’پاکستان امن کا داعی ہے، اجارہ داری قبول نہیں کرے گا‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption وفاقی وزیر داخلہ کا کہنا ہے کہ پاکستان اور بھارت دونوں ایٹمی قوتیں ہیں اور اس لیے یہ صلاحیت حاصل کرنے کے بعد دونوں ممالک پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ کسی بھی ملک پر جنگ کرنے سے پرہیز کریں

پاکستان نے کہا ہے کہ وہ امن کا داعی ہے اور کسی طور پر بھی خطے میں کسی کی بھی اجارہ داری اور تھانے داری قبول نہیں کرے گا۔

جمعے کے روز وزیر اعظم میاں نواز شریف کی سربراہی میں ہونے والے قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کا کہنا تھا کہ پاکستانی مسلح افواج بھارت کی طرف سے کسی بھی قسم کی جارحیت کا بھرپور جواب دینے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔

اُنھوں نے کہا کہ بھارت کسی طور پر بھی فوجی طاقت کے ذریعے خطے میں اجارہ اداری قائم نہیں کر سکتا۔

چوہدری نثار نے لائن آف کنٹرول اور ورکنگ باؤنڈری پر ہونے والے فائرنگ کے واقعات کو ایک حکمتِ عملی قرار دیتے ہوئے کہا کہ بھارتی فوج پاکستانی فوج پر کسی طور پر اپنی برتری ثابت نہیں کر سکتی اس لیے بھارتی قیادت ورکنگ باؤنڈری اور پھر افغانستان سے مختلف کارروائیاں کر کے پاکستانی حکومت کو دباؤ میں لانے کی ناکام کوشش کر رہی ہے۔

وفاقی وزیر داخلہ کا کہنا ہے کہ پاکستان اور بھارت دونوں ایٹمی قوتیں ہیں اور اس لیے یہ صلاحیت حاصل کرنے کے بعد دونوں ممالک پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ جنگ کرنے سے پرہیز کریں۔

اُنھوں نے کہا کہ خارجہ امور سے متعلق وزیر اعظم کے مشیر اقوام متحدہ کے سیکرٹر ی جنرل کو خط لکھیں گے جس میں بھارتی فوج کی طرف سے ایل او سی اور ورکنگ باؤنڈری پر ہونے والے فائرنگ کے واقعات سے آگاہ کیا جائے گا، اس کے علاوہ اقوام متحدہ کے پانچ مستقل ممبران کے ملکوں میں خصوصی ایلچی بھیجے جائیں گے۔

اُنھوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کے فوجی مبصرین فائرنگ کے واقعات کی جانچ پڑتال کر کے حقائق معلوم کریں کہ بھارتی فوج کی طرف سے ورکنگ باؤنڈری پر بلا اشتعال فائرنگ کیوں کی جارہی ہے۔

وفاقی وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ بھارتی قیادت نے پاکستانی ہائی کمشنر کی کشمیری قیادت کے ساتھ ملاقات کو جواز بنا کر سیکریٹری سطح کے مذاکرات ملتوی کر دیے، حالانکہ اس سے پہلے بھی جب دونوں ملکوں کے درمیان کسی بھی معاملے پر پیش رفت ہوتی تھی تو کشمیری قیادت کو بھی اس بارے میں آگاہ کیا جاتا تھا۔

ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کچھ سیاست دانوں کو تنقید کا نشانہ بنایا جو بھارتی فوج کی جانب سے ہونے والی فائرنگ پر سیاست کر رہے ہیں۔

چوہدری نثار علی خان کا کہنا تھا کہ پاکستانی حکومت اقوام متحدہ کے فوجی مبصرین کو ورکنگ باونڈری اور ایل او سی پر لے جانے کے لیے تیار ہے جبکہ بھارتی حکومت کی طرف سے ان مبصرین کو سرحدوں تک رسائی دینے میں ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کیا جا رہا ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ ورکنگ باونڈری پر بھارتی فوج کی طرف سے جو ہتھیار استعمال کیے گئے ہیں وہ روایتی قسم کے ہتھیار نہیں ہیں۔

قومی سلامتی کی کمیٹی کے اجلاس کے بعد جاری ہونے والی اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ بھارت کی طرف سے ہونے والی فائرنگ کے واقعات سے نہ صرف دونوں ملکوں بلکہ عالمی برادری نے بھی مایوسی کا اظہار کیا ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ پاکستانی افواج ملکی سلامتی اور سرحدوں کی حفاظت کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے۔

اس اعلامیے میں مزید کہا گیا ہے کہ پاکستان امن کا خواہاں ہے اور پاکستان کی امن کی خواہش کو کمزوری نہ سمجھا جائے۔

اس اعلامیے میں مزید کہا گیا ہے کہ دونوں ممالک سنہ 2003 میں ہونے والے جنگ بندی کے معاہدے کی پاسداری کریں اور ایک دوسرے پر الزام تراشی سے بھی پرہیز کریں۔

اجلاس میں تینوں مسلح افواج کے سربراہوں کے علاوہ ، ڈی جی آئی ایس آئی، سیکرٹری داخلہ اور سیکرٹری دفاع سمیت اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔

اسی بارے میں