شکست و ریخت اور دھڑے بندی

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption تحریک طالبان پاکستان ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے

کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان میں اندرونی اختلافات اور بعض تنظیموں کی طرف سے عراق اور شام میں سرگرم دولت اسلامیہ کے ساتھ شمولیت کے اعلان سے پاکستان میں شدت پسندی کا نقشہ تیزی سے تبدیل ہوتا جارہا ہے۔

ان نئی صف بندیوں سے بظاہر ایسا لگتا ہے کہ عسکری تنظیموں کی حکمت عملی بھی تبدیل ہو رہی ہے۔

گذشتہ سال نومبر کے مہینے میں حکیم اللہ محسود کی ہلاکت کے ساتھ ہی تحریک طالبان پاکستان میں اختلافات شدت اختیار کر گئے تھے۔ تاہم تنظیم کو اس وقت شدید دھچکا لگا جب محسود طالبان نے ٹی ٹی پی سے علیحدگی کا اعلان کر دیا۔

حالیہ دنوں میں تنظیم ایک مرتبہ پھر سے مزید ٹوٹ پھوٹ کا شکار نظر آ رہی ہے۔ مولانا فضل اللہ کے قریبی اتحادی سمجھنے جانے والے مہمند ایجنسی کے عسکریت پسند کمانڈر عمر خالد خراسانی گروپ اور چند دیگر منحرف کمانڈروں نے ٹی ٹی پی کو خیر باد کہہ کر جماعت الحرار کے نام سے نئی تنظیم کی بنیاد ڈال دی ہے۔

ٹی ٹی پی کے سابق ترجمان شاہد اللہ شاہد اور کچھ دیگر اہم کمانڈروں نے بھی کچھ دن پہلے دولت اسلامیہ کے امیر المومنین ابوبکر البغدادی پر بیعت کرنے کا اعلان کیا ہے جس سے تحریک طالبان مزید تقسیم در تقسیم کا شکار دکھائی دیتی ہے۔

نئے اتحادوں سے طالبان میں اب کئی دھڑے بن چکے ہیں جبکہ ان دھڑوں کی حکمت عملی بھی تبدیل ہوتی جا رہی ہے۔

پشاور میں شدت پسندی پر تحقیق کرنے والے سینئیر تجزیہ نگار اور مصنف ڈاکٹر خادم حسین کا کہنا ہے کہ ٹی ٹی پی میں اندرونی اختلافات اور آپریشن ضرب عضب کے باعث اس تنظیم کا کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم مکمل طور پر ٹوٹ چکا ہے جس سے تنظیم کافی حد تک کمزور ہو چکی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

انھوں نے کہا کہ کئی اہم کمانڈروں کے جانے کے بعد اس تنظیم کو نظریاتی طورپر بڑا نقصان پہنچا ہے اور اس سے یقینی طورپر نئی بھرتیوں پر بھی اثر پڑا ہوگا۔ ڈاکٹر خادم حسین کے مطابق عالمی سطح پر شدت پسندوں کے نئے اتحاد بن جانے سے پاکستان میں بھی شدت پسندوں کی حکمت عملی تبدیل ہو رہی ہے۔

انھوں نے مزید کہا کہ شام اور عراق میں دولت اسلامیہ کی مقبولیت کے باعث اس خطے سے کچھ حد تک شدت پسندوں کی توجہ ہٹ رہی ہے اور اب وہ ہندوستان، افغانستان اور ایران کی طرف دیکھ رہے ہیں۔

شمالی وزیرستان میں آپریشن ضرب کے شروع ہونے کے بعد سے ملک میں دہشت گردی کے بڑے واقعات میں کسی حد تک کمی دیکھی جارہی ہے، تاہم شمالی وزیرستان ، فاٹا اور خیبر پختونخوا میں بدستور سکیورٹی فورسز اور طالبان مخالف لشکروں پر حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔

اس آپریشن کی وجہ سے شدت پسندوں کا اب ملک کے کسی علاقے میں کوئی مستقل ٹھکانہ نہیں رہا یعنی وہ یا تو بدستور بھاگ رہے ہیں یا اپنے لیے کسی مستقل مسکن کی تلاش میں ہیں۔

بعض تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ آپریشن ضرب عضب، شدت پسندوں میں تقسیم در تقسیم اور دولت اسلامیہ کے ظہور سے پاکستان سے کسی حد تک عسکری تنظیموں کی توجہ ہٹ رہی ہے۔ اس طرح کی اطلاعات بھی ہیں کہ پاکستان سے پہلے بھی شدت پسند عراق اور دیگر ممالک جاتے رہے ہیں جبکہ دولت اسلامیہ کی طرف سے اسلامی خلافت کے اعلان سے اب ان عسکریت پسندوں کےلیے مشرق وسطیٰ کی طرف جانے کے امکانات بھی روش ہو رہے ہیں۔

شدت پسندی پر نظر رکھنے والے شعبۂ صحافت پشاور یونیورسٹی کے اسسٹنٹ پروفیسر اور امریکہ میں پی ایچ ڈی کے سکالر سید عرفان اشرف کا کہنا ہے کہ پاکستان میں طالبان کی قیادت دولت اسلامی سے الحاق کے معاملے پر تقسیم ہوگئی ہے جس سے ان کا زور ٹوٹ رہا ہے۔

انھوں نے کہا کہ شدت پسندوں میں حالیہ دھڑا بندی سے فی الحال ملک میں حملوں کے خطرات پہلے کے مقابلے میں تو کم ہوگئے ہیں تاہم اس کا یہ ہرگز مطلب نہیں کہ طالبان ختم ہوگئے ہیں۔

پروفیسر عرفان کے مطابق عسکری تنظیموں میں شامل جرائم پیشہ گروہ بدستور سکیورٹی اداروں کےلیے درد سر بنے ہوئے ہیں اور وہ پشاور، کراچی اور دیگر علاقوں میں کارروائیاں کر رہے ہیں۔

قبائلی علاقوں میں گذشتہ چھ سات سالوں سے جاری فوجی کارروائیوں کی وجہ سے بیشتر ایجنسیوں سے شدت پسندوں کا صفایا کر دیا گیا ہے یعنی اب ایسا کوئی علاقہ نہیں رہا جہاں عسکریت پسند مستقل طور پر رہائش پذیر ہوں۔

تاہم اس تاثر کو بھی رد نہیں کیا جا سکتا کہ فاٹا سے زیادہ اب شہری علاقوں میں خطرہ موجود ہے جہاں شدت پسند آزادانہ طور پر گھوم پھر نہیں سکتے لیکن اکا دکا کارروائیاں کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

بظاہر ایسا لگتا ہے کہ آنے والے وقتوں میں ملک کے اندر دہشت گردی کے بڑے بڑے واقعات میں کمی کے امکانات ہیں۔

اسی بارے میں