’نیلوفر‘ کی آمد سے قبل بلوچستان اور سندھ میں ایمرجنسی نافذ

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption ماہی گیروں کو مزید دو روز (جمعرات اور جمعے) تک سمندر میں جانے سے خبردار کیا گیا

بحیرۂ عرب میں اٹھنے والے سمندری طوفان ’نیلوفر‘ کے پاکستان کی ساحلی علاقوں کے قریب پہنچنے سے پہلے کراچی سمیت صوبہ سندھ کے پانچ اضلاع اور بلوچستان کے ساحلی علاقوں میں ہنگامی حالت نافذ کر دی گئی ہے۔

پاکستان کے محکمۂ موسمیات کے مطابق طوفان اس وقت کراچی سے 800 کلومیٹر جبکہ گوادر سے 660 کلومیٹر کے فاصلے پر موجود ہے۔

’نیلوفر‘ سے نمٹنے کے لیے تیاریاں: تصاویر

حکام کا کہنا ہے کہ طوفان کی شدت میں جمعرات کو کمی آنے کا امکان ہے اور پاکستان کے ساحلی علاقوں سے ٹکرانے سے پہلے اس کی شدت 50 فیصد کم ہو جائے گی۔

سندھ کے وزیر اطلاعات شرجیل میمن نے بدھ کو ایک نیوز کانفرنس میں بتایا کہ کراچی، ٹھٹہ، سجاول، بدین اور تھرپارکر میں ہنگامی حالت کے نفاذ کے بعد جمعے کو تمام تعلیمی ادارے بند رہیں گے۔

انھوں نے مزید بتایا کہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے انتظامیہ اور دیگر متعلقہ اداروں کو الرٹ کردیا گیا ہے اور ہسپتالوں میں ایمرجنسی اور ساحلی علاقوں میں دفعہ 144 نافذ کر دی گئی ہے۔

شرجیل میمن نے کہا کہ عوام کو ساحلی علاقے میں جانے سے منع کیا گیا ہے اور ماہی گیروں سے بھی کہا ہے کہ وہ کھلے سمندر میں جانے سے گریز کریں۔ ’کراچی اور دیگر اضلاع کے لوگ ساحلِ سمندر میں گھومنے پھرنے اور تفریح کے لیے نہ جائیں، یہ آپ سے اپیل ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ممکنہ طوفان کے پیش نظر تمام قومی و صوبائی اراکین اسمبلی سے کہا گیا ہے کہ لوگوں کی محفوظ مقامات پر منتقلی کو یقینی بنائیں اور خود وہاں جائیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption کراچی میں سال دو ہزار سات میں سمندری طوفان کے نتیجے میں بارشوں سے ہزاروں افراد متاثر ہوئے تھے

سمندری طوفان کے پیش نظر محکمۂ داخلہ سندھ نے پہلے سے ہی متعلقہ حکام کو ہدایت دے رکھی ہے کہ ساحلی پٹی میں کچے مکانات میں رہنے والے لوگوں کو محفوط مقام پر منتقل کیا جائے اور اس کے علاوہ کراچی میں ساحل سمندر کے قریب موجود ہورڈنگز کو ہٹایا جا رہا ہے۔

پاکستان کے محکمۂ موسمیات کے مطابق سمندری طوفان’نیلوفر‘ سے کراچی کو براہ راست کوئی خطرہ نہیں ہے۔

محکمۂ موسمیات کے اعلیٰ اہلکار محمد حنیف نے بی بی سی کو بتایا کہ سمندری طوفان ’نیلوفر‘ کا رخ تبدیل ہونے کے بعد اب شمال مشرق یعنی بھارتی گجرات اور صوبہ سندھ کے ساحلی علاقوں کی جانب ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ جمعرات کو طوفان کی شدت میں کمی آنے کا امکان ہے اور ساحلی علاقوں سے ٹکرانے سے پہلے طوفان کی شدت 50 فیصد کم ہو جائے گی۔

محمد حنیف نے بتایا:’طوفان جمعے کی رات بھارتی گجرات کے ساحلی علاقوں سے ٹکرائے گا، کراچی کو اس سے براہ راست کوئی خطرہ نہیں لیکن کراچی اور صوبہ سندھ کے زیریں علاقے اس کے پھیلاؤ کے زیراثر آئیں گے۔‘

انھوں نے بتایا کہ جمعے کو ہی سندھ کے بعض زیریں علاقوں خصوصاً ٹھٹھہ، بدین اور تھرپارکر کے اضلاع میں شدید بارش ہو سکتی ہے۔

خیال رہے کہ تھرپارکر کا علاقہ اس وقت خشک سالی اور غذائی قلت کا شکار ہے اور یہ بارش اس علاقے کے لیے نعمت ثابت ہو سکتی ہے۔

محکمہ موسمیات کے مطابق ’سمندر پہلے ہی تلاطُم خیز ہو چکا ہے۔‘ محمد حنیف نے مزید بتایا کہ جمعرات اور جمعے کے روز سمندر میں لہریں مزید تیز ہوں گی اسی لیے ماہی گیروں کو مزید دو روز (جمعرات اور جمعے) تک سمندر میں جانے سے خبردار کیا گیا۔

سندھ کے علاوہ پاکستان کے صوبہ بلوچستان کی حکومت نے بھی سمندری طوفان کے پیش نظر صوبے کے ساحلی علاقوں میں ایمرجنسی نافذ کی ہے ۔

یہ بات بدھ کو کوئٹہ میں صوبے کے وزیر اعلیٰ ڈاکٹر عبد المالک بلوچ نے ایک پریس کانفرنس کے دوران بتائی۔

نامہ نگار محمد کاظم کے مطابق بلوچستان کی ساحلی پٹی کی لمبائی ایک ہزار کلومیٹر سے زائد ہے اور ساحلی علاقہ گوادر اور لسبیلہ کے اضلاع پر مشتمل ہے جن میں سے گوادر کے زیادہ متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔

ان ساحلی علاقوں میں تیز ہواؤں کے ساتھ ساتھ بارش کا بھی امکان ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption کراچی کے ساحل سمندر پر عوام کے جانے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے

حکام کے مطابق اس طوفان کے باعث ضلع گوادر کی چار تحصیلوں اورماڑہ، پسنی، گوادر اور جیوانی میں11 دیہات زیادہ متائثر ہوسکتے ہیں۔

وزیر اعلیٰ نے بتایا کہ ساحلی اضلاع کے ڈپٹی کمشنروں کو ہدایت کی گئی ہے کو ساحل کے قریب آبادیوں کو بچانے کے لیے ہرممکن اقدامات کرنے کے علاوہ ماہی گیروں کو سمندر میں جانے سے روکیں۔

جون 2010میں پیٹ نامی طوفان نے انتظامات نہ ہونے کی وجہ سے گوادر میں ماہی گیروں کی کشتیوں کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچایا تھا۔

دیگر حفاظتی اقدامات کے تحت ماہی گیروں کی کشتیوں کو محفوظ بنانے کے علاوہ سمندر کے قریب واقع دیہاتوں کو خالی کرانے کے ہدایات بھی جاری کی گئی ہیں۔

محکمہ ماہی گیری کے مطابق تمام فیلڈ افسران کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ماہی گیروں کو31 اکتوبر تک گہرے سمندر میں جانے سے روکیں ۔

بحیرۂ عرب میں سمندری طوفان اٹھتے رہتے ہیں جس سے بہت زیادہ نقصان ہوتا ہے۔ اس سے پہلے اگست سال 2007 میں سمندری طوفان کی وجہ سے ہونے والی طوفانی بارشوں سے کراچی بری طرح سے متاثر ہوا تھا۔

اسی بارے میں