آپریشن خیبر ون میں پونے دو لاکھ افراد بے گھر

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

پاکستان کے قبائلی علاقے خیبر ایجنسی میں سکیورٹی فورسز کی طرف سے عسکری تنظیموں کے خلاف چند دن پہلے شروع کیے جانے والے آپریشن خیبر ون کے باعث لوگوں کی نقل مکانی کا سلسلہ بدستور جاری ہے اور اب تک پونے دو لاکھ کے قریب افراد بے گھر ہونے پر مجبور ہو چکے ہیں۔

فاٹا میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے ادارے ایف ڈی ایم اے کے ترجمان حسیب خان نے بی بی سی کو بتایا کہ باڑہ سے بے گھر ہونے والے خاندانوں کے لیے پشاور، خیبر ایجنسی اور اورکزئی ایجنسیوں میں رجسٹریشن سنٹر بنائے گئے ہیں جہاں ان کا اندراج کیا جا رہا ہے۔

انھوں نے کہا کہ اب تک 171559 افراد گھر بار چھوڑ کر پناہ گزین کیمپوں یا رشتہ داروں کے ہاں پناہ لینے پر مجبور ہو گئے ہیں۔

حسیب خان بتایا کہ باڑہ کے پانچ سو سے لے کر ایک ہزار تک متاثرین خاندانوں کے لیے جلوزئی پناہ گزین کیمپ میں رہنے کا بندوبست کیا گیا ہے، لیکن بیشتر افراد رشتہ داروں یا دوستوں عزیزوں کے ہاں پناہ لے رہے ہیں۔

ترجمان نے کہا کہ باڑہ سے پہلے ہی ہزاروں خاندان بے گھر ہو چکے ہیں اور موجودہ نقل مکانی مکمل ہونے کے بعد ہی متاثرین کی کل تعداد سامنے آئے گی۔

حسیب خان نے مزید کہا کہ باڑہ اور دیگر علاقوں کے متاثرین کچھ عرصہ سے شکایت کرتے رہے ہیں کہ انھیں وہ امداد اور سہولیات نہیں دی جا رہیں جو شمالی وزیرستان کے متاثرین کو حاصل ہیں۔

انھوں نے کہا کہ اس سلسلے میں ایف ڈی ایم اے کی جانب سے وفاقی حکومت کو درخواست دی گئی ہے جس میں تمام متاثرین کو ایک ہی پالیسی کے تحت برابری کی بنیاد پر امداد دینے کی استدعا کی گئی ہے اور توقع ہے کہ اچھا نتیجہ نکلے گا۔

ادھر آپریشن خیبر ون کے اکثر متاثرین کو شکایت ہے کہ حکومت کی طرف سے ان کو امداد دینے کے دعوے تو بڑے گرم جوشی سے کیے گئے لیکن عملی اقدامات کم ہی دیکھنے میں آئے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption باڑہ اور دیگر علاقوں کے متاثرین کو شکایت ہے کہ انھیں وہ امداد اور سہولیات نہیں دی جا رہی جو شمالی وزیرستان کے متاثرین کو حاصل ہیں

ان کا کہنا ہے کہ پشاور پہنچنے والے بیشتر متاثرین کو پولیس کی طرف سے بے جا تنگ کیا جا رہا ہے اور انھیں سڑک کے وسط میں روک کر پیسوں کا مطالبہ کیا جاتا ہے۔

باڑہ کے مقامی صحافیوں کا کہنا ہے کہ گورنر اور وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کی طرف سے پولیس کو خصوصی ہدایت جاری کی گئی تھی کہ شہر کے اندر متاثرین کو تنگ نہ کیا جائے لیکن ان کے احکامات پر عمل درآمد نہیں کیا جا رہا۔

خیال رہے کہ چند دن قبل سکیورٹی فورسز نے خیبر ایجنسی کے علاقے باڑہ سب ڈویژن میں خیبر ون کے نام سے شدت پسندوں کے خلاف آپریشن کا آغاز کیا تھا۔ حکام کے مطابق ان کارروائیوں میں اب تک 80 کے قریب عسکریت پسند مارے جا چکے ہیں۔

دو دن پہلے سپین قبر کے علاقے میں سکیورٹی فورسز اور شدت پسندوں کے درمیان جھڑپ ہوئی تھی جس میں آٹھ فوجی اہلکار ہلاک ہوئے تھے۔

یہ امر بھی اہم ہے کہ فوج کے ترجمان میجر جنرل عاصم باجوہ نے تین دن پہلے پشاور میں اخباری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ خیبر اور شمالی وزیرستان میں آپریشن اس وقت تک جاری رہیں گے جب تک دونوں علاقے شدت پسندوں سے مکمل طور پر پاک نہیں ہو جاتے۔

اسی بارے میں