’ورکنگ باؤنڈری پر سیز فائر کی خلاف ورزیاں جاری‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption سیالکوٹ ورکنگ باونڈری اور لائن آف کنٹرول پر کشیدگی کا سلسلہ سرحدوں پر کئی برس کے امن کے بعد سنہ 2013 میں شروع ہوا تھا

پاکستانی فوج کا کہنا ہے کہ لائن آف کنٹرول اور ورکنگ باؤنڈری پر بھارتی علاقے سے ہونے والی فائرنگ سے مزید چھ افراد زخمی ہوگئے ہیں۔

پاکستان کے سرکاری ذرائع ابلاغ نے فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ کے حوالے سے کہا ہے کہ بھارت نے دو روز میں متعدد بار سیز فائر کی خلاف ورزی کی ہے۔

آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ ورکنگ باؤنڈری پر تازہ خلاف ورزی میں پیر کی شب شروع ہونے والی ’بلااشتعال‘ فائرنگ منگل کی صبح ساڑھے دس بجے تک جاری رہی۔

پی ٹی وی کے مطابق پاکستان کے ضلع سیالکوٹ میں ورکنگ باؤنڈری پر بھارتی فائرنگ سے زخمی ہونے والوں میں دو خواتین اور ایک بچی بھی شامل ہے۔

پاکستانی فوج کے مطابق پاکستان نے فائرنگ کے ان واقعات پر اقوامِ متحدہ کے فوجی مبصر مشن سے احتجاج کیا ہے اور یہ مشن متاثرہ مقامات کا دورہ بھی کرے گا۔

اس سے قبل آئی ایس پی آر کے سربراہ میجر جنرل عاصم باجوہ نے بھارت پر چاروا کے علاوہ پکھلیاں اور چپراڑ کے علاقوں میں فائرنگ کا الزام عائد کیا تھا۔

پیر کی شب ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں فوجی ترجمان نے کہا تھا کہ ان تینوں سیکٹرز میں مارٹر گولے داغے گئے اور چھوٹے ہتھیاروں سے فائرنگ کی گئی ہے۔

ترجمان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس کارروائی کا موثر انداز میں جواب دیا گیا ہے۔

پیر کو ہی پاکستان اور بھارت کی جانب سے ایک دوسرے پر ورکنگ باؤنڈری اور لائن آف کنٹرول پر جنگ بندی کے معاہدے کی خلاف ورزی کے الزامات لگائے گئے تھے اور کہا گیا تھا کہ فائرنگ سے نو پاکستانی و بھارتی شہری ہلاک اور 50 سے زیادہ زخمی ہوئے ہیں۔

آئی ایس پی آر کی جانب سے منگل کو جاری کردہ بیان کے مطابق بھارت کی سرحدی سکیورٹی فورس نے چاروا سیکٹر میں بلااشتعال فائرنگ کی تھی جس کے نتیجے میں دو بچے، ایک خاتون اور ایک عمر رسیدہ شخص ہلاک ہوا۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption میجر جنرل عاصم سلیم باجوہ نے ورکنگ باؤنڈری کی خلاف ورزی کے حوالے سے ٹوئٹر پر بیان جاری کیا

بیان کے مطابق چاروا کے علاوہ نکیال، کیرلہ، تتہ پانی، جند روٹ اور کوٹ کیرتا سکیٹرز میں بھی فائرنگ کی گئی اور اس سے زخمی ہونے والوں کی تعداد 26 ہے۔

جواب میں بھارت کی جانب سے کہا گیا کہ پاکستانی رینجرز نے آر ایس پورہ سیکٹر میں پونچھ، گلمرگ اور ارنيا کے علاقوں میں جنگ بندی کی خلاف ورزی کی اور دس سرحدی چوکیوں اور چند دیہات کو مشین گنز اور مارٹر گولوں سے نشانہ بنایا۔

بھارتی فوج کے مطابق ان حملوں میں پانچ شہری ہلاک اور بی ایس ایف کے جوان سمیت 30 سے زیادہ زخمی ہوئے۔

بھارت کے وزیرِ داخلہ راج ناتھ سنگھ نے کہا ہے کہ ’پاکستان کو جنگ بندی کی خلاف ورزیاں بند کر دینی چاہییں۔‘

پیر کو ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں ان کا کہنا تھا کہ انھوں نے بھارتی سرحدی سکیورٹی فورس کے ڈائریکٹر جنرل ڈی کے پاٹھک کو فائرنگ سے متاثرہ سیکٹروں کا دورہ کرنے کے لیے کہا ہے۔

پاکستان اور بھارت کے درمیان سیالکوٹ ورکنگ باونڈری اور لائن آف کنٹرول پر کشیدگی کا سلسلہ سرحدوں پر کئی برس کے امن کے بعد 2013 میں شروع ہوا تھا۔

پچھلے سال اکتوبر میں بھی سیالکوٹ کی سرحد پر بھارتی گولہ باری سے ایک فوجی اور دو شہری ہلاک اور چودہ افراد زخمی ہوئے تھے۔

حالیہ برس اگست میں ایک مرتبہ پھر سیالکوٹ ورکنگ باونڈری پر پاکستان اور بھارت کے سرحدی محافظوں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ شروع ہوا۔ جس میں دو شہری ہلاک اور رینجرز اہلکاروں سمیت کئی زخمی ہوئے۔

جس کے بعد پاکستان کی وزارت خارجہ نے اسلام آباد میں تعینات بھارت کے ڈپٹی ہائی کمشنر کو طلب کرکے باقاعدہ احتجاج بھی ریکارڈ کروایا تھا۔

اگست میں ہی نئی دلی میں پاکستانی ہائی کمشنر کی کشمیر علیحدگی پسند رہنماوں سے ملاقات کو لے کر بھی بھارت میں خاصی نتقید کی گئی تھی۔ جس کے بعد بھارت نے چھبیس اگست کو طے شدہ دنوں ملکوں کے سیکرٹری خارجہ کی ملاقاتوں کو بھی منسوخ کردیا تھا۔

سیالکوٹ ورکنگ باونڈری اور لائن آف کنٹرول پر گذشتہ چندروز سے ایک مرتبہ پھر فائرنگ کا تبادلہ جاری ہے اور حسب معمول دنوں جانب سے ایک دوسرے پر پہلے گولہ باری شروع کرنےکا الزام عائد کیا جا رہا ہے۔

اسی بارے میں