غداری کا مقدمہ: کورکمانڈروں کی شمولیت پر فیصلہ محفوظ

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption وکیلِ صفائی نے کہا کہ پرویز مشرف نے بطور آرمی چیف نہیں بلکہ صدر کی حثیت سے اُس وقت کے وزیر اعظم شوکت عزیز کی درخواست پر ملک میں ایمرجنسی لگائی تھی

سابق فوجی سربراہ پرویز مشرف کے خلاف غداری کے مقدمے کی سماعت کرنے والی خصوصی عدالت نے تین نومبر 2007 کو ملک میں ایمرجنسی لگانے پر اُس وقت کے کور کمانڈروں اور اُس وقت کے وزیر اعظم اور وفاقی کابینہ کے خلاف بھی آئین کے آرٹیکل چھ کے تحت کارروائی کرنے سے متعلق درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔

سابق فوجی صدر اور اس مقدمے کے نامزد ملزم پرویز مشرف کی طرف سے دائر کی گئی اس درخواست پر فیصلہ 21 نومبر کو سُنایا جائے گا۔

اس درخواست پر فیصلہ سُنانے کے بعد عدالت پرویز مشرف کو عدالت میں دوبارہ گواہی کے لیے طلب کرنے سے متعلق حکم صادر کرے گی۔

جسٹس فیصل عرب کی سربراہی میں تین رکنی خصوصی عدالت نے جمعے کو اس مقدمے کی سماعت کی۔ پرویز مشرف کے وکیل سینیٹر فروغ نسیم نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ملک میں ایمرجنسی لگانے کا اقدام اُن کے موکل نے اکیلے نہیں کیا۔

اُنھوں نے کہا کہ ملک میں ایمرجنسی لگانے کا اقدام فرد واحد کا کام نہیں ہے، پرویز مشرف نے اس کے لیے اس وقت کی وفاقی حکومت اور کورکمانڈروں سے مشاورت کے بعد ہی ایمرجنسی لگائی تھی۔

فروغ نسیم نے کہا کہ اُن کے موکل نے بطور آرمی چیف نہیں بلکہ صدر کی حثیت سے اُس وقت کے وزیر اعظم شوکت عزیز کی درخواست پر ملک میں ایمرجنسی لگائی تھی۔

اُنھوں نے کہا کہ اگر پرویز مشرف نے بطور آرمی چیف ملک میں ایمرجنسی لگائی تھی تو جنرل اشفاق پرویز کیانی کو 27 نومبر 2007 کو نیا آرمی چیف مقرر کیا تھا، تو نئے آرمی چیف نے ایمرجنسی کو ختم کیوں نہیں کیا۔

سماعت کے دوران پرویز مشرف کے وکیل کی طرف سے پنجاب کے سابق گورنر لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ خالد مقبول اور سابق وزیر اعظم شوکت عزیز کے انٹرویو کے اخباری تراشے اور سی ڈیز بھی پیش کی گئیں، جس پر عدالت نے ملزم کے وکیل پر واضح کیا کہ عدالت اس مواد کو بطور شہادت قبول نہیں کرے گی۔

فروغ نسیم نے کہا کہ اس وقت کی پارلیمنٹ اور کابینہ کے ارکان کے خلاف بھی سنگین غداری سے متعلق آئین کے آرٹیکل 6 کے تحت مقدمہ چلایا جانا چاہیے جنھوں نے نہ صرف ایمرجنسی کے اقدام کے حق میں قومی اسمبلی سے قرارداد منظور کی بلکہ پرویز مشرف کے اس اقدام کو سراہا بھی۔

اس مقدمے میں وکیل استغاثہ نے اس درخواست کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں ایمرجنسی لگانے کا فیصلہ ملزم پرویز مشرف کا اپنا تھا اور ایسے کوئی شواہد سامنے نہیں آئے جس سے ثابت ہوتا ہو کہ دیگر افراد نے بھی اس میں اس وقت کے فوجی صدر پرویز مشرف کی معاونت کی تھی۔

پرویز مشرف کے وکیل کا کہنا تھا کہ عدالت کے پاس یہ اختیار ہے کہ اگر کسی بھی موقع پر کوئی شواہد سامنے آئیں تو وہ دیگر ملزمان پر بھی آئین کے آرٹیکل 6 کے تحت مقدمہ چلا سکتی ہے۔

اسی بارے میں