عدلیہ کی توہین پر اے آرواے نیوز کا لائسنس معطل

پاکستان میں میڈیا کے نگراں ادارے پیمرا نے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی اور عدلیہ کو بدنام کرنے کے الزام میں نجی ٹی وی چینل اے آر واے نیوز کا لائسنس 15 روز کے لیے معطل کر دیا ہے۔

پیمرا سے موصول ہونے والے تحریری بیان کے مطابق اسلام آباد میں ادارے کے ہیڈ کواٹر میں منعقد ہونے والے اجلاس میں اے آر وائی نیوز کا لائسنس فوری طور پر معطل کرنے کا فیصلہ کیا گیاہے جبکہ ادارے کو 1 کڑور روپے جرمانہ بھی ادا کرنا ہوگا۔

بیان کے مطابق 17 نومبر کو لاہور ہائی کورٹ نےاز خود نوٹس کیس کی سماعت کے دوران اے آر واے نیوز کے پروگرام ’کھرا سچ ‘ کو پروگرام بند کرنے اور میزبان مبشر لقمان پر پابندی عائد کرنے کا حکم دیا تھا۔

پیمرا کا کہنا ہے کہ 22، 23، اور 24 ستمبر کو پروگرام ’کھرا سچ‘ میں پیمرا کے ضابطہ احلاق کی خلاف ورزی کی گئی۔

ادارے کا مزید کہنا ہے کہ اے آر وائی ماضی میں بھی پیمرا اصولوں کی حلاف ورزی کرتا رہا ہے اور اس بار شو کاز نوٹس کا جواب بھی نہیں دیا گیا اور نہ ہی چینل کے سربراہ سماعت پر پیش ہوئے۔

پیمرا قانون کے سیکشن 32 کے تحت ادارے کو 15 دن کے اندر اندر 1 کڑور روپےجرمانہ ادا کرنے کا حکم بھی دیا گیا ہے بصورت دیگر لائسنس معطل ہی رہے گا۔

دوسری جانب اے آر وائی کے سربراہ سلمان جاوید نے بی بی سی کے پروگرام سیربین میں میزبان شفی نقی جامعی سے گفتگو میں چینل کی بندش کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس فیصلے کے حلاف لڑیں گے۔

انھوں نے بتایا کہ ابھی تک انھیں چینل کی بندش کے بارے میں آگاہ نہیں کیا گیا اور نہ ہی وہ اپنی معمول کی نشریات بند کریں گے۔

سلمان اقبال نے پیر کی سہ پہر معنقد ہونے والے پیمرا کے اجلاس کے حوالے سے کہا کہ ون پوائنٹ ایجنڈا تھا اجلاس کا کہ کسی طرح اے آر واے کا لائسنس معطل کیا جائے۔‘

انھوں نے کہا کہ اینکر پرسن مبشر لقمان پر تو پہلے ہی پابندی عائد کی جا چکی ہے۔

’الزام عائد کیا اور بات سنے بغیر سزا دی گئی ہے، اگر سچ بولنے پر ٹی وی چینل بند کریں تو پھر تو سب بند ہو جائیں گے، نشریات معطل نہیں کریں گے ، جیسے ہیں ویسے ہی رہیں گے۔‘

یاد رہے کہ20 مئی 2014 کو پیمرا کے پانچ اعزازی ارکان پر مشتمل کمیٹی نے ایک اجلاس میں پاکستان کے خفیہ ادارے آئی ایس آئی کے سربراہ پر جیو کی جانب سے الزام عائد کرنے پر جیو نیوز، جیو انٹرٹینمنٹ اور جیو تیز کے لائسنس معطل کرنے اور اُن کے دفاتر بند کرنے کا متفقہ فیصلہ سُنایا تھا۔

اسی بارے میں