وکٹوریہ کراس کا دیسی سپاہی

تصویر کے کاپی رائٹ UNKNOWN
Image caption اکتیس اکتوبر 1914 کے دن ہولی بیک کے مقام پر سپاہی خداداد خان کی رجمنٹ کی جرمنوں سے خونی مڈھ بھیڑ ہوگئی

پچھلے ایک سو اٹھاون برس سے دنیا بھر میں جانا مانا وکٹوریہ کراس ان لوگوں کے سینے پر سجتا ہے جنھوں نے دشمن سے کسی مڈھ بھیڑ، لڑائی اور جنگ کے بیچوں بیچ کوئی انہونا یا حیران کن جنگی کارنامہ کردکھایا ہو۔ یہ تمغہ اٹھارہ سو چھپن میں ملکہ وکٹوریہ کے حکم پر جاری ہوا اور اسے اٹھارہ سو چوّن میں کریمیا کی جنگ میں روس سے چھینی دو توپوں کی دھات سے تیار کیا جاتا ہے۔

آج تک وکٹوریہ کراس ایک ہزار تین سو باون سینوں پر لگا ہے۔ ان میں وہ گمنام امریکی سپاہی بھی شامل ہے جس کی قبر واشنگٹن کے آرلنگٹن قبرستان میں ہے۔ تین بہادر ایسے بھی ہیں جنہیں دو بار وکٹوریہ کراس مل چکا ہے۔ شروع کے چھپن برس میں یہ اعلیٰ ترین تمغہ برٹش آرمی کے گورے سپاہیوں کو ملتا تھا۔ مگر انیس سو بارہ میں بادشاہ جارج پنجم کے زمانے میں ہندوستان کے دیسی سپاہیوں کو بھی اس تمغے کے برابر بہادر سمجھنے کا خیال برطانوی راج کو آ ہی گیا۔

اٹھائیس جولائی 1914 کو جب پہلی عالمی جنگ کی پہلی توپ کا پہلا گولہ داغا گیا تو سلطنتِ برطانیہ کو اور کوئی پریشانی ہو گی تو ہوگی پر ہندوستان کی وفادار نوآبادی کے ہوتے ایسی کوئی گھبراہٹ نہ تھی کہ جنگجو رنگروٹوں کی کمی ہو گی بھلے یہ نام نہاد وار آف سویلائزیشن کتنا ہی طول پکڑ جائے۔

پنجاب بالخصوص پوٹھوہار کے علاقے میں ہر سرپنچ کی ڈیوٹی لگائی گئی کہ وہ بڑے سینے والے صحت مند لمبے چوڑے جوانوں کو تنخواہ، الاؤنس، راشن، چمکیلی وردی، دنیا بھر کی سیر، سال میں ایک مہینے کی چھٹی، گھر واپسی کا کرایہ اور سب سے بڑھ کے وطن کی خدمت کا جوش دلا کر فوج میں بھرتی پر تیار کرے۔جو سرپنچ جتنے جوان بھرتی کروائے گا سرکار اسے اتنا ہی محبوب رکھے گی۔ کچھ ہی عرصے میں چار لاکھ سے زائد دیسی فوجی یورپ بھیجنے کے لیے چوکس کردیے گئے۔ سپاہی خداداد خان بھی لاکھوں میں ایک تھے۔

سپاہی خداداد خان کی رجمنٹ ڈیوک آف کنوٹس اون بلوچ ان پہلی دیسی رجمنٹوں میں سے تھی جنہیں جنگ کے ابتدائی مہینوں ہی میں بحری جہازوں میں بھر بھر کے ہندوستان سے فرانس اور پھر بلجیئم کے فرنٹ تک پہنچایا گیا۔ اکتیس اکتوبر 1914 کے دن ہولی بیک کے مقام پر سپاہی خداداد خان کی رجمنٹ کی جرمنوں سے خونی مڈھ بھیڑ ہوگئی۔

نام تاریخ جگہ رجمنٹ
سپاہی خداداد خان 31 اکتوبر 1914 بیلجیئم 129 ڈیوک کنوٹ اون بلوچیز
نائیک دروین سنگھ 29 نومبر 1914 فرانس 39 گڑھوال رائفلز
رائفل مین گوبر سنگھ 10 مارچ 1915 فرانس 39 گڑھوال رائفلز
جمادار میر دست خان 26 اپریل 1915 بیلجیئم 55 کوکس رائفلز
رائفل مین گرکھا کلبیر تھپا 23 ستمبر 1915 فرانس ۔
سپاہی چٹھا سنگھ 13 جنوری 1916 میسوپوٹیمیا گڑھوال رائفلز
نائیک شاہ احمد خان 13 اپریل 1916 میسوپوٹیمیا 89 پنجاب
لانس نائیک لالا 21 جون 1916 میسوپوٹیمیا 41 ڈوگرا
لانس دفادار گوبند سنگھ یکم دسمبر 1917 فرانس گڑھوال رائفلز
رائفل مین گرکھا کرن بہادر رانا 10 اپریل 1918 مصر ۔
رسالدار بدلو سنگھ 23 ستمبر 1918 دریائے اردن 14 جٹ لانسرز

جس مورچے پر خداداد خان کی ڈیوٹی تھی اس پر ان کے پانچ اور ساتھی بھی تھے جو سب کے سب فرض پر قربان ہوگئے۔ سپاہی خداداد خان زخمی ہونے کے بعد بھی تب تک اکیلے ڈٹے رہے جب تک انہیں جھٹپٹے کے بعد بیس کیمپ تک پیچھے آنے کا حکم نہ ملا۔ اس جرات اور حوصلے پر سپاہی خداداد خان کو ہندوستان کا پہلا وکٹوریہ کراس اور صوبیداری ملی۔

میں جب صوبیدار صاحب کا آبائی گھر دیکھنے چکوال شہر سے ذرا دور راجپوت منہاسوں کے پشتینی گاؤں ڈب پہنچا تو وہاں پرانے کی جگہ نیا گھر بن رہا تھا۔ صوبیدار صاحب کے ایک پڑ پوتے غلام ربانی اس تعمیراتی کام کی نگرانی کررہے تھے۔ کہاں گیا وہ اصلی گھر؟ کیا اس لائق بھی نہ تھا کہ کوئی اسے قومی وراثت سمجھ کے گود لے لیتا۔

غلام ربانی نے کہا کہ پرانا گھر بہت ہی خستہ ہو کر ڈھے رہا تھا۔جب تک مرمت کرسکتے تھے کی پر کب تک۔ اس بیچ سرکار میں سے کسی نے نہیں سوچا کہ اسے یادگار بنانے کے لیے ہم سے خرید لے۔ میں نے پوچھا کیا آپ میں سے کسی نے گھر ڈھانے سے پہلے کسی حکومتی عملدار یا رکنِ پارلیمان کے کان میں یہ بات ڈالی؟ اس پر غلام ربانی نے کہا کہ یہ تو ان کا کام تھا۔ کوئی آتا تو بات بھی کرتے۔

تصویر کے کاپی رائٹ UNKNOWN
Image caption صوبیدار صاحب کا آبائی گھر دیکھنے چکوال شہر سے ذرا دور راجپوت منہاسوں کے پشتینی گاؤں ڈب پہنچا تو وہاں پرانے کی جگہ نیا گھر بن رہا تھا

وکٹوریہ کراس کے ساتھ ہی صوبیدار خداداد خان کو ضلع منڈی بہاؤ الدین کے چک پچیس میں پچاس ایکڑ زمین بھی الاٹ ہوئی اور یہیں خداداد خان آٹھ مارچ انیس سو اکہتر سے ابدی آرام میں ہیں۔ قریب ہی بوڑھے برگد کی چھاؤں تلے ان کے بھتیجے احمد خان نے باتوں باتوں میں بتایا کہ صوبیدار صاحب نے سنہ پینسٹھ کی پاک بھارت جنگ میں ایوب خان کو اپنی خدمات پیش کیں۔ اس جذبے کا فوجی قیادت کی جانب سے شکریہ ادا کیا گیا۔

احمد خان نے یہ قصہ بھی سنایا کہ جب انیس سو چھپن میں صوبیدار صاحب وکٹوریہ اینڈ جارج کراس ایسوسی ایشن کی دعوت پر لندن گئے تو لارڈ ماؤنٹ بیٹن نے وکٹوریہ کراس اور جارج کراس حاصل کرنے والے فوجیوں کو کھانے پر بلایا مگر صوبیدار صاحب نے یہ کہہ کر انکار کردیا کہ ماؤنٹ بیٹن نے جس بے دردی سے ہندوستان کی تقسیم کی ایسی بے انصافی کے بعد وہ اس کی دعوت قبول نہیں کرسکتے۔

وکٹوریہ کراس آج بھی دنیا میں ہاٹ کلکٹرز آئٹم ہے کیونکہ آزادی کے بعد سابق برطانوی نوآبادیوں نے اپنے اپنے اعلیٰ اعزازات تخلیق کر لیے۔جیسے پاکستان میں وکٹوریہ کراس کی جگہ نشانِ حیدر اور بھارت میں پرم ویر چکر نے لے لی۔ لہٰذا وکٹوریہ کراس کی تاریخی و نوادراتی حیثیت اور بڑھ گئی۔ کچھ کی اولادوں نے اسے نیلام کردیا یا کسی نیشنل میوزیئم کے حوالے کردیا۔ کہتے ہیں اس وقت وکٹوریہ کراس کا سب سے بڑا پرائیویٹ کلکشن برطانیہ کے لارڈ ایش کرافٹ کے پاس ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ UNKNOWN
Image caption پاکستانی فوج کی ہائی کمان نے اتنا ضرور کیا کہ خداداد خان کو ان کی زندگی میں ہی بابائے بلوچ رجمنٹ کا خطاب دیا اور انتقال کے بعد ان کا کانسی کا بڑا سا مجسمہ آرمی میوزیئم راولپنڈی کے احاطے میں نصب کردیا

صوبیدار خداداد خان کا وکٹوریہ کراس خریدنے کے لیے بھی کئی لوگ آئے۔ ان کے ایک پوتے عبدالغفور کہتے ہیں کہ نواب آف بہاولپور میرے چچا کے پیچھے پڑ گئے۔ سوا سو ایکڑ زمین اور بہاولپور سٹیٹ کی فوج میں کمیشن کی بھی پیش کش کی مگر چچا نے یہ کہہ کر وکٹوریہ کراس دینے سے انکار کردیا کہ ’اس پر میرے باپ کا خون لگا ہے اور یہ ہماری اگلی نسلوں کا فخر ہے‘۔

عبدالغفور جب 2004 میں وکٹوریہ اینڈ جارج کراس ایسوسی ایشن کی دعوت پر اپنی چھوٹی دادی کے ہمراہ برطانیہ گئے تو وہاں بھی کئی لوگوں نے صلاح دی کہ وکٹوریہ کراس انٹرنیٹ پر نیلام کرنے کے بارے میں سوچیں۔ سات آٹھ لاکھ پونڈ مل گئےتو وارے نیارے ہو جائیں گے۔

عبدالغفور نے بتایا کہ نائن الیون کے بعد سے وکٹوریہ کراس کے کچھ نئے چاہنے والے بھی پیدا ہو گئے ہیں۔ کئی بار انہیں اور چھوٹے بھائی علی نواز کو فون پر دھمکیاں ملیں کہ تم برطانوی ایجنٹ ہو۔ وکٹوریہ کراس واپس کردو ورنہ اچھا نہ ہوگا۔ عبدالغفور نے اس کے بعد وکٹوریہ کراس ایسی جگہ چھپا دیا ہے جو صرف خاندان کے کچھ لوگ ہی جانتے ہیں۔ ’مجھے بھی انہوں نے بس اس وکٹوریہ کراس کی فوٹو کے ہی درشن کروائے۔‘

پاکستانی فوج کی ہائی کمان نے اتنا ضرور کیا کہ خداداد خان کو ان کی زندگی میں ہی بابائے بلوچ رجمنٹ کا خطاب دیا اور انتقال کے بعد ان کا کانسی کا بڑا سا مجسمہ آرمی میوزیئم راولپنڈی کے احاطے میں نصب کردیا۔گو موجودہ پاکستان میں تین وکٹوریہ کراس سپاہیوں کے خاندان رہتے ہیں مگر لندن کی مرکزی تقریبات میں صرف خداداد خان کے ورثا کو ہی مدعو کیا گیا جبکہ پاکستان اور بھارت میں سرکاری طور پر کوئی بڑی تقریب نہیں ہورہی۔

اسی بارے میں