’تیس سال کی غلطیاں بھی ہیں‘

Image caption بلوچستان کے وزیر اعلی متوسط طبقے سے تعلق رکھتے ہیں

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے وزیر اعلیٰ ڈاکٹر مالک بلوچ نے کہا ہے کہ ’صوبے میں بدامنی کی وجوہات میں گزشتہ تیس سال کے دوران ہماری غلط پالیسیاں بھی شامل ہیں۔‘

ان خیالات کا اظہار انھوں نے اتوار کو کوئٹہ میں بلوچی زبان کے ممتاز شاعر میر گل خان نصیر مرحوم کے حوالے سے ایک تقریب کے موقع پر میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ بلوچستان میں بدامنی کی وجوہات کیا ہیں تو ان کا کہنا تھاکہ ’اس کی بہت سی وجوہات ہیں ۔30 سال میں جو ہماری غلط پالیسیاں رہی ہیں اس کی وجہ سے یہاں بدامنی ہوئی ہے۔‘

وزیر اعلیٰ نے کہا کہ کہ محرم الحرام میں کوئٹہ میں ہمارے لیے ویسے بھی کافی مشکلات ہوتی ہیں ۔ لیکن ہم نے اپنی تیاری مکمل کی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان کے تمام علاقوں میں خواہ وہ مچھ ہو یا کوئٹہ ہو ہماری کوشش ہے کہ محرم الحرام پر امن طریقے سے گزرے۔

انھوں نے کہا کہ انہیں یہ معلوم نہیں کہ کوئٹہ میں جو سی سی ٹی وی لگے ہیں وہ خراب ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ نے کوئٹہ کی سکیورٹی کے حوالے سے جو منصوبہ انھوں نے بنایا تھا بدقستی سے اس پر عملد آرمد نہیں ہوسکا۔

وزیر اعلیٰ نے کہا کہ اب حکومت نے کوئٹہ کو محفوظ بنانے کے منصوبے پر عملدر آمد کے لیے پروجیکٹ ڈائریکٹر مقرر کیے ہیں۔

ان کا کہنا تھا حکومت کی یہ کوشش ہے کہ کوئٹہ کے داخلی اور خارجی راستوں کو محفوظ بنایا جائے اور ان کو ’ہائی ٹیک‘ یا جدید ٹیکنالوجی کی طرف لے جایا جائے کیونکہ اب ’مینوئل‘ روایتی طریقے سے انسان کی بس کی بات نہیں ہے کوئٹہ کو محفوظ بنایا جاسکے۔

جب ایک صحافی نے ان سے پوچھا کہ کیا داعش بلوچستان میں پنجے گاڑ رہی ہے تو وزیر اعلیٰ کا کہنا تھا کہ ’میرے پاس ایسی رپورٹس نہیں ہے کہ اس نے کتنے پنجے گاڑھے ہیں لیکن یہاں اس سوچ کے لوگ موجود ہیں جو انتہا پسندی کے ساتھ اور زبردستی اپنے ایجنڈے کو لوگوں پرتھوپنا چاہتے ہیں۔‘

اسی بارے میں