وزیرستان میں ایک اور ڈرون حملہ، تین افراد ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سرکاری اہلکاروں کا کہنا ہے کہ ابھی تک یہ معلوم نہیں ہوسکا ہے کہ حملے میں مارے جانے والے شدت پسندوں کا تعلق کس تنظیم سے ہے

پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں گذشتہ چند دنوں کے دوران امریکی جاسوس طیاروں کے حملوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔ تازہ ترین حملے میں ایک گاڑی کو نشانہ بنایا گیا ہے جس میں کم سے کم تین مشتبہ عسکریت پسند ہلاک ہوگئے ہیں۔

سرکاری اہلکاروں کے مطابق یہ حملہ بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب پاک افغان سرحد کے قریب واقع شمالی وزیرستان کے دورافتادہ سرحدی علاقے دتہ خیل میں لمن کے مقام پر ہوا ہے۔

انھوں نے کہا کہ بغیر پائلٹ کے امریکی ڈورن طیارے سے شدت پسندوں کی ایک گاڑی پر دو میزائل داغے گئے جس میں کم سے کم تین مشتبہ شدت پسند مارے گئے۔

انھوں نے کہا کہ حملے میں گاڑی مکمل طور پر تباہ ہوگئی ہے، تاہم ابھی تک یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ حملے میں مارے جانے والے شدت پسندوں کا تعلق کس تنظیم سے ہے۔

شمالی وزیرستان میں پچھلے چند دنوں کے دوران امریکی جاسوس طیاروں کے حملوں میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے اور گذشتہ چار دنوں میں یہ پانچواں حملہ ہے۔

مقامی ذرائع کے مطابق پانچوں حملے پاک افغان سرحد کے قریب واقع شمالی وزیرستان کے علاقوں دتہ خیل اور شوال میں ہوئے ہیں۔

یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ یہ حملے ایسے وقت ہو رہے ہیں جب شمالی وزیرستان ہی میں پاکستانی فوج کی طرف سے شدت پسندوں تنظیموں کے خلاف آپریشن ضرب عضب گذشتہ تقریباً تین مہینوں سے جاری ہے۔

فوج کا کہنا ہے کہ آپریشن کے باعث شمالی وزیرستان کے تقریباً 80 فیصد علاقے کو محفوظ بنایا جاچکا ہے۔

مقامی ذرائع کے مطابق فوجی کارروائیوں کی وجہ سے بیشتر شدت پسند شوال اور دتہ خیل کے سرحدی علاقوں میں منتقل ہوگئے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ دتہ خیل کے کچھ علاقے کلئیر ہو چکے ہیں تاہم وہاں دور دراز علاقوں میں بدستور شدت پسندوں موجود ہیں۔

مختلف ذرائع سے حاصل کی گئی معلومات کے مطابق پاکستان میں اس سال امریکی جاسوس طیاروں کی طرف سے اب تک کوئی 13 حملے کیے جا چکے ہیں جن میں 12 حملے شمالی وزیرستان میں جبکہ ایک حملہ جنوبی وزیرستان میں کیا گیا ہے۔

ان حملوں میں درجنوں شدت پسند مارے گئے ہیں۔

اسی بارے میں