مہمند ایجنسی میں حملے میں امن کمیٹی کا رضاکار ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption وزیرستان آپریشن کے بعد قبائلی علاقوں اور خیبر پختونخوا کے مختلف شہروں میں ہدف بنا کر ہلاک کرنے اور سکیورٹی اہلکاروں پر حملوں میں اضافہ ہوا ہے

پاکستان کے قبائلی علاقے مہمند ایجنسی اور خیبر پختونخوا کے ضلع ہنگو میں تشدد کے دو الگ الگ واقعات میں امن کمیٹی کا ایک رضا کار اور دو شدت پسند ہلاک ہو گئے ہیں۔

مہمند ایجنسی کی تحصیل صافی میں گندارو کے مقام پر امن کمیٹی کی چوکی پر نامعلوم افراد نے حملہ کیا جس میں مقامی اہلکاروں نے کے مطابق امن کمیٹی کے ایک رضا کار خان گل ہلاک ہو گئے۔

یہ واقعہ منگل کو رات گئے پیش آیا۔ مقامی لوگوں نے بتایا کہ علاقے میں امن کمیٹی اور سکیورٹی فورسز کی متعدد چوکیاں ہیں۔ امن کمیٹیوں کی یہ چوکیاں عام طور پر علاقے کے بڑے عمائدین کی رہائش گاہوں کے ساتھ واقع ہوتی ہیں جہاں ان رضا کاروں کی ڈیوٹیاں لگائی جاتی ہیں۔

شمالی وزیرستان میں جاری فوجی آپریشن ضرب عضب کے بعد مہمند ایجنسی میں تشدد کا یہ 24 واں واقعہ بتایا جاتا ہے۔ ان واقعات میں امن کمیٹی کے رضاکاروں، انسداد پولیو ٹیم کے رضاکاروں اور دیگر سرکاری عہدیداروں پر حملے کیے گئے ہیں جبکہ ایسے واقعات بھی پیش آئے ہیں جن میں شدت پسندوں کی لاشیں ملی ہیں۔

ادھر خیبر پختونخوا کے ضلع ہنگو میں دوآبہ کے قریب سکیورٹی فورسز کے سرچ آپریشن کے دوران نامعلوم افراد نے اہلکاروں پر حملہ کیا ہے۔ سرکاری ذرائع نے بتایا کہ سکیورٹی فورسز کی جوابی کارروائی میں دو شدت پسند ہلاک ہو گئے۔ ان شدت پسندوں کا تعلق کالعدم تنظیم سے بتایا جاتا ہے۔

ذرائع نے بتایا کہ سکیورٹی اہلکار تورہ واڑی کے علاقے جدید بانڈہ میں سرچ آپریشن کر رہے تھے۔ یہ سرچ آپریشن اس خفیہ اطلاع پر کیا گیا تھا کہ اس علاقے میں کچھ شدت پسند روپوش ہیں۔

ایسی اطلاعات ہیں کہ ہلاک ہونے والے شدت پسندوں کے پاس خود کش جیکٹیں، دستی بم اور دیگر اسلحہ بھی تھا جو فورسز نے اپنے قبضے میں لے لیا ہے۔

وزیرستان آپریشن کے بعد قبائلی علاقوں اور خیبر پختونخوا کے مختلف شہروں میں ہدف بنا کر ہلاک کرنے اور سکیورٹی اہلکاروں پر حملوں میں اضافہ ہوا ہے۔

اسی بارے میں