باجوڑ دھماکے میں دو سکیورٹی اہلکار ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption گذشتہ کچھ عرصہ سے باجوڑ اور مہمند ایجنسیوں میں سکیورٹی اہلکاروں، طالبان مخالف امن لشکروں اور پولیو کارکنوں پر حملوں میں بتدریج اضافہ دیکھا جا رہا ہے

پاکستان کے قبائلی علاقے باجوڑ ایجنسی میں حکام کے مطابق سکیورٹی فورسز کی گاڑی پر ہونے والے ریموٹ کنٹرول بم حملے میں دو سکیورٹی اہلکار ہلاک اور دو زخمی ہوگئے۔

پولیٹکل انتظامیہ باجوڑ کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ حملہ سنیچر کی صبح تقربناً نو بجے کے قریب ایجنسی کے دور افتادہ علاقے سلارزئی تحصیل میں ملا سید کے مقام پر ہوا۔

انھوں نے کہا کہ فرنٹیر کور کے اہلکار ایک پک اپ گاڑی میں پانی لے کر جا رہے تھے کہ ان کی گاڑی کو سڑک کے کنارے نصب ریموٹ کنٹرول بم سے نشانہ بنایا گیا۔

پولیٹکل انتظامیہ باجوڑ کے اہلکار مطابق حملے میں دو ایف سی اہلکار ہلاک اور دو زخمی ہوئے۔

انھوں نے کہا کہ واقعہ کی اطلاع ملتے ہی سکیورٹی فورسز کی نفری جائے وقوعہ پہنچ گئی اور علاقے کو گھیرے میں لے لیا۔

سرکاری اہلکار کے مطابق جائے وقوع کے اردگرد واقع مقامات سے چند مشتبہ افراد کو بھی حراست میں لیا گیا ہے جن سے تفتیش کی جا رہی ہے۔

گذشتہ کچھ عرصہ سے باجوڑ اور مہمند ایجنسیوں میں سکیورٹی اہلکاروں، طالبان مخالف امن لشکروں اور پولیو کارکنوں پر حملوں میں بتدریج اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

حالیہ چند ہفتوں کے دوران ایسے واقعات میں کئی افراد مارے جا چکے ہیں۔

مقامی صحافیوں کا کہنا ہے کہ شمالی وزیرستان میں جب سے آپریشن ضربِ عضب شروع کیا گیا ہے اس کے بعد سے ان دو ایجنسیوں میں تشدد کے واقعات میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

باجوڑ اور مہمند ایجنسیوں میں سکیورٹی فورسز کی جانب سے چند سال پہلے ہونے والی فوجی کارروائیوں کی وجہ سے بیشتر علاقوں سے شدت پسندوں کو نکال کر وہاں حکومت کی عملداری بحال کردی گئی تھی۔

تاہم ان کارروائیوں کے بعد دونوں ایجنسیوں میں سکیورٹی فورسز کے اہلکار بدستور حساس اور سرحدی علاقوں میں تعینات ہیں لیکن اس کے باوجود ان حملوں پر قابو نہیں پایا جاسکا ہے۔

اسی بارے میں