اورکزئی ایجنسی میں سکیورٹی فورسز پر حملہ

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption یہ بھی اطلاعات ہیں کہ شدت پسندوں نے حملے کے بعد چند اہلکاروں کو یرغمال بناکر اپنے ساتھ لے گئے ہیں

پاکستان کے قبائلی علاقے اورکزئی ایجنسی میں سکیورٹی فورسز پر ہونے والے ایک حملے میں کم سے کم چار اہلکار ہلاک اور تین زخمی ہوگئے ہیں جبکہ جوابی حملے میں 20 کے قریب عسکریت پسندوں کے مارے جانے کی اطلاعات ہیں۔

پشاور میں ایک اعلی سرکاری اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ واقعہ جمعے اور سنیچر کی درمیانی شب لوئر اورکزئی کے علاقے شیرین درہ میں پیش آیا۔

انھوں نے کہا کہ درجنوں عسکریت پسندوں نے خیبر ایجنسی کے علاقے آکاخیل کی طرف سے اورکزئی ایجنسی میں داخل ہوکر فرنٹیر کور کی زوان نامی چیک پوسٹ پر بھاری اور خود کار ہتھیاروں سے حملہ کردیا۔

اہلکار کے مطابق حملے میں کم سے کم ایف سی کے چار اہلکار ہلاک اور تین زخمی ہوئے۔ تاہم بعض مقامی ذرائع نے ہلاکتوں کی تعداد چھ بتائی ہے۔

یہ بھی اطلاعات ہیں کہ شدت پسندوں نے حملے کے بعد چند اہلکاروں کو یرغمال بناکر اپنے ساتھ لے گئے ہیں۔ تاہم سرکاری طورپر ان اطلاعات کی تصدیق نہیں کی جاسکی۔

سرکاری اہلکار کا مزید کہنا تھا کہ سکیورٹی فورسز کی طرف سے جوابی کاروائی میں بیس کے قریب شدت پسندوں کے مارے جانے کی اطلاعات ہیں۔

جمعے کو بھی مسلح عسکریت پسندوں کی طرف سے اسی علاقے میں سکیورٹی فورسز پر فائرنگ کی گئی تھی جس میں ایک اہلکار ہلاک ہوگیا تھا۔

یاد رہے کہ لوئر اورکزئی ایجنسی کا علاقہ خیبر ایجنسی کی سرحد سے ملا ہوا ہے۔ اس علاقے میں کالعدم تنظیموں کے عسکریت پسند بہت پہلے سے سرگرم بتائے جاتے ہیں۔ خیبر ایجنسی میں سکیورٹی فورسز کی طرف سے شدت پسند تنظیموں کے خلاف جاری آپریشن خیبر ون کے باعث اطلاعات ہیں کہ عسکریت پسند بڑی تعداد میں اورکزئی ایجنسی اور دیگر علاقوں کی طرف فرار ہورہے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption باجوڑ ایجنسی میں بھی لیوی اہلکاروں پر ہونے والے ایک ریموٹ کنٹرول بم دھماکے میں ایک اہلکار ہلاک ہوا

ادھر دوسری طرف ایک اور قبائلی علاقے باجوڑ ایجنسی میں بھی لیوی اہلکاروں پر ہونے والے ایک ریموٹ کنٹرول بم دھماکے میں ایک اہلکار ہلاک اور ایک زخمی ہوگیا ہے۔

پولیٹکل انتظامیہ کے ایک اہلکار کے مطابق یہ دھماکہ سنیچر کی صبح ایجنسی کے دورافتادہ علاقے ماموند تحصیل میں اس وقت ہوا جب لیوی اہلکاروں کو سڑک کے کنارے ایک ریموٹ کنٹرول بم دھماکے میں نشانہ بنایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ حملے میں لیوی کے ایک اہلکار ہلاک اور ایک زخمی ہوگیا۔

ادھر کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان نے لیوی اہلکاروں پر حملے کی ذمہ داری قبول کرلی ہے۔ تحریک کے ایک ترجمان نے بی بی سی کو فون کرکے بتایا کہ مرنے والے اہلکار ان کے نشانے پر تھے۔

خیال رہے کہ خیبر ایجنسی میں آپریشن خیبر ون شروع ہونے کے بعد سے مختلتف علاقوں میں سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں پر حملوں میں تیزی دیکھی جارہی ہے۔ اس سے پہلے خیبر ایجنسی میں بھی عسکریت پسندوں اورسکیورٹی فورسز کے درمیان ہونے والی ایک جھڑپ میں چھ فوجی اہلکار ہلاک ہوئے تھے۔

اسی بارے میں