بھارت کی شکست سے بھی سبق نہیں سیکھا، کلارک

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

کپتان مائیکل کلارک نے تسلیم کیا ہے کہ آسٹریلوی کرکٹ ٹیم نے بھارت کے خلاف چار صفر کی ہزیمت سے بھی کوئی سبق نہیں سیکھا۔

واضح رہے کہ گزشتہ سال آسٹریلوی ٹیم کو بھارت میں کھیلی گئی سیریز کے چاروں ٹیسٹ میچز میں شکست ہوئی تھی اور اب پاکستان کے خلاف دو ٹیسٹ میچز کی سیریز میں بھی اسے وائٹ واش پر مجبور ہونا پڑا ہے۔

ایشیائی وکٹوں پر آسٹریلوی ٹیم کی انتہائی خراب کارکردگی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ چھ سال میں اس نے پندرہ میں سے صرف ایک ٹیسٹ سری لنکا کے خلاف گال میں جیتا ہے اور دس میں اسے شکست ہوئی ہے۔

مائیکل کلارک کا کہنا ہے کہ وہ اس سیریز سے قبل پرامید تھے کہ ان کی ٹیم نے بھارت میں شکست سے کچھ سیکھا ہوگا لیکن ایسا نہیں ہے اور اس سیریز میں بھی آسٹریلوی ٹیم کی کارکردگی بھارت کے خلاف سیریز سے کسی طور بہتر نہیں تھی۔

کلارک نے کہا کہ اس مایوس کن سیریز میں بھی چند انفرادی کارکردگی نمایاں رہیں جن میں انھوں نے مچل مارش، ڈیوڈ وارنر اور سٹیو سمتھ کا خاص طور پر ذکر کیا۔

انھوں نے کہا کہ ضرورت اس بات کی ہےکہ وہ اگلی مرتبہ برصغیر کی وکٹوں پر کھیلنے سے قبل اپنی کارکردگی میں بہتری لائیں۔

انھوں نے کہا کہ بہترین ٹیمیں ہی اپنے ملک سے باہرمستقل مزاجی اور تواتر سے جیتا کرتی ہیں اورآسٹریلوی ٹیم کو ملک سے باہر جیتنے کے لیے سخت محنت جاری رکھنے کی ضرورت ہے۔

مائیکل کلارک نے کہا کہ وہ کسی ایک شعبے کو خراب کارکردگی پر مورد الزام ٹھہرانا پسند نہیں کرینگے۔

انھوں نے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ بیٹسمینوں کی کارکردگی بہت بری رہی جن میں وہ خود بھی شامل ہیں کیونکہ کپتان کی حیثیت سے ان کی کارکردگی کسی طور قابل قبول نہیں اور انہیں اپنی خراب بیٹنگ پر بہت غصہ اور مایوسی ہے ۔

واضح رہے کہ اس سیریز کی چار اننگز میں وہ صرف چھپن رنز بنا پائے۔

کلارک نے کہا کہ اس سیریز میں ان کی ٹیم نے گیارہ کیچز ڈراپ کیے جس سے بولرز کو اپنے مقصد میں مدد نہ مل سکی۔

مائیکل کلارک انیس سو چورانوے کے بعد پاکستان کے خلاف ٹیسٹ سیریز ہارنے والے پہلے آسٹریلوی کپتان ہیں۔

انیس سو چورانوے میں آسٹریلوی ٹیم مارک ٹیلر کی کپتانی میں پاکستان سے ٹیسٹ سیریز ایک صفر سے ہاری تھی۔پاکستانی ٹیم کے کپتان سلیم ملک تھے۔

اسی بارے میں