اور ملالہ جیت گئی

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption 17 سالہ ملالہ یوسفزئی نوبیل امن انعام حاصل کرنے والی کم عمر ترین شخصیت ہیں

ملالہ یوسفزئی اور ان کے خاندان سے پہلی ملاقات اس وقت ہوئی جب وہ کوئین الزبتھ ہسپتال برمنگھم سے علاج کے بعد فارغ ہوئی تھیں اور ڈاکٹروں نے انہیں کسی پرفضا مقام پر جانے کا مشورہ دیا تھا۔

ملالہ ابھی پوری طرح صحتیاب نہیں ہوئی تھیں اور اُن کے چہرے کا ایک حصہ مکمل طور پر سُن تھا۔

ملالہ سارا دن میرے سوالوں کے جواب ایسے حوصلے سے دیتی رہیں جیسے انہیں کچھ ہوا ہی نہیں اور ان کے ہر جواب کا اختتام اس بات پر ہوتا کہ انھوں نے پاکستان جا کر ایک کامیاب سیاستدان بننا ہے۔

گذشتہ سال جب انھیں نوبل امن انعام کے لیے نامزد کیا گیا تو پورا خاندان اس پر خوش تھا مگر انعام حاصل نہ کرنے پر مایوس نہیں ہوئے۔

جب پوچھا کہ مایوسی نہیں ہوئی تو جواب دیا کہ ابھی بہت وقت ہے ایک نہ ایک دن ضرور جیتوں گی۔

سینیچر کو نوبیل انعام حاصل کرنے کی خبر سنتے ہیں میرے ذہن میں کیمبرج کی ملاقات یاد آگئی اور میں دل ہی دل میں مسکرایا کہ آخر ملالہ جیت ہی گئی۔

برمنگھم لائبریری میں میڈیا کے نمائندوں کی ایک بڑی تعداد ملالہ کو سننے کی منتظر تھی اور خوش قسمتی سے میری نشست ملالہ کے والد اور اُن کے خاندان کے ساتھ ہی تھی۔

ملالہ کی آمد کی اطلاع اچانک کیمروں کے فیلش کی آواز سے ملی اور اس سے قبل ہی ان کے والد اور والدہ کو مبارکباد دی۔

جب اُن کے والدہ سے اُن کے تاثرات پوچھے تو ان کی آنکھوں میں آنسو آگئے اور انھوں نے ہاتھ اٹھا کر شکر ادا کیا کہ آج ان کی بیٹی نے پورے پاکستان کا نام روشن کیا ہے۔

قریب ہی بیٹھے ضیاءالدین یوسفزئی نے مسکرا کر کہا کہ: ’میرے لیے یہ ایک بہت بڑا اعزاز ہے کہ میری بیٹی نے پاکستان کے لیے تاریخ رقم کی ہے۔‘

تقریب میں موجود برطانیہ میں پاکستانی ہائی کمشنر ابن عباس نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ملالہ کو نوبیل پیس پرائز ملنا پوری پاکستانی قوم کے لیے ایک اعزاز ہے اور وہ تقریب میں پاکستانی صدر ممنون حسین اور وزیراعظم نوازشریف کی نمائندگی کرتے ہوئے دنیا کو یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ پاکستان دنیا اور خطے میں قیام امن کے لیے کوشاں ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سال 2014 کا نوبیل امن انعام ملالہ یوسفزئی کو بھارت کے کیلاش ستيارتھي کے ساتھ مشترکہ طور پر دیا گیا ہے

بھارت کے کیلاش ستيارتھي کے ساتھ مشترکہ طور پر امن کا نوبیل انعام جیتنے والی پاکستان کی ملالہ یوسفزئی نے اپنی تقریر میں خواہش ظاہر کی کہ جب ان دونوں افراد کو ایوارڈ ملے تو بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی اور پاکستان کے وزیر اعظم نواز شریف اس پروگرام میں موجود ہوں۔

اس سوال پر کہ کیا پاکستانی وزیر اعظم نواز شریف، ملالہ یوسفزئی کی درخواست پر غور کریں گے؟ پاکستانی ہائی کمشنر کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم نوازشریف قیام امن کے لیے کوشاں ہیں اور وہ یقینًا ملالہ کی درخواست پر مثبت غور کریں گے۔

اسی بارے میں