خیبر ایجنسی میں جھڑپ،’آٹھ فوجیوں سمیت 29 ہلاک‘

تصویر کے کاپی رائٹ PAF
Image caption وہ ٹائم فریم نہیں دے سکتے کہ شمالی وزیرستان اور خیبر ایجنسیوں میں آپریشن کب تک جاری رہے گا

پاکستان میں عسکری حکام کے مطابق قبائلی علاقے خیبر ایجنسی میں جاری آپریشن کے دوران ایک جھڑپ میں21 شدت پسند اور آٹھ فوجی ہلاک ہوگئے ہیں۔

فوج کے شعبۂ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کی جانب سے بدھ کی شب جاری کیے گئے بیان کے مطابق یہ ہلاکتیں خیبر ایحنسی میں جاری فوجی آپریشن ’خیبر ون‘ کے دوران ہوئی ہیں۔

آئی ایس پی آر کے مطابق سپن قمر کے مقام پر ہونے والی جھڑپ میں متعدد شدت پسند زخمی بھی ہوئے ہیں۔

بدھ کو ہی آئی ایس پر آر کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل عاصم باجوہ نے پشاور میں ایک اخباری کانفرنس میں کہا تھا کہ خیبر ایجنسی میں بھی آپریشن اس لیے شروع کیا گیا کیونکہ وزیرستان سے بھاگ جانے والے عسکریت پسند یہاں پناہ لے رہے تھے۔

انھوں نے کہا کہ خیبر ون کے وجہ سے پشاور اور آس پاس کے علاقوں میں شدت پسندوں کی کارروائیوں میں کافی حد تک کمی آ چکی ہے۔

انھوں نے آپریشن کے دوران خیبر ایجنسی میں 40 سے زائد شدت پسندوں کی ہلاکت کا دعویٰ کیا تھا اور یہ بھی کہا تھا کہ پشاور اور آس پاس کے علاقوں میں 100 سے زائد شدت پسندوں نے ہتھیار ڈال کر خود کو حکومت کے حوالے کیا ہے۔

انھوں نے کہا تھا کہ شمالی وزیرستان اور خیبر ایجنسیوں میں آپریشن اُس وقت تک جاری رہے گا جب تک دونوں علاقے مکمل طور پر صاف نہیں کیے جاتے۔

نامہ نگار رفعت اللہ اورکزئی کے مطابق پاکستانی فوج کے ترجمان نے کہا کہ قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں آپریشن ضرب عضب کی وجہ سے بھاگ جانے والے شدت پسندوں نے سرحد پار افغان علاقوں میں پناہ لی ہے جہاں سے پاکستان کے علاقوں پر حملے بھی کیے جا رہے ہیں۔

میجر جنرل عاصم باجوہ نے کہا کہ دہشت گردوں پر ہر طرف کڑی نظر رکھی جا رہی ہے اور ان کا خاتمہ کر کے رہیں گے۔

انھوں نے کہا کہ شمالی وزیرستان میں منصوبے کے مطابق آپریشن ضرب عضب کامیابی سے جاری ہے اور ایجنسی کے بیشتر مقامات عسکریت پسندوں سے صاف کیے جا چکے ہیں۔

فوج کے ترجمان نے مزید کہا کہ شمالی وزیرستان میں آپریشن شروع کرنے سے قبل افغان حکومت، نیٹو اور ایساف کو اعتماد میں لیا گیا تھا لیکن افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ افغان حکومت نے کوئی تعاون نہیں کیا۔

عاصم باجوہ نے کہا کہ آپریشن ضرب عضب کے دوران اب تک 1100 کے قریب دہشت گرد مارے جا چکے ہیں جبکہ

ترجمان کا کہنا تھا کہ ان کارروائیوں کے دوران 132 ٹن بارودی مواد اور ہزاروں کی تعداد میں ہتھیار اور دیگر جنگی سازوسامان برآمد کیا گیا ہے۔

ایک اور سوال کے جواب میں میجر جنرل عاصم باجوہ نے کہا کہ بھارت کی سرحد پر کشیدگی کے باوجود قبائلی علاقوں میں فوج کی تعداد میں کمی نہیں جائے گی۔

اسی بارے میں