سندھ اسمبلی میں شدید ہنگامہ آرائی

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption شرجیل انعام میمن کی تقریر پر متحدہ قومی ممومنٹ کے اراکین نے احتجاج کیا اور ایوان شیم شیم اور نعروں سے گونج اٹھا

سندھ اسمبلی میں حکمران پیپلز پارٹی اور متحدہ قومی موومنٹ کے اراکین کے درمیان پیر کو سخت تلخ کلامی کے بعد ایوان نعروں اور شور و غل سے گونج اٹھا۔

گذشتہ روز متحدہ قومی موومنٹ نے پیپلز پارٹی کے رہنما سید خورشید شاہ کے بیان کے خلاف یوم سیاہ منایا تھا۔

صوبائی وزیرِ بلدیات شرجیل انعام میمن نے وقفۂ سوالات کے دوران کہا کہ سب کو معلوم ہے کہ کس طرح بلدیاتی نظام کو خراب کیا گیا، اضافی بھرتیاں کی گئیں کسی کی قابلیت، سرٹیفیکٹ اور ڈگریاں نہیں دیکھی گئیں۔

ان کیا کہنا تھا کہ جب سے کراچی میں ٹارگٹڈ آپریشن شروع ہوا ہے انھیں دہشتگردوں کی جو فہرستیں ملی ہیں ان میں کئی کراچی میونسپل کارپوریشن کے ملازم ہیں۔

’ کن کن دہشت گردوں کا نام لوں، میاں نواز شریف کے دور میں ایک آپریشن شروع ہوا تھا اس میں آپ نے ایک نام سنا ہوگا ’فاروق دادا‘ وہ ایم ڈی واٹر بورڈ کا ڈرائیور تھا۔‘

شرجیل انعام میمن کی تقریر پر متحدہ قومی ممومنٹ کے اراکین نے احتجاج کیا اور ایوان شیم شیم اور نعروں سے گونج اٹھا۔

ایم کیو ایم کے رکنِ اسمبلی خواجہ اظہار الحق نے کہا کہ اگر فلور پر متحدہ کے ماورائے عدالت قتل کیے گئے ساتھیوں کا نام لیا جائے گا تو میں سارے نام لوں گا۔

شرجیل میمن نے ان سے مخاطب ہوکر کہا کہ اگر آپ سوال کرتے ہیں تو جواب سسننے کا بھی حوصلہ رکھیں ، خواجہ اظہار الحق کا کہنا تھا کہا کہ سچ ان کے پاس بھی ہے۔

اسی تلخ کلامی کے دوران آذان ہوگئی اور سپیکر دونوں فریقین کو نشستوں پر بیٹھنے کی ہدایت کرتے رہے بالاخر سپیکر نے کہا کہ اگر وہ ہاؤس نہیں چلانا چاہ رہے تو انھیں بتایا جائے تاکہ وہ چلے جائیں جس کے بعد صورتِ حال معمول پر آئی۔

خیال رہے کہ متحدہ قومی موومنٹ سندھ میں مزید انتظامی یونٹس کا مطالبہ کر رہی ہے۔

کراچی میں بلاول بھٹو کے جلسے کی تیاریوں کے موقع پر پیپلز پارٹی کے رہنما اور قائد حزبِ اختلاف سید خورشید شاہ نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ عرب سے آئے ہیں اور سندھی ہیں۔

’ہم اپنا گھر چھوڑ کر آئے ہیں، مہاجر لفظ میرے لیے گالی ہے، مہاجر وہ ہوتے ہیں جس کا گھر نہیں ہوتا اور جو کیمپوں میں ہوتے ہیں، میں اپیل کرتا ہوں کہ خدارا اپنے آپ کو مہاجر مت کہو۔‘

متحدہ قومی موومنٹ نے خورشید شاہ کے اس بیان پر شدید ردِ عمل کا اظہار کیا اور سندھ حکومت سے علیحدگی اختیار کرتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ قرآن میں بھی مہاجرین کا ذکر کیا گیا ہے۔

دوسری جانب پیپلز پارٹی کے سینیٹر اعتزاز احسن نے پیر کو ایک پریس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ انھیں ایم کیو ایم کے سربراہ الطاف حسین سے یہ توقع نہیں تھی کہ وہ مذہب کو اپنے مخصوص سیاسی عزائم کے لیے استعمال کریں گے۔

’اگر آپ صوبے بنانا چاہتے ہیں تو آپ اس کی بات کریں ان معاملات کو درمیان میں لانے کی کیا ضرورت ہے؟‘۔

اعتزاز احسن کے مطابق جب خورشید شاہ نے وضاحت بھی کردی اب اس کو مذہبی انتہا پسندی کا رنگ دینا درست نہیں ہے کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ یہ سنگین معاملہ ہے ہم نے دیکھا کہ پاکستان میں جانیں ضائع ہوئی ہیں۔

اسی بارے میں