’نوبیل انعام کی تقریب میں مودی اور نواز ساتھ ہوں‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption ملالہ یوسفزئی نے برطانیہ کے شہر برمنگھم میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستانی اور بھارتی وزرائے اعظم کودسمبر میں ہونے والی تقریب میں شرکت کی دعوت دی

بھارت کے کیلاش ستيارتھي کے ساتھ مشترکہ طور پر امن کا نوبیل انعام جیتنے والی پاکستان کی ملالہ یوسفزئی نے خواہش ظاہر کی ہے کہ جب ان دونوں افراد کو ایوارڈ ملے تو بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی اور پاکستان کے وزیر اعظم نواز شریف اس پروگرام میں موجود ہوں۔

ملالہ یوسفزئی نے برطانیہ کے شہر برمنگھم میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’میں نے کیلاش ستیارتھی صاحب سے بات کرتے ہوئے ان سے درخواست کی ہے کہ وہ اپنے وزیراعظم نریندر مودی سے درخواست کریں اور میں پاکستان کے وزیراعظم میاں نواز شریف سے درخواست کروں گی کہ وہ نوبیل انعام دیے جانے کے موقعے پر موجود ہوں۔‘

امن کا نوبیل انعام، ملالہ کے نام

گل مکئی سے ملالہ یوسفزئی تک

ملالہ نے کہا کہ ’میں رواداری اور تحمل پر یقین کرتی ہوں اور دونوں ہی ملکوں کی ترقی کے لیے یہ کافی اہم ہے کہ وہاں امن ہو اور دونوں کے رشتے اچھے ہوں۔ اسی طرح سے وہ ترقی کر پائیں گے۔‘

اس سے پہلے جمعہ کے دن میں نوبیل امن انعام دینے والی کمیٹی نے ستيارتھي اور ملالہ کو 2014 کا امن کا نوبیل انعام مشترکہ طور پر دینے کا اعلان کیا۔

ساتھ ہی، انہوں نے یہ امید بھی ظاہر کی کہ بھارت اور پاکستان کو تعلیم اور ترقی کے میدان میں اہم اقدامات کرنے کی توفیق ملے گی۔

ملالہ نے کیلاش ستيارتھي کے ساتھ اپنا انعام اشتراک کرنے پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے کیلاش ستيارتھي کے ساتھ پاک بھارت تعلقات میں بہتری لانے کے بارے میں بھی بات کی۔

پاکستان کی وادئ سوات میں لڑکیوں کی تعلیم کی مہم چلانے کے لیے شدت پسندوں کی گولی کا نشانہ بنی ملالہ بتاتی ہیں کہ وہ کیلاش ستيارتھي کے کام سے بے حد متاثر ہوئی ہیں۔

وہ کہتی ہیں کہ نوبیل امن انعام سے بچوں کی تعلیم کے لیے کام کرنے کی ترغیب اور حوصلہ ملا ہے اور وہ چاہتی ہیں کہ دنیا کا ایک ایک بچہ اسکول جائے۔

اپنے والد کے بارے میں بتاتے ہوئے وہ کہتی ہیں کہ وہ والد کی شكرگذار ہیں کہ انہوں نے خواب دیکھنے اور پرواز کرنے کی آزادی دی اور ان کے پر کاٹنے کی کوشش نہیں کی۔

اسی بارے میں