے کھلے آسمان تلے ایک درخت کے نیچے اپنی پڑھائی کرنے پر مجبور ہیں اور پیچھے سیلاب کا جمع شدہ پانی تباہی کی یاد دلانے کے لیے موجود ہے

اس احاطے کے سامنے سرکاری سکول کی ایک پرانی عمارت ہے۔ جو برس ہا برس سے بند پڑی تھی لیکن اب لڑکیوں کا سکول بہہ جانے کےبعد اسے استعمال میں لانے کی کوششیں کی جارہی ہے۔ لیکن اس کی حالت بھی اچھی نہیں۔ چاروں طرف اینٹوں کے ڈھیر لگے ہوئے ہیں اور بیرونی دیوار منہدم ہوچکی ہے۔

کمروں کی حالت انتہائی خستہ ہے۔ فرنیچر تو سرے سے موجود ہی نہیں ایک کمرے میں فرش پر بھوسہ ڈالا گیا ہے۔ تاکہ بچے اسی پر بیٹھ کر پڑھ سکیں۔ لیکن کمرے میں سیلاب کے پانی کی نمی اور بدبو اس قدر ہے کہ یہاں چند منٹ بھی کھڑا ہونا مشکل ہے۔

Image caption سکول کے احاطے میں سیلاب سے متاثر ہونے والے خاندانوں کو آباد کیا گیا ہے

یہی وجہ ہے کہ کوئی درجن بھر بچیاں جو شاید آئی تو پڑھائی کی غرض سے تھیں کھیل کود میں مصروف ہیں۔ ایک بچی زاہدہ نے بتایا کہ ’دریا آیا تھا۔ جس سے سارا سکول ٹوٹ گیا ہے۔ پڑھنے کی جگہ نہیں ہے۔‘

جوگیرا میں سیلاب سے پہلے لڑکوں کا ایک سکول بھی تھا۔ سیلاب کو گزرے تو کئی ہفتے ہوچکے لیکن سکول کی عمارت کو دیکھ کر اس کی شدت کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ عمارت کیا ہے ملبے کا ایک ڈھیر ہے۔ زمین میں جگہ جگہ گڑھے پڑے ہوئے ہیں۔ درمیان میں دو کمرے سلامت کھڑے دکھائی دیتے ہیں۔ لیکن اندر جھانکتے ہی ان کی خستہ حالی کا اندازہ ہونے لگتا ہے۔

Image caption لڑکیوں کے سکول کی عمارت کے ایک طرف اینٹوں کا ڈھیر پڑا ہے جس سے سیلاب کی شدت کا اندازہ ہوتا ہے

محمد ذوالفقار جوگیرا کے رہائشی ہیں وہ کہتے ہیں کہ ’ہمارے بچے دربدر دھکے کھارہے ہیں۔ ہمارے پاس نہ کوئی آیا ہے نہ کسی نے یقین دلایا ہے کہ ہم آپ کے بچوں کی تعلیم کے لیے کچھ کریں گے۔‘

سکول کے احاطے میں کئی خاندان اپنا عارضی ٹھکانہ بنائے بیٹھے ہوئے ہیں۔ پاس ہی کچھ خیمے لگے ہیں۔ ایک طرف عورتیں بیٹھی تھیں۔ جو چولہے پر کھیر پکارہی تھیں۔ جبکہ دوسری طرف چارپائی پر گاؤں کے چوہدری براجمان تھے۔ سامنے زمین پر کچھ اور مرد بیٹھے تھے جو درمیان پڑے حقے پر باری باری کش لگا رہے تھے۔ سب کے چہروں پر پریشانی کے آثار نمایاں تھے۔

چوہدری محمد امین نے بتایا کہ ’گاؤں کے ارد گرد 130 مربعے رقبہ تھا جو بےکار ہوگیا ہے۔ اس رقبے میں اب ہم زیادہ سے زیادہ دو مربعے کاشت کرسکتےہیں۔ سکول کی کیا بات ہے۔ یہاں تو درجنوں گھر برباد ہوچکے ہیں۔ بہت سے لوگ دوسرے علاقوں کی طرف جاچکے ہیں۔‘

Image caption درخت کے نیچے سائے کی وجہ سے جوں جوں سورج اپنی جگہ بدلتا ہے بچے اپنے بنچ گھماتے رہتے ہیں تاکہ سائے تلے رہ سکیں

جوگیرا میں ایک شخص ہاتھ میں رجسڑ اٹھائے گھر گھر جاکر لوگوں سے ان کے نقصان کے بارے میں تفصیلات جمع کررہا ہے۔ یہ سکول ٹیچر محمد رمضان ہیں جو پڑھاتے تو جھنگ شہر میں ہیں لیکن آجکل ضلع کے درجنوں دوسرے اساتذہ کی طرح گاؤں گاؤں گھوم رہے ہیں۔

محمد رمضان اس وجہ سے خاصے ناراض دکھائی دیے۔ ان کا کہنا تھا ’ایک طرف بچوں کے امتحان ہونے والے ہیں اور وہ جگہ جگہ رُل رہے ہیں۔اور ہماری راہ تک رہے ہیں اور دوسری طرف ہم خوار ہو رہے ہیں۔ ہماری حاضریاں تھانوں میں لگوائی جارہی ہیں۔ میں صرف اپنی بات نہیں کرتا۔ آپ میرے ساتھ چل کر دیکھیں ضلع جھنگ کے ہر سکول کے اساتذہ کا یہی حال ہے۔‘

Image caption ماسٹر محمد رمضان ان استادوں میں سے ایک ہیں جنہیں سیلاب زدگان کے کوائف جمع کرنے کے کام پر مامور کیا گیا ہے

پنجاب حکومت نے جھنگ میں متاثرہ افراد کو امداد کی فراہمی کے مراکز بھی سکولوں میں ہی قائم کیے ہیں۔ جن کا نگران ہیڈ ماسڑوں کو مقرر کیا گیا ہے۔

جوگیرا کی طرح حالیہ سیلاب سے پنجاب میں لگ بھگ دوہزار سکول متاثر ہوئے ہیں۔ اور اب جبکہ گرمیوں کی چھٹیوں کے بعد ملک کے سب ہی تعلیمی اداروں میں پڑھائی زورشور سے شروع ہوچکی ہے وہیں سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں ہزاروں طالبعلموں کا تعلیمی سال خطرے میں پڑتا دکھائی دے رہا ہے۔

اسی بارے میں