چشم دید گواہوں کی زہرہ شاہد کے قاتلوں کی شناخت

تصویر کے کاپی رائٹ epa
Image caption ایڈیشنل آئی جی سندھ غلام قادر تھیبو نے راشد عرف ماسٹر کی گرفتاری کے وقت دعویٰ کیا تھا کہ یہ واقعہ ڈکیتی یا لوٹ مار کا نتیجہ نہیں بلکہ سیاسی بنیادوں پر ٹارگٹ کلنگ تھی

پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں تحریک انصاف کی رہنما زہرہ شاہد کے قتل کے الزام میں گرفتار دو ملزمان کی چشم دید گواہوں نے شاخت کرلی ہے۔

راشد عرف ماسٹر اور زاہد عباس زیدی جڈشیل مجسٹریٹ جنوبی ممتاز سولنگی کی عدالت میں پیش کیے گئے، عدالت میں ملزمان کے ساتھ غیر متعلقہ افراد کو بھی لایا گیا جن میں سے دو چشم دید گواہوں نے راشد اور زاہد عباس کی شناخت کر لی۔

راشد عرف ماسٹر کو درخشاں پولیس نے غیر قانونی اسلحہ رکھنے کے الزام میں گرفتار کیا تھا۔ پولیس کے مطابق دوران تفتیش ملزم نے زہرہ شاہد کے قتل میں ملوث ہونے کا انکشاف کیا تھا، بعد میں راشد عرف ماسٹر کی نشاندھی پر زاہد عباس کو گرفتار کیا گیا۔

تحریک انصاف کی رہنما زہرہ شاہد کو گذشتہ سال مئی میں کراچی کے علاقے ڈیفنس میں گھر کے قریب فائرنگ کر کے ہلاک کردیا گیا تھا، جس پر تحریک انصاف کی جانب سے کئی روز تک احتجاج جاری رہا تھا۔

ایڈیشنل آئی جی سندھ غلام قادر تھیبو نے راشد عرف ماسٹر کی گرفتاری کے وقت دعویٰ کیا تھا کہ یہ واقعہ ڈکیتی یا لوٹ مار کا نتیجہ نہیں بلکہ سیاسی بنیادوں پر ٹارگٹ کلنگ تھی جبکہ ڈی آئی جی عبدالخالق شیخ کا دعویٰ تھا کہ ملزم راشد ماسٹر کا تعلق ایک سیاسی جماعت سے ہے، جس کی پیدائش حیدرآباد کی ہے لیکن بعد میں اس کا خاندان کراچی منتقل ہوگیا۔

اسی بارے میں