بلوچستان میں فوج کے زیراہتمام پولیس کی تربیت

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption بلوچستان دہشت گردی سے متاثرہ علاقوں میں سرفہرست ہے

پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں امن وامان کی بہتری کے لیے فوج کے زیر اہتمام تربیت پانے والے پولیس اہلکاروں کے چوتھے دستے کی پاسنگ آؤٹ پریڈ کوئٹہ میں ہوئی۔

فوج سے تربیت حاصل کرنے والے چوتھے دستے میں دو سو اہلکا ر شامل تھے، پاسنگ آؤٹ پریڈ کی تقریب پیر کوئٹہ چھاؤنی میں منعقد ہوئی جس کے مہمانِ خصوصی وزیر اعلیٰ ڈاکٹر مالک بلوچ تھے۔

وزیر اعلیٰ نے اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پولیس کی کارکردگی بہتر ہوئی ہے جس کے نتیجے میں امن وامان کی صورتحال میں بہتری آئی ہے۔ وزیر اعلیٰ کا کہنا تھا کہ’ پہلے پولیس اہلکار تربیت کے لیے جانے کے لیے تیار نہیں تھے لیکن اب ہماری اور فوج کی کوششوں کی وجہ سے نہ صرف پولیس اہلکار تربیت کے لیے جارہے ہیں بلکہ لیویز فورس کے اہلکار بھی جارہے ہیں۔‘

وزیر اعلیٰ نے تربیت دینے پر فوج کا شکریہ ادا کرتے ہوئے پولیس اہلکاروں پر زور دیا کہ فوج نے انہیں جو پیشہ ورانہ تربیت دی ہے وہ اس معیار کو بر قرار رکھیں ۔ فوج کی جنوبی کمان کے کمانڈر جنرل ناصر خان جنجوعہ بھی اس تقریب میں شریک تھے ۔

کوئٹہ شہر میں گزشتہ چند دنوں کے دوران رونما ہونے والے شدت پسندی کے واقعات کا تذکرہ کرتے ہوئے جنرل ناصر خان جنجوعہ نے کہا کہ آپریشن ضرب عضب کے باعث وزیرستان سے بعض عناصر یہاں آ رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان کے لوگوں کو مل کر دہشت گردی کو ناکام بنانا ہے۔

انھوں نے کہا کہ بعض عناصر دین کے نام کو جبکہ بعض لوگ قوم پرستی کے نام کو غلط استعمال کر رہے ہیں۔

جنرل ناصر جنجوعہ نے بتایا کہ کوئٹہ شہر میں حالات کی بہتری کے لیے موٹرسائیکل بردار پولیس فورس بھی قائم کی جارہی ہے۔

اسی بارے میں