’دھرنوں سے ملک سیاسی عدم استحکام کا شکار ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اصل مسئلہ سیاسی عدم استحکام ہے جس کی ذمہ داری ان جماعتوں پر عائد ہوتی ہے جو دھرنے دیے بیٹھی ہیں: نواز شریف

پاکستان کے وزیرِاعظم نواز شریف نے عمران خان سے احتجاجی سیاست ترک کر کے ملکی اقتصادی ترقی میں کردار ادا کرنے کی اپیل کی ہے۔

انھوں نے یہ اپیل پیر کو اسلام آباد میں منعقد ہونے والی سرمایہ کاروں کی کانفرنس کے افتتاح کے موقعے پر کی۔

جب نواز شریف اس کانفرنس سے خطاب کر کے باہر نکلے تو سرمایہ کاروں اور صحافیوں نے بھی ان سے سکیورٹی کے حالات کے بارے میں سوالات کیے۔

وزیرِ اعظم کا کہنا تھا کہ سکیورٹی معاملات کا حل تو فوج کے ذریعے شمالی وزیرستان میں آپریشن کے ذریعے نکالا جا رہا ہے لیکن ملک کا اصل مسئلہ ’عمران خان کا دھرنا ہے جس کی وجہ سے ملک سیاسی عدم استحکام کا شکار ہے۔‘

انھوں نے کہا: ’پاکستان کے بارے میں دنیا بھر میں مثبت تاثر پیدا ہوا تھا جسے اس سیاسی احتجاج نے خراب کرنے کی کوشش کی ہے۔ اس میں ملوث لوگ خدارا ایسا کرنے سے بعض آجائیں اور ملک کو آگے بڑھنے دیں۔‘

وزیراعظم سے پوچھا گیا کہ ملک میں امن و امان کی خراب صورت حال میں سرمایہ کار پاکستان آنے سے ہچکچاتے ہیں۔

نواز شریف نے جواباً کہا کہ امن عامہ کی بہتری کے اقدامات بھی ہم کر رہے ہیں لیکن اصل مسئلہ سیاسی عدم استحکام ہے جس کی ذمہ داری ان جماعتوں پر عائد ہوتی ہے جو دھرنے دیے بیٹھی ہیں۔

اسلام میں سرمایہ کاری بورڈ کے زیرِ اہتمام ہونے والی اس دو روزہ کانفرنس میں ڈھائی سو غیر ملکی مندوبین سمیت 350 سرمایہ کار شریک تھے۔

کانفرنس کا مقصد ملک میں غیر ملکی سرمایہ کاری کو فروغ دینا ہے جس کے بارے میں سرکاری اعداد و شمار کہتے ہیں کہ یہ اس سال ملکی تاریخ کی کم ترین سطح پر ہے۔

اس دو روزہ کانفرنس کے دوران معیشت کے مختلف شعبوں کو مختلف سیشنز کے دوران سرمایہ کاروں کے سامنے پیش کیا جا رہا ہے۔

پیر کو توانائی کے شعبے کے بارے میں تفصیلی بحث کی گئی۔

حکومت نے اس شعبے کو معیشت کے ایک ایسے شعبے کے طور پر پیش کیا جو مکمل طور پر تباہی کا نقشہ پیش کر رہا ہے۔

پانی و بجلی کے لیے وزیرِ اعظم کے معاون خصوصی مصدق ملک نے کانفرنس میں شامل تین سو سے زائد سرمایہ کاروں سے خطاب کرتےہوئے کہا کہ اس شعبے میں سرمایہ کاری کے لیے اس سے زیادہ اچھا موقع نہیں مل سکتا۔

انھوں نے کہا: ’توانائی کی پیداوار کم ترین سطح پر ہے جبکہ اس کی طلب آسمان کو چھو رہی ہے، بجلی کی چوری اور دیگر نقصانات عروج پر ہیں، بجلی کی ترسیل کا نظام ناکارہ ہو چکا ہے اور بجلی کی پیدواری لاگت بھی بہت بڑھ چکی ہے۔‘

مصدق ملک نے کہا کہ یہی وہ وقت ہے جب سرمایہ کاروں کو اس شعبے میں سرمایہ کاری کرنی چاہیے۔

’قلیل اور طویل مدت کے منصوبے لگانے کا اس سے زیادہ اچھا موقع آپ کو دنیا میں کہیں اور نہیں مل سکتا جہاں ہم آپ سے پانچ ہزار میگاواٹ بجلی خریدنے کی تحریری ضمانت دینے کو تیار ہیں۔ دنیا میں کوئی ملک یہ ضمانت نہیں دے سکتا۔‘

سرمایہ کاری بورڈ کے سربراہ نے سرمایہ کاروں کو لبھانے کے لیے اعداد و شمار کے ذریعے پاکستان کو دنیا میں سب سے زیادہ نفع بخش ملک قرار دیا۔

انھوں نے کہا: ’پاکستان میں سرکاری طور پر طے شدہ شرحِ منافع 17 سے 20 فیصد ہے اور حکومت اس منافعے کو بیرون ملک منتقل کرنے سے نہیں روکتی بلکہ سٹیٹ بینک کے ذریعے ایسا کرنے کی ضمانت بھی فراہم کرتی ہے۔‘

اس کانفرنس میں امریکہ، یورپ اور مشرق وسطیٰ سمیت مختلف ملکوں کے سرمایہ کاری شریک ہیں جو پاکستان میں سرمایہ کاری کے مواقع اور قوانین کو کافی حد تک سمجھتے تھے تاہم پاکستان کی سکیورٹی اور ملکی سیاست کے حوالے سے یہ سرمایہ کار غیر یقینی کا شکار ہیں۔

وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے اپنے خطاب میں سرمایہ کاروں کو اعتماد میں لیتے ہوئے کہا کہ حکومت نے ملک سے دہشت گردی ختم کرنے کے لیے شدت پسندوں کا پیچھا کرنے کا فیصلہ کیا اور اسی نیت کے ساتھ شمالی وزیرستان میں فوجی کارروائی شروع کی گئی ہے:

’ہماری مسلح افواج نے تین ماہ قبل فوجی آپریشن شروع کیا جس کا مقصد ملک سے دہشت گردی کا خاتمہ ہے اور یہ کارروائی آخری دہشت گرد کے خاتمے تک جاری رہے گی۔‘

اسی بارے میں