سرحدی نگرانی کو فعال بنایا جائے، پاکستان اور ایران کا اتفاق

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پاکستان نے ایران کی سرحدی فوج پر اپنے علاقے میں مداخلت کا الزام عاید کیا ہے۔

فرنٹیئر کور بلوچستان کے مطابق پاکستان اور ایران کی سرحدی فورسز کے حکام نے سرحد پر نگرانی کو فعال بنانے اور باہمی تعاون پر زور دیا ہے۔ فرنٹیئر کور بلوچستان نے اپنے بیان میں بتایا ہے کہ انسپکٹرجنرل فرنٹیئرکور بلوچستان میجرجنرل محمد اعجاز شاہد اور ایرانی بارڈر پولیس، چیف جنرل قاسم رضائی کے درمیان ایران کے دارالحکومت تہران میں بدھ کو ایک ملاقات ہوئی ۔

پاکستانی اور ایرانی بارڈر سیکیورٹی حکام کی تہران میں ہونے والی اس ملاقات میں دونوں کمانڈروں نے پاک ایران سرحد پررونما ہونے والے حالیہ واقعات کا تفصیلی جائزہ لیا ۔

انھوں نے دونوں ممالک کی فورسزکے درمیان مصدقہ حقائق پرمبنی اطلاعات اور انٹیلی جنس کے تبادلے پربھی غور کیا ۔ دونوں کمانڈروں نے پاک ایران بارڈر کی نگرانی کو فعال بنانے اور باہمی تعاون پر زور دیا۔

بیان کے مطابق انسپیکٹر جنرل فرنٹیئر کور میجر جنرل محمد اعجاز شاہد نے کہا ہے کہ خطے میں پائیدار امن کیلئے دونوں ممالک کی فورسز کا تعاون ناگزیر ہے۔

انھوں نے کہا کہ جہاں پا کستان ہر قسم کی دہشت گر دی، مسلح جارحیت اور شدت پسندی کی سختی سے مذمت کر تا ہے وہیں ہمسایہ ممالک کے ساتھ بہترتعلقات کا خواہاں ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ضرورت اس امر کی ہے کہ دونوں ممالک کی سکیورٹی فورسز ’جوائنٹ میکانیزم‘ مشترکہ طریقہ کار کے تحت پاک ایران سرحدکی بہتر طور پر نگرانی کیلئے ٹھوس اقدامات اُٹھائیں ۔

واضح رہے کہ چند روز بیشتر ایران کی سکیورٹی فورسز کی بلوچستان کے ضلع کیچ میں پاکستان کی سرحد کے اندر کارروائی میں فرنٹیئر کور کا ایک صوبیدار ہلاک اور تین اہلکار زخمی ہوئے تھے۔

فرنٹیئر کور نے یہ الزام عائد کیا تھا کہ ایف سی کے اہلکار ایران کی سرحدی فورس کے اہلکاروں کی بلا اشتعال فائرنگ سے ہلاک اور زخمی ہوئے تھے ۔

ایف سی نے یہ بھی الزام عائد کیا تھا کہ ایرانی فورسز کے 30 اہلکار سرحدی حدود کی خلاف ورزی کرکے ایک اور سرحدی ضلع چاغی میں داخل ہوئے تھے۔

اسی بارے میں