ڈرون حملہ، چار افراد ہلاک، دفترخارجہ کی مذمت

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سرکاری اہلکاروں نے مزید بتایا کہ جس مکان کو نشانہ بنایا گیا اسے عسکریت پسند اپنے مرکز کے طور پر استعمال کر رہے تھے

پاکستان کے دفترِ خارجہ نے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں امریکی ڈرون حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے ملکی سالمیت اور خودمختاری کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔

جمعرات کو قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں حکام کے مطابق ایک امریکی جاسوس طیارے کے حملے میں دو غیر ملکیوں سمیت کم سے کم چار شدت پسند ہلاک ہوگئے ہیں۔

سرکاری اہلکاروں کے مطابق یہ حملہ جمعرات کی صبح جنوبی وزیرستان کے صدر مقام وانا سے تقریباً دس کلو میٹر دور تحصیل برمل کے علاقے اعظم ورسک میں ہوا۔

سرکاری اہلکاروں نے کہا کہ بغیر پائلٹ کے امریکی جاسوس طیارے سے ایک مکان پر دو میزائل داغے گئے جس سے وہاں موجود چار افراد ہلاک ہو گئے۔ مقامی ذرائع کے مطابق مرنے والوں میں دو غیر ملکی اور دو مقامی افراد بتائے جاتے ہیں۔

سرکاری اہلکاروں نے مزید بتایا کہ جس مکان کو نشانہ بنایا گیا ہے اسے عسکریت پسند اپنے مرکز کے طور پر استعمال کر رہے تھے۔

پاکستان کے دفتر خِارجہ کی ترجمان تسنیم اسلم نے ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران ڈرون حملے پر کہا:’پاکستان نے ہمیشہ یہ کہا ہے کہ یہ حملے پاکستان کی علاقائی سالمیت اور خودمختاری کی خلاف ورزی ہیں۔پاکستان پہلے ہی دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کر رہا ہے لہٰذا یہ ڈرون حملے غیر ضروری ہیں اور انھیں فوری طور پر بند کیا جانا چاہیے۔‘

خیال رہے کہ رواں سال جنوبی اور شمالی وزیرستان میں امریکی جاسوس طیاروں کی طرف سے عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں اور گاڑیوں پر کل 15 حملے کیے گئے ہیں جس میں سے دو حملے جنوبی وزیرستان، جبکہ 13 شمالی وزیرستان میں کیے گئے ہیں۔ ان حملوں میں درجنوں شدت پسند مارے جا چکے ہیں۔

واضح رہے کہ زیادہ تر ڈرون حملے شمالی وزیرستان میں ہوتے رہے ہیں لیکن جنوبی وزیرستان میں بھی ڈرون حملوں میں مبینہ شدت پسندوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

ستمبر کے اواخر میں مقامی انتظامیہ کے مطابق جنوبی وزیرستان کے صدر مقام وانا میں ڈورن حملہ ہوا تھا جس میں ایک گاڑی کو میزائل سے نشانہ بنایا گیا تھا، جس میں اطلاعات کے مطابق غیر ملکی شدت پسند سوار تھے۔

شمالی وزیرستان میں رواں برس 15 جون سے فوجی آپریشن ضرب عضب شروع کیاگیا تھا، تاہم مقامی ذرائع کے مطابق بیشتر شدت پسند پاک افغان سرحدی علاقوں کی جانب منتقل ہوگئے تھے۔

پاکستان اس سے پہلے بھی متعدد بار ڈرون حملوں کے خلاف اعلیٰ سطح پر مذمت اور احتجاج کر چکا ہے جبکہ امریکہ اسے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ایک موثر ہتھیار قرار دیتا ہے۔

اسی بارے میں