جنوبی وزیرستان: ’آپریشن راہِ نجات ابھی مکمل نہیں ہوا‘

تصویر کے کاپی رائٹ s
Image caption جنوبی وزیرستان کے محسود علاقے میں سروکئی کے آٹھ اور لدھا کے 46 دیہات میں قبائلیوں کو واپسی کی اجازت دی گئی ہے

حکومت پاکستان کا کہنا ہے کہ جنوبی وزیرستان میں شدت پسندوں کے خلاف جاری فوجی کارروائی ’راہِ نجات‘ ابھی ختم نہیں ہوئی ہے اور سکیورٹی فورسز وہاں اپنی پوزیشن مستحکم کرنے میں مصروف ہیں۔

اس سرکاری بیان کے برعکس عام تاثر شاید یہی تھا کہ جنوبی وزیرستان میں کارروائی مکمل ہو چکی ہے۔

ریاستوں اور فرنٹیئر ریجنز کے وفاقی وزیر عبدالقادر بلوچ نے قومی اسمبلی کو بتایا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے آج بھی وہاں ان علاقوں کو شدت پسندوں سے صاف کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔

اس طرح پاکستانی فوج آج کی تاریخ میں تین قبائلی علاقوں میں عسکری کارروائیوں میں اعلانیہ طور پر مصروف ہے۔ ان میں جنوبی وزیرستان کے علاوہ شمالی وزیرستان میں ’ضربِ عضب‘ اور خیبر ایجنسی میں ’خیبر ون‘ کے نام سے جاری آپریشن شامل ہیں۔

آپریشن راہِ نجات اکتوبر 2009 میں شدت پسندوں کے خلاف شروع کیا گیا تھا اور اس وقت بھی اطلاعات تھیں کہ شدت پسندوں کی قیادت محفوظ مقامات پر منتقل ہونے میں کامیاب رہی تھی۔

اسی سال تقریباً چھ ماہ کی زمینی اور فضائی کارروائیوں کے بعد فوج نے 12 دسمبر کو آپریشن کی کامیابی کا اعلان کرتے ہوئے تمام علاقوں پر حکومت کی عمل داری قائم کرنے کا اعلان کیا تھا۔

تاہم جنوبی وزیرستان کے علاقے برمل میں جمعرات کی صبح ڈرون حملے میں چار افراد کی ہلاکت سے محسوس ہوتا ہے کہ شدت پسند اب بھی اس علاقے میں سرگرم ہیں۔

جنوبی وزیرستان میں فوجی کارروائی کے آغاز کے دس دن کے اندر دو لاکھ افراد نقل مکانی پر مجبور ہوئے جس میں بعد میں مزید اضافہ بھی ہوا تھا۔

Image caption جنوبی وزیرستان میں فوجی کارروائی کے آغاز کے دس دن کے اندر دو لاکھ افراد نقل مکانی پر مجبور ہوئے

پاکستانی حکومت پر بےگھر ہونے والے ان لاکھوں قبائلیوں کی جانب سے مسلسل دباؤ میں اضافہ ہوتا رہا کہ انھیں اپنے علاقوں میں واپس جانے دیا جائے۔

حکومت کا کہنا ہے کہ جنوبی وزیرستان کے محسود قبیلے کے علاقے میں بعض دیہات صاف کر دیے گئے ہیں اور وہاں سے نقل مکانی کرنے والوں کی واپسی کا عمل مکمل کی جا چکی ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ جن قبائلیوں کے علاقے محفوظ ہیں، انھیں واپس جانے سے کوئی نہیں روک رہا ہے۔

قومی اسمبلی میں جنوبی وزیرستان کے ان علاقوں کی تفصیل پیش کی گئی ہے جہاں حکومت کا کہنا ہے کہ قبائلی واپس لوٹ سکتے ہیں۔ ان میں محسود علاقے میں سروکئی کے آٹھ دیہات اور لدھا کے 46 گاؤں شامل ہیں۔

ان علاقوں میں معروف دیہات چگملائی، سپنکئی رغزئی، کوٹ کئی، سراروغہ اور احمد وام شامل ہیں۔

دوسری جانب شمالی وزیرستان میں جاری ضرب عضب کے بارے میں حکومت کا کہنا ہے کہ فاٹا ڈزاسٹر مینیجمنٹ اتھارٹی نے علاقے میں فوجی کارروائی سے ہونے والے جانی و مالی نقصانات کا عمومی جائزہ مکمل کر لیا ہے لیکن تفصیلی سروے علاقے کی شدت پسندوں سے صفائی اور حکام کی جانب سے ’ڈی نوٹیفائی‘ ہونے کے بعد کیا جائے گا۔

پاکستان حکومت کو لگ بھگ ایسی ہی صورت حال کا سامنا سوات میں بھی ہے جہاں فوجی کارروائی کو ختم ہوئے تو کافی وقت گزر گیا لیکن وہاں کی مکمل عمل داری ابھی سویلین حکام کے حوالے نہیں کی گئی ہے اور وہاں بھی وقفے وقفے سے چھوٹی موٹے حملوں اور جوابی کارروائیوں کی خبریں آتی رہتی ہیں۔

شدت پسندی کے مضمون کے طالب علموں کے لیے شاید پاکستان کے شدت پسندی سے متاثرہ علاقے ایک اچھا نمونہ ہیں کہ کس طرح اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے طویل مدت اور بھاری وسائل درکار ہوتے ہیں۔

اسی بارے میں