بلاول کو طویل سفر کا سامنا

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption کراچی جلسۂ عام میں بلاول بھٹو اپنے مستقبل کے لائحہ عمل کا اعلان کریں گے

کراچی کے علاقے محمود آباد میں واقع ریلوے گراؤنڈ میں سکول کی چھت پر دریاں بچھی ہیں جہاں سو سے زائد کارکن موجود ہیں جو قیادت کے احکامات سننے آئے ہیں جبکہ قیادت انھیں پرانےگلے شکوے بھول جانے کا مشورہ دے رہی ہے۔

پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت کارکنوں اور ہمدروں کو ایک بار پھر بھٹو خاندان کی قربانیاں یاد دلا رہی ہے اور انھیں زیادہ سے زیادہ تعداد میں کراچی پہنچنے کی اپیل کی گئی ہے۔

کراچی میں سنیچر کو پاکستان پیپلز پارٹی نے جلسۂ عام منعقد کرنے کا اعلان کیا ہے جس میں بلاول بھٹو اپنے مستقبل کے لائحہ عمل کا اعلان کریں گے۔

پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو کے ذریعے اپنی پرانی ساکھ اور مقام حاصل کرنے کی خواہشمند ہے۔

چار مرتبہ اقتدار میں آنے والی پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت اب بھی سمجھتی ہے کہ پارٹی کا بنیادی نعرہ روٹی، کپڑا اور مکان آج بھی مقبول ہے۔

پیلز پارٹی کی رہنما اور سابق سفیر شیری رحمان کہتی ہیں کہ بلاول اس نعرے کو آگے بڑھائیں گے۔

’ہم اشرافیہ کے سامنے نہیں بلکہ عوام کے سامنے جوابدہ ہیں جو غربت کی چکی میں پس رہے ہیں، ہمیں تو سب سے پہلے ان کے لیے سوچنا پڑتا ہے اس لیے ہمارا یہ نعرہ رہا ہے اور رہے گا۔‘

بینظیر بھٹو کے قتل کے تیسرے روز بلاول بھٹو کو پیپلز پارٹی کا چیئرمین بناکر بھٹو کا نام جوڑ دیا گیا تا کہ بھٹو خاندان کا سیاسی ورثہ اور لوگوں کی ہمدردیاں برقرار رکھی جاسکیں۔

شیری رحمان کے مطابق بلاول بھٹو پاکستان پیپلز پارٹی کی بنیادی اقدار کو آگے لیکر چلیں گے لیکن بھٹو خاندان کی طرح ان کی انفرادی سوچ بھی ہے۔

پاکستان کی آبادی کی اکثریت نوجوانوں پر مشتمل ہے جو دہشت گردی، لوڈشیڈنگ، بیروزگاری، تعلیم کی بدحالی اور بدانتظامی کا سامنا کر رہی ہے۔

ملک کی تمام سیاسی جماعتوں کا ہدف یہ نوجوان نسل ہے اور بلاول بھٹو بھی یہی ٹارگٹ لے کر سیاسی میدان میں اترے ہیں۔

کراچی یونیورسٹی کے ڈاکٹر جعفر احمد کہتے ہیں کہ لوگ یہ بھی دیکھیں گے کہ پیپلز پارٹی کو ماضی میں جب موقع ملا تو اس نے کیا ڈلیور کیا تھا۔

’پاکستان کے عوام کے لیے اب صرف ذوالفقار علی بھٹو اور بینظیر بھٹو کا نام لینا کافی نہیں ہوگا، پیپلز پارٹی کو اب انتخابات میں ہوم ورک کے ساتھ آنا پڑے گا، صرف سابق رہنماؤں کا ذکر کرنا کافی نہیں ہوگا کیونکہ ہم دیکھ رہے ہیں کہ عوام کا موڈ اس وقت کیا ہے، وہ آزمائی ہوئی قیادت سے ہٹ کر دوسرے لوگوں کی جانب دیکھ رہے ہیں کہ شاید وہ بہتر ڈلیور کرنے کی پوزیشن میں ہیں۔‘

سکیورٹی خدشات کے علاوہ گزشتہ حکومت کی خراب کارکردگی بھی بلاول بھٹو کا پیچھا کر رہی ہے جس سے پیچھا چھڑانے کے لیے وہ اپنے نانا اور والدہ کی جدوجہد اور قربانیوں کے حوالے دیتے ہیں۔

تجزیہ نگار منظور میرانی کہتے ہیں ’پنجاب اور خیبر پختونخواہ میں لوگوں کے پاس متبادل سیاسی جماعتیں ہیں اس لیے وہاں گورننس کی بات ہو رہی ہے لیکن سندھ میں لوگوں کے پاس پیپلز پارٹی کے علاوہ کوئی متبادل قیادت نہیں جسے وہ ووٹ دے سکیں‘۔

منظور میرانی کے مطابق پنجاب میں ترقی کی سیاست ہو رہی ہے۔ نواز شریف جب جلسہ کرتے ہیں تو ترقیاتی منصوبوں کا حوالہ دیتے ہیں اسی طرح پرویز الہی اپنی تقاریر میں اپنے دورِحکومت کے منصوبوں کا حوالہ دیتے ہیں۔

’عمران خان خیبر پختونخواہ کے حوالے دے رہے ہیں اس لیے وہاں کارکردگی کا مقابلہ ہے لیکن سندھ میں تو بدعنوانی کا مقابلہ رہا ہے، بلاول تقاریر میں صرف لوگوں کے جذبات سے کھیلتے ہیں گورننس کی کوئی بات نہیں کرتے۔‘

گزشتہ انتخابات میں پاکستان پیپلز پارٹی نے پنجاب میں تو اکثریت گنوائی لیکن کراچی میں بھی اس کی گرفت کمزور ہوئی اور اس کے پاس اس وقت لیاری سے قومی اسمبلی کی صرف ایک نشست ہے۔

تجزیہ نگار توصیف احمد کہتے ہیں کہ کراچی کی سیاست پر پاکستان پیپلز پارٹی کا بڑا اثر رہا ہے لیکن پچھلی حکومت میں اس کی کارکردگی اچھی نہیں رہے جس کی وجہ سے اسے ملیر کی نشست پر شکست ہوئی۔

ان کے مطابق بلاول بھٹو اپنی تقاریر میں اپنی جماعت کی جدوجہد کا حوالہ دیتے آئے ہیں لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ وہ پارٹی کے سربراہ تو ہیں تاہم ان کے ذاتی حصے میں کوئی جدوجہد نہیں۔

پیپلز پارٹی کے چیئرمین نے کم عمری میں ایک طویل اور انتہائی مشکل سیاسی سفر کا آغاز کر دیا ہے جس میں دیگر معاملات کے علاوہ وی آئی پی کلچر اور خاندانی سیاست سے بڑھتی نفرت ان کے لیے اضافی چیلنج ہوگا۔

اسی بارے میں