’پاکستان میں دو قوتیں ہیں، بھٹو ازم اور آمریت کے پجاری‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زردادری نے کہا ہے کہ پاکستان میں دراصل دو ہی سیاسی قوتیں ہیں، ایک بھٹو ازم اور دوسرے آمریت کے پجاری۔

سنیچر کو سانحۂ کار ساز کے شہدا کی یاد میں کراچی کے باغ جناح میں ایک بڑے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو زردادری کا کہنا تھا کہ قائداعظم نے ہمیں پاکستان کا تحفہ دیا تاہم انھیں زندگی نے موقع نہیں دیا کہ وہ ہمیں جمہوریت کا تحفہ دے سکتے، لیکن ذوالفقار علی بھٹو نے بابائے قوم کے خواب کو پورا کر دیا اور پاکستان کو سنہ 1973 کا آئین دیا۔‘

بلاول بٹھو کے خطاب کی تفصیلات موصول ہو رہی ہیں۔

باغ جناح میں پیپلز پارٹی کے کارکنوں کی بڑی تعداد موجود ہے اور جلسہ گاہ کے قرب و جوار میں سکیورٹی کے خصوصی اقدامات کیے گئے ہیں۔ سیاسی تبصرہ نگاروں کا کہنا ہے کہ پاکستان میں حالیہ عرصے میں ہونے والے مخلتف سیاسی جماعتوں کے جلسوں کے حوالے سے دیکھا جائے تو پیپلز پارٹی کے اس جلسے کا شمار بڑے اجتماعات میں کیا جا سکتا ہے۔

پارٹی کے شریک چیئرمین اور سابق صدر آصف علی زرداری بھی باغ جناح میں موجود ہیں۔

جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے سینیٹر رضا ربانی نے کہا کہ پیپلز پارٹی کسی حکومت کی ساتھی نہیں ہے بلکہ ملک میں جمہوریت کے لیے کوشاں رہے گی۔ انھوں نے کہا کہ ان کی جماعت میاں صاحب سے مزدوروں اور کسانوں کے حقوق کے لیے جنگ کرے گی۔

صوبہ سندھ کے وزیر اعلی اور پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنما سید قائم علی شاہ نے اپنے خطاب میں کہا کہ پیپلز پارٹی نوجوانوں کی جماعت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پی پی پی نے کبھی آمروں کے سامنے سر نہیں جھکایا۔

ان سے قبل اپوزیشن لیڈر سید خورشید شاہ نے جلسہ عام سے خطاب میں کہا کہ انقلاب دھرنوں سے نہیں آتا اس کے لیے قربانیاں دینی ہوتی ہیں۔ 'انقلاب کے لیے اپنی جانیں قربان کرنی پڑتی ہیں، انقلاب کے لیے تختہ دار پر چڑھنا پڑتا ہے۔‘ انھوں نے کہا کہ بھٹو نے انقلابی پرچم جمہوریت کے لیے اٹھایا تھا جو انھوں نے اپنی بیٹی کو دیا اور آج یہی انقلابی پرچم بلاول بھٹو نے اٹھا لیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

جلسے سے قبل سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں بلاول بھٹو نے لکھا: ’ خیبر سے کراچی عوام کی آواز کہہ رہی ہے، خوش آمدید بےنظیر، ہلچل بلاول ہلچل، الوداع الوداع سیاسی یتیم الوداع۔‘

پیپلز پارٹی کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ آج کے جلسے سے پارٹی کو ایک نئی طاقت ملے گی۔

مقامی میڈیا کے مطابق جلسہ گاہ میں داخلے کے لیے پانچ پوائنٹس بنائے گئے ہیں جس میں سے تین مردوں کے لیے، ایک خواتین کے لیے اور ایک وی آئی پیز کے لیے مخصوص کیا گیا ہے۔

مقامی میڈیا کے مطابق جلسے گاہ کے ارد گرد پورے علاقے کو کنٹینرز لگا کر سیل کر دیا گیا ہے اور سکیورٹی کے فُول پروف انتظامات کیے گئے ہیں۔ بم ڈسپوزل سکواڈ اور فائر بریگیڈ کی ٹیمیں کسی بھی نہ خوشگوار واقعے سے نمٹنے کے لیے موجود ہیں۔

پاکستان کے اکثر ٹیلی ویژن چینلز پر پیپلز پارٹی کا جلسہ براہ راست دکھایا جا رہا ہے۔

اس وقت باغ جناح کے سٹیج پر پیپلز پارٹی کے متعدد سینیئر رہنما موجود ہیں جن میں سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی اور راجہ پرویز اشرف بھی شامل ہیں۔

دوسری جانب سابق صدر آصف علی زرداری کی دونوں بیٹیاں جلسہ گاہ کی جانب جانے والے قافلوں کی تصاویر اور اپنے خیالات کا اظہار سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر مسلسل کر رہی ہیں۔

آصفہ زرداری نے اپنے پیغام میں لکھا ’میں بہترین کی امید اور بدترین کے لیے تیار ہوں، بے نظیر بھٹو شہید۔‘ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ آپ جیالےکا مقابلہ دوسری جماعتوں کے کارکنوں کے ساتھ نہیں کر سکتے۔

اس سے قبل جلسے کے منتظمین کا کہنا تھا کہ جلسے میں آنے والی تمام گاڑیاں جلسہ گاہ سے دو کلومیٹر کے فاصلے پر پارک کی جائیں گی اور تمام شرکا کو جلسہ گاہ میں پیدل چل کر آنا ہوگا جبکہ میڈیا کی تمام گاڑیاں نشتر پارک کی جانب پارک کی جائیں گی۔

تمام شرکا کو واک تھرو گیٹس سےگزرنا پڑے گا جبکہ جلسہ گاہ کی بیرونی سکیورٹی کے اختیارات پولیس اور رینجرز کو دیئے گئے ہیں جو کلوز سرکٹ کیمروں کی مدد سے نقل وحرکت کی نگرانی کریں گے۔

پورے علاقے کو کنٹینرز لگا کر سیل کر دیا گیا ہے۔ بم ڈسپوزل سکواڈ اور فائر بریگیڈ کی ٹیمیں کسی بھی نہ خوشگوار واقعے سے نمٹنے کے لیے موجود ہیں۔

آج سے سات سال قبل اسی دن پاکستان کی سابق وزیرِ اعظم بےنظیر بھٹو اور ان کے جلوس پر کراچی میں کارساز کے مقام پر حملہ کیاگیا تھا جس کے نتیجے میں 150 سے زائد کارکن جاں بحق اور متعدد زخمی ہو گئے تھے۔

18 اکتوبر سنہ 2007 کو بے نظیر بھٹو خود ساختہ جلاوطنی کے بعد پاکستان لوٹی تھیں اور کارساز کے مقام پر ان کے استقبالیہ جلوس کو شدت پسندوں نے نشانہ بنایا تھا۔

اسی بارے میں