استعفوں کی تصدیق کے لیے پی ٹی آئی کے اراکین آج طلب

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption نوٹس میں کہا گیا تھا کہ اگر 29 اکتوبر کی دوپہر دو بجے پی ٹی آئی کے اراکین سپیکر سے ملاقات کے لیے نہ پہنچے تو یہ سمجھا جائے گا کہ ’وہ اپنے استعفوں کی قانونی اور شفاف طریقے سے تصدیق کے خواہاں نہیں ہیں

پاکستان کی قومی اسمبلی کے سپیکر ایاز صادق نے پاکستان تحریک انصاف کے 33 میں سے 25 اراکین قومی اسمبلی کو ان کے استعفوں کی تصدیق کے لیے آج دوپہر اپنے چیمبر میں بلایا ہے۔

تحریک انصاف نے بائیس اگست کو اپنے ارکان قومی اسمبلی کے استعفے اجتماعی طور پر اسپیکر قومی اسمبلی کے دفتر میں جمع کرائے تھے مگر پارلیمانی ضابطوں کے تحت ان کی تصدیق کا عمل مکمل نہ ہونے کی وجہ سے وہ اب تک منظور نہیں ہوسکے ہیں جس کی وجہ سے سپیکر پر دباؤ بڑھ رہا ہے۔

سپیکر قومی اسمبلی نے جمعے کو تحریک انصاف کے مستعفی اراکین اسمبلی کو نوٹس بھیجا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ پارٹی کے رہنما شاہ محمود قریشی کے مطالبے کے مطابق پی ٹی آئی کے ارکان ایک ہی روز سپیکر کے پاس آ سکتے ہیں۔ تاہم ضابطے کے تحت انھیں استعفوں کی تصدیق کے لیے سپیکر سے الگ الگ ملاقات کرنی ہوگی۔

نوٹس میں کہا گیا تھا کہ اگر 29 اکتوبر کی دوپہر دو بجے پی ٹی آئی کے اراکین سپیکر سے ملاقات کے لیے نہ پہنچے تو یہ سمجھا جائے گا کہ ’وہ اپنے استعفوں کی قانونی اور شفاف طریقے سے تصدیق کے خواہاں نہیں ہیں ۔‘

نوٹس میں مزید کہا گیا تھا کہ ایسی صورتحال میں سپیکر اسمبلی قانونی طور پر اس حیثیت میں نہیں ہوں گے کہ وہ الیکشن کمیشن کو پی ٹی آئی کے اراکین اسمبلی کے مستعفی ہونے کی تصدیق کر سکیں۔

سپیکر نے اپنے نوٹس میں یہ بھی کہا تھا کہ 22 اگست کو پی ٹی آئی کے ممبر قومی اسمبلی شاہ محمود قریشی نے اپنی پارٹی کے دیگر ارکان قومی اسمبلی کے ہمراہ دستخط شدہ استعفے جمع کروائے اور تین ستمبر کو پارلیمینٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب بھی کیا لیکن سپیکر کی جانب سے استعفوں کی تصدیق کے لیے چیمبر میں ملاقات کے لیے بلانے کے باوجود تحریک انصاف کے اراکین ملے بغیر ہی اسمبلی سے روانہ ہوگئے۔

نوٹس میں کہا گیا تھا کہ سپیکر قومی اسمبلی کے لیے قواعد کے مطابق یہ ضروری ہے کہ وہ تصدیق کریں کہ کسی رکن نے استعفٰی دباؤ میں تو نہیں دیا۔

یاد رہے کہ 13 اکتوبر کو سپیکر نے عمران خان کو ان سے چیمبر میں آکر ملنے کا نوٹس بھجوایا تاہم اس کے جواب میں شاہ محمود قریشی نے پی ٹی آئی کے تمام اراکین کو اکھٹے ملاقات کے لیے بلوانے کی درخواست دی۔

یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ تحریک انصاف کے موجودہ قومی اسمبلی میں کل 34 ارکان تھے جو مخدوم جاوید ہاشمی کے استعفے کے بعد 33 رہ گئے جن میں سے تین نے پارٹی قیادت کے استعفے دینے کے فیصلے کو ماننے سے انکار کردیا۔

پانچ ارکان کی جانب سے پیش کیے گئے استعفوں کو درست نہیں مانا گیا کیونکہ ان میں سپیکر کے بجائے پارٹی کے قائد عمران خان کو مخاطب کیا گیا تھا اس لیے سپیکر قومی اسمبلی نے باقی ماندہ 25 ارکان کو آج اپنے چیمبر میں طلب کیا ہے۔

اسی بارے میں