انتظار کرتے رہ گئے، سپیکر نہیں آئے: شاہ محمود قریشی

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption اگر سپیکر نے استعفے منظؤر نہ کیے تو ااسمبلی میں نہیں جاییں گے،پی ٹی آئی

پاکستان تحریک انصاف کے اراکینِ قومی اسمبلی کے استعفوں کی تصدیق کا معاملہ ایک مرتبہ پھر لٹک گیا ہے۔

سپیکر قومی اسمبلی نے پی ٹی آئی کے مستعفی ہونے والے اراکین کو بدھ کی دوپہر طلب کیا تھا تاہم ان کی سپیکر سے ملاقات نہیں ہو سکی اور اس کی ذمہ داری پی ٹی آئی کے رہنما اور سپیکر قومی ایک دوسرے پر عائد کر رہے ہیں۔

پی ٹی آئی کے مستعفی اراکین حاضر ہوں، سپیکر کا نوٹس

بدھ کی شام سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے اسمبلی کے باہر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا وہ پی ٹی آئی کے اراکین کے استعفوں کی تصدیق کے لیے ساڑھے پانچ گھنٹے تک منتظر رہے تاہم درخواست کے باوجود پی ٹی آئی کے اراکین انفرادی طور پر ان کے سامنے پیش نہیں ہوئے۔

سپیکر قومی اسمبلی نے پی ٹی آئی کے اس بیان کو مسترد کیا کہ انھوں نے ملاقات کے لیے تحریک انصاف کے مستعفی اراکین کو وقت نہیں دیا۔

ان کا کہنا تھا کہ سپیکر کی ذمہ داری ہے کہ وہ استعفوں کی تصدیق کرے کہ وہ مرضی سے دیے گئے ہیں اور اصلی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ 25 اکتوبر کو شاہ محمود قریشی نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ یہ سپیکر اسمبلی پر منحصر ہے کہ وہ اراکین کو فرداً فرداً بلائیں یا اکھٹے بلائیں اور بیان سے مجھے امید ہوئی تھی۔

ایاز صادق نے کہا کہ ان کی ذمہ داری ہے کہ وہ تصدیق کریں کہ تمام اراکین نے مرضی سے استعفے دیے یا نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ تصدیق اکیلے میں ہو سکتی ہے ہجوم میں نہیں۔’میرے پاس ایک ہی راستہ ہے کہ الیکشن کمیشن کو خط لکھ کر اس واقعے سے آگاہ کر دوں کیونکہ اس علاوہ میرے پاس اور کوئی راستہ نہیں۔‘

تحریک انصاف کے اراکین کا موقف

اس سے قبل قومی اسمبلی کے باہر ہی میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے پی ٹی آئی کے رہنما شاہ محمود قریشی نے کہا کہ سپیکر کی ہدایات کے مطابق پی ٹی آئی کے اراکین اپنے استعفوں کی تصدیق کے لیے ان کے چیمبر میں مقررہ وقت پر پیش ہوئے تاہم انتظار کے باوجود سپیکر نے ملاقات کا وقت نہیں دیا۔

انھوں نے بتایا کہ پی ٹی آئی کے اراکین کو سپیکر قومی اسمبلی سے ملاقات کے لیے ڈھائی گھنٹے انتظار کروایا گیا: ’ڈپٹی سپیکر کے ذریعے سپیکر اسمبلی کو پیغام بھجوایا اور ہمیں انتظار کرنے کو کہا اور پھر جواب نہیں دیا گیا۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ڈپٹی سپیکر نےشام سوا چار بجے تک انتظار کرنے کو کہا تاہم بعد یہ بتایا گیا کہ سپیکر نماز پڑھ رہے ہیں۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ’انتظار کیا اور انتظار کرنے کے بعد ہم آگئے ہیں اور ڈپٹی سپیکر اور اسمبلی کے عملے کے سامنے سرکاری کیمرے پر فرداً فرداً تمام ممبران نے استعفوں کی تصدیق کر دی ہے۔‘

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اگر سپیکر چاہتے ہیں تو وہ فرداً فرداً تمام مستعفی اراکین سے استعفوں کی تصدیق کروا سکتے تھے۔

پارٹی کے موقف سے آگاہ کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی نے واضح کیا کہ اگر سپیکر نے استعفے مسترد کر دیے تو بھی پی ٹی آئی اسمبلی میں نہیں جائے گی۔

پی ٹی آئی کے رہنما نے میڈیا کو بتایا کہ ان کے ہمراہ 27 اراکین موجود ہیں اور پی ٹی آئی کے سربراہ عمران خان کی جگہ وہ خود آئے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ 34 منتخب اراکین میں سے چار نے پی ٹی آئی کا ساتھ چھوڑ دیا تھا جبکہ آج تین اراکین ہمارے ہمراہ موجود نہیں ہیں اور سپیکر اسمبلی انہیں بعد میں بلوا سکتے ہیں۔

یاد رہے کہ پاکستان کی قومی اسمبلی کے سپیکر ایاز صادق نے 24 اکتوبر کو پاکستان تحریک انصاف کے 33 میں سے 25 اراکین قومی اسمبلی کو ان کے استعفوں کی تصدیق کے نوٹس بھجوایا تھا۔

تحریک انصاف کے اراکیکن نے 23 اگست کو استعفے سیکریٹری قومی اسمبلی کے پاس جمع کرائے تھے تاہم بعد میں حکومت اور تحریک انصاف کی قیادت کے درمیان مذاکرات کی وجہ سے استعفوں کا معاملہ پس پردہ چلا گیا تاہم بات چیت میں ناکامی کے بعد استعفوں کا معاملہ دوبارہ شدت اختیار کر گیا اور اس کے بعد متعدد بار تحریک انصاف کے قیادت نے استعفے منظور کرانے کا اعلان کیا۔

اب بھی حزب اختلاف کی دیگر جماعتوں کا کہنا ہے کہ حکومت استعفے منظور نہ کرے بلکہ بات چیت کا عمل دوبارہ شروع کرے۔

اسی بارے میں