عاشورہ کے موقعے پر سخت سکیورٹی، فوج الرٹ

تصویر کے کاپی رائٹ none
Image caption لاہور سمیت پنجاب کے تمام بڑے شہروں میں ایک لاکھ 30 ہزار سے زیادہ پولیس اہلکار تعینات کر دیے گئے ہیں

پاکستان میں حکومت نےعاشورہ کے موقعے پر ملک بھر میں امن و امان برقرار رکھنے کے لیے سکیورٹی کے انتظامات مکمل کر لیے ہیں۔

ملک کے ایک درجن سے زیادہ حساس شہروں میں پولیس کی مدد کے لیے فوج کو الرٹ کر دیاگیا ہے۔

دسویں محرم کے جلوس کی فضائی نگرانی کے لیے ہیلی کاپٹر استعمال کیے جائیں گے۔ اس کے علاوہ کئی بڑے شہروں میں موبائل سروس پیر کو ہی بند کر دی گئی ہے۔

لاہور کے واہگہ بارڈر کے قریب اتوار کی شام ہونے والے خودکش حملے کے بعد وفاقی حکومت نے ملک کے تمام بڑے شہروں میں سکیورٹی کے انتظامات مزید سخت کر دیے ہیں۔

کراچی اور حیدر آباد میں موبائل سروس نویں محرم کو دن بھر بند رہی، جبکہ کل سے موٹر سائیکل پر ڈبل سواری کی پابندی نافذ ہے۔ اس کے علاوہ دسویں محرم کے جلوس کے تمام راستے کنٹینر لگا کر سیل کر دیے گئے۔

بلوچستان کے دارلحکومت کوئٹہ سمیت صوبے کے آٹھ اضلاع کو حساس قرار دے دیا گیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption راولپنڈی میں جلوس کی نگرانی کے لیے مختلف مقامات پر کلوز سرکٹ کیمرے نصب کرنے کام مکمل کر دیا گیا ہے

صوبائی وزیر اطلاعات و نشریات عبدالرحیم زیارتوال کے مطابق کوئٹہ شہر کے اس روٹ کو سیل کر دیا گیا ہے جہاں سے منگل کو ماتمی جلوس گزرے گا۔ اس کے علاوہ عاشورہ کے موقعے پر امن اومان برقرار رکھنے کے لیے 5000 پولیس، 2000 ایف سی جوان اور 16 مجسٹریٹ تعینات کر دیےگئے ہیں۔

کوئٹہ میں کسی ناخوشگوار واقعے سے نمٹنے کے لیےفوج الرٹ رہے گی۔

صوبہ پنجاب میں حکومت نے نویں اور دسویں محرم کو امن و امان برقرار رکھنے کے لیے تمام حفاظتی انتظامات مکمل کر لیے۔ لاہور سمیت صوبے کے تمام بڑے شہروں میں ایک لاکھ 30 ہزار سے زیادہ پولیس اہلکار تعینات کیے جا چکے ہیں، جب کہ فوج اور رینجرز کو الرٹ کر دیا گیا ہے۔

راولپنڈی میں گذشتہ سال دسویں محرم کو ماتمی جلوس کے اختتام پرایک ناخوشگوار واقعے میں سے دس سے زیادہ افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ اس کو مدنظر رکھتے ہوئے ضلعی انتظامیہ نے پیر کو مصروف ترین راجہ بازار سمیت ماتمی جلوس کے تمام راستوں کو سیل کر دیا، جب کہ جلوس کی نگرانی کے لیے مختلف مقامات پر کلوز سرکٹ کیمرے نصب کرنے کام بھی مکمل کر دیا گیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption بلوچستان کے دارلحکومت کوئٹہ سمیت صوبے کے آٹھ اضلاع کو حساس قرار دے دیا گیا ہے

پشاور میں بی بی سی کے نامہ نگار عزیز اللہ خان کے مطابق ماتمی جلوس کی نگرانی کے لیے چھ ہزار پولیس اور ایف سی کی چھ پلاٹونیں تعینات کر دی گئی ہیں۔

اس کے علاوہ شہر کے داخلی راستوں پر چیکنگ میں بھی اضافہ کر دیاگیا ہے۔ انتظامیہ نے شہر کے مختلف مقامات پر 68 میں سے 20 امام بارگاہوں کو حساس قرار دے دیا۔

ادھر اسلام آباد میں بھی نویں محرم کے جلوس کے موقعے پر سکیورٹی کے انتظامات سخت رہے۔ پولیس کے ساتھ ساتھ رینجرز اہلکار بھی دن بھر گشت کرتے رہے۔ اس کے علاوہ پولیس نے مختلف مقامات پر ناکے لگا کر مشکوک گاڑیوں اور افراد کی تلاشی کا سلسلہ جاری رکھا۔

اسلام آباد میں وزارت داخلہ کے ترجمان کے مطابق دسویں محرم کو ملک کے تمام بڑے شہروں میں کسی ناخوشگوار واقعے سے نمٹنے کے لیے نہ صرف فوج الرٹ رہے گی، بلکہ ہیلی کاپٹروں کے ذریعے ماتمی جلوس کی فضائی نگرانی کے لیے بھی تمام انتظامات کر لیے گئے ہیں۔

اسی بارے میں