’بلوچستان میں مذہبی شدت پسندی کے لیے جگہ پیدا کی جارہی ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption ’ناراض عناصر کے ساتھ مذاکرات میں پیش رفت نہ ہونے پر لوگوں میں مایوسی پائی جاتی ہے۔ لوگوں کو لاپتہ کرنے کا عمل حقوق انسانی کی ایک سنگین خلاف ورزی ہے‘

ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان نے بلوچستان میں مذہبی شدت پسندی میں اضافے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایک منصوبہ بندی کے تحت مذہبی شدت پسندی کے لیے جگہ پیدا کی جارہی ہے۔

اس تشویش کا اظہار ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کی چیئرپرسن زہرہ یوسف نے اتوار کو کوئٹہ میں ایک پریس کانفرنس کے دوران کیا۔

انہوں نے بتایا کہ کمیشن کے ایک فیکٹ فائنڈنگ مشن نے بلوچستان کی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے کوئٹہ اور تربت کا دورہ کیا۔

اس دورے کے دوران مشن کے اراکین نے زندگی کے مختلف طبقات سے تعلق رکھنے والے لوگوں سے ملاقاتیں کیں۔

’جمہوری اقدار کے حوالے سے سابق حکومت کے مقابلے میں بلوچستان کی موجودہ حکومت کے دور میں ایک مثبت تبدیلی محسوس کی گئی۔ تاہم موجودہ حکومت سے جوبہت ساری توقعات تھیں ان میں سے ابھی تک بہت ساری پوری نہیں ہوئیں۔‘

ان کاکہنا تھا کہ ناراض عناصر کے ساتھ مذاکرات میں پیش رفت نہ ہونے پر لوگوں میں مایوسی پائی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ لوگوں کو لاپتہ کرنے کا عمل حقوق انسانی کی ایک سنگین خلاف ورزی ہے۔

اس دورے کے دوران مشن کے اراکین کو یہ بتایا گیا کہ ان واقعات میں اگرچہ بلوچستان کے بعض علاقوں میں کمی آئی ہے تاہم بعض علاقوں میں اضافہ بھی ہوا ہے۔

زہرہ یوسف کا کہنا تھاکہ ’مکران ڈویژن سے جو رپورٹس آ رہی ہیں وہ تشویشناک ہیں۔ وہاں پر اب بھی لوگوں کو لاپتہ کیا جارہا ہے اور لوگوں کی تشدد زدہ اور مسخ شدہ نعشیں برآمد ہورہی ہیں۔‘

انہوں نے دعویٰ کیا کہ بلوچستان میں ایک منصوبے کے تحت مذہبی شدت پسندی کے لیے جگہ پیدا کی جارہی ہے۔

ان کا کہنا تھا صوبے میں مذہبی شدت پسندی بڑھ رہی ہے اور کالعدم مذہبی جماعتوں کو موقع دینے کی کوشش کی جارہی ہے تاکہ کہ وہ یہاں پر اپنی جڑیں قائم کرسکیں اور فرقے کی بنیادپر لوگوں کو ٹارگٹ کرنے کا سلسلہ جاری رکھ سکیں۔‘

انہوں نے کہا ’بلوچستان کے حوالے سے یہ ایک تشویشناک بات ہے۔ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ ایک منصوبے کے تحت مذہبی شدت پسندی کے حامل گروہوں کے لیے جگہ پیدا کی جارہی ہے ۔ ان کو موقع فراہم کیا جارہا ہے تاکہ جو سیکولر اور نیشنلسٹ فورسز ہیں ان کو کاؤنٹر کیا جاسکے۔‘

خضدار کے علاقے توتک میں اجتماعی قبروں سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ ہیومن رائٹس کمیشن اس سلسلے میں عدالتی کمیشن کی رپورٹ سے کسی طور بھی مطمئن نہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ’اس رپورٹ میں نہ اس بات کی نشاندہی کی گئی ہے کہ کون ذمہ دار ہے اورنہ یہ بتایا گیا کہ وہاں سے کتنی نعشیں برآمد ہوئی ہیں پاکستان میں جو عدالتی کمیشنز کا نظام رہا ہے وہ اسی طرح کے رپورٹس دیتی رہتی ہیں وہ یہ نہیں بتاتی ہیں کہ کون ذمہ دار ہے۔‘

زہرہ یوسف نے کہا کہ ہندو کمیونٹی کے لوگوں نے بڑی تعداد میں نقل مکانی کی ہے اسکے علاوہ ہزارہ کمیونٹی کے لوگ بھی بڑی تعداد میں کراچی اور بیرون ملک آسٹریلیاوغیرہ گئے ہیں۔

اس موقع پر ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان بلوچستان چیپٹر کے سربراہ سردار طاہرحسین ایڈوکیٹ نے بتایا کہ کمیشن کے پاس گزشتہ پانچ سال کے دوران لوگوں کی نقل مکانی کے بارے میں جو ڈیٹا ہے اس کے مطابق ان میں ایک لاکھ آباد کار، دولاکھ ہزارہ اور اہل تشیع سے تعلق رکھنے والے لوگ اور دس ہزار ہندو کمیونٹی کے لوگ شامل ہیں۔

زہرہ یوسف نے کہا کہ ہماری شروع سے یہ تجویز رہی ہے کہ بلوچستان میں سیکورٹی کے امور فوج اور ایف سی سے لے کر سویلین اداروں کے سپرد کی جائیں لیکن اس پر بھی عمل نہیں ہوا۔

انہوں نے کہا کہ سکیورٹی کے جو ایشوز ہیں ان میں صوبائی حکومت کا رول محدود ہے باالخصوص جو شورش سے متاثرہ علاقے ہیں وہ ایف سی کے کنٹرول میں ہیں۔

اس سوال پر کہ کیا کہ بلوچستان کے بارے میں سکیورٹی اسٹیبلشمنٹ کے مائینڈ سیٹ میں کوئی تبدیلی آئی ہے تو ان کا کہنا تھا کہ ’کوئی تبدیلی نہیں آئی‘۔

دوسری جانب صوبائی وزیر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ وہ اس الزام کو سختی سے مسترد کرتے ہیں کہ بلوچستان میں ایک منصوبے کے تحت مذہبی شدت پسندی کے لیئے جگہ پیدا کی جارہی ہے۔

بی بی سی بات چیت کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ وہ اس بات سے اتفاق نہیں کرتے کہ بلوچستان میں قوم پرستوں کو کمزور کیا جا رہا ہے یہاں تو ان کی حکومت ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’ہم یہ نہیں کہتے ہیں کہ بلوچستان میں آئیڈیل صورتحال ہے لیکن ہم یہ کہتے ہیں کہ ہماری کوششوں کے نتیجے میں پہلے کے مقابلے حالات میں بہتری آئی ہے‘۔

اسی بارے میں