پاکستان بھارت سرحد پر ایک بار پھر فائرنگ کا تبادلہ

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption لائن آف کنٹرول اور ورکنگ باؤنڈری پر دونوں ملکوں کی افواج کے درمیان فائرنگ کے واقعات میں دونوں جانب سے اب تک کم از کم 19 افراد ہلاک اور 50 کے قریب زخمی ہوچکے ہیں

پاکستان اور بھارت کی ورکنگ باؤنڈری پر واقع بجوات اور پکھلیاں سیکٹرز میں اتوار کی صبح ایک مرتبہ پر بھارتی سکیورٹی فورسز اور چناب رینجرز کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا ہے تاہم کسی قسم کے جانے نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔

پاکستانی فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ یعنی آئی ایس پی آر کے مطابق چناب رینجرز نے بھارتی فائرنگ کا بھرپور جواب دیا جس کے بعد فائرنگ کا سلسلہ تھم گیا۔

آئی ایس پی آر کے مطابق اتوار کی صبح ہونے والے فائرنگ کے تبادلے میں بھاری ہتھیاروں کا بھی استعمال کیا گیا۔

’بھارت کو کنٹرول لائن پر بلا اشتعال فائرنگ سے روکا جائے‘

سنیچر کو بھارتی میڈیا میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ پاکستان نے لائن آف کنٹرول پر بی ایس ایف کی چوکی پر موجود جوانوں کو بلااشتعال فائرنگ کا نشانہ بنایا، لیکن کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

خیال رہے کہ لائن آف کنٹرول اور ورکنگ باؤنڈری پر دونوں ملکوں کی افواج کے درمیان فائرنگ کے واقعات میں دونوں جانب سے اب تک کم از کم 19 افراد ہلاک اور 50 کے قریب زخمی ہوچکے ہیں۔

ہلاک ہونے والے 12 افراد کا تعلق پاکستان سے ہے۔

پاکستان اور بھارت ماضی میں بھی ایک دوسرے پر لائن آف کنٹرول اور ورکنگ باؤنڈری پر فائر بندی کی خلاف ورزی کا الزام عائد کرتے رہے ہیں۔

دونوں ممالک کے درمیان سنہ 2003ء میں جنگ بندی کا معاہدہ ہوا تھا، لیکن گذشتہ کچھ عرصے سے اس معاہدے کی خلاف ورزی کے باعث پاکستان اور بھارت کے فوجیوں کے ساتھ ساتھ سرحد پر عام آبادی بھی نشانہ بنی ہے۔

پاکستان نے اقوامِ متحدہ پر زور دیا ہے کہ وہ کشمیر کے بارے میں اپنی قراردادوں پر عملدرآمد کرائے اور بھارت کو کنٹرول لائن اور ورکنگ باونڈری پر بلااشتعال فائرنگ سے روکے۔

پاکستانی وزیر اعظم کے مشیر برائے امور خارجہ اور قومی سلامتی سرتاج عزیز نے اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون سے ٹیلی فون پر تبادلہ خیال کیا۔

سرتاج عزیز نے اقوام متحدہ پر زور دیا کہ وہ دونوں ملکوں کے درمیان معاملات معمول پر لانے کے لیے موثر کردار ادا کرے۔

اسی بارے میں