کراچی: تین تشدد شدہ لاشیں برآمد

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption پولیس کو شبہ ہے کہ تینوں مقتولین کو اغوا کر کے لایا گیا اور بعد میں گولیاں مارکر ہلاک کر دیا گیا

پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں پولیس نے تین تشدد شدہ لاشیں برآمد کی ہیں جن کو گولیاں مار کر ہلاک کیا گیا تھا۔

ایس ایس پی سٹی شیراز کلہوڑو نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ یہ لاشیں موچکو تھانے کی حدود میں عبداللہ گوٹھ کے قریب ویران علاقے سےملی ہیں۔

ان کے مطابق جس جگہ سے لاشیں ملی ہیں اس کے تین کلومیٹر تک کوئی آبادی نہیں ہے۔

پولیس کو شبہ ہے کہ تینوں مقتولین کو اغوا کرکے لایا گیا اور بعد میں گولیاں مار کر ہلاک کیا گیا۔

دو مقتولین کی جیبوں سے نجیب اللہ محسود اور عبدالرحمان مری کے نام کی پرچیاں نکلی ہیں تاہم ایس ایس پی شیراز کہلوڑو کا کہنا ہے کہ پرچیوں سے ان کی شناخت نہیں کی جا سکتی کیونکہ ان کے شناختی کارڈ برآمد نہیں ہوئے۔

خیال رہے کہ اس سے پہلے بھی موچکو اور ملیر کے علاقوں سے تشدد شدہ لاشیں ملتی رہی ہیں، جن کی شناخت ورثا ایدھی سردخانے پہنچ کر کرتے ہیں۔

ماضی میں بعض مقتولین کے ورثا یہ بھی الزام عائد کرتے رہے ہیں کہ ان کے نوجوانوں کو حراست میں لے کر لاپتہ کر دیا گیا تھا۔

رواں سال جنوری میں سپر ہائی وے جانے والی سڑک سے چار افراد کی لاشیں ملی تھیں، جن میں سے دو کی شناخت شربت خان اور کفایت خان کے نام سے ہوئی اور ان کا تعلق وزیرستان سے تھا۔ دونوں کے لواحقین نے الزام عائد کیا تھا کہ انھیں نیو سبزی منڈی سے نامعلوم افراد اپنے ساتھ لے گئے تھے۔

اسی طرح 15 فروری کو میمن گوٹھ کے علاقے ڈلموٹی سے دو نامعلوم افراد کی لاشیں ملی تھیں جنھیں گولیاں مار کر ویرانے میں پھینک دیا گیا تھا۔ 19 مارچ کو بھی اسی نوعیت کا ایک واقعہ جام گوٹھ کے قریب پیش آیا تھا جہاں سے ایک شخص کی لاش ملی تھی۔

تین اپریل کو سپر ہائی وے جانے والی سڑک پر ایک زیرِ تعمیر عمارت کے قریب سے 25 سے 30 سال کی عمر کے دو نوجوانوں کی تشدد شدہ لاشیں ملی تھیں۔

اسی بارے میں