قرآن کی مبینہ بے حرمتی کے الزام میں عیسائی جوڑا قتل

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پاکستان میں اقلیتی برادری کے ارکان کے توہینِ مذہب کے الزام میں قتل کے واقعات پیش آتے رہتے ہیں

پنجاب کے ضلع قصور میں کے نواحی گاؤں رادھا کشن میں ایک مشتعل ہجوم نے ایک عیسائی جوڑے کو قرآن کی مبینہ بے حرمتی کرنے کے الزام میں ہلاک کر دیا ہے۔ یہ واقعہ منگل کو کوٹ رادھا کشن کے گاؤں میں پیش آیا ۔

پولیس کے مطابق مشتعل افراد نے مسیحی خاتون شمع بی بی اور اُس کے شوہر شہزاد مسیح کو تشدد کا نشانہ بنایا جس کے بعد اُنہیں جلا دیا۔ پولیس کہنا ہے کہ جب وہ موقع پر پہنچے تو دونوں میاں بیوی کو مشتعل افراد نے جان سے مار دیا تھا۔

رادھا کشن کے ایک پولیس اہلکار بنیامین نے بی بی سی کو بتایا کہ پولیس کی اطلاع ملی ہے کہ پیر کے روز ایک عیسائی عورت نے قرآن کو جلا دیا تھا جس کے بعد کچھ لوگوں نے اِس معاملے کو سلجھانے کی کوشش بھی کی تھی لیکن منگل کے روز ایک مشتعل ہجوم نے انھیں ہلاک کر دیا۔

پولیس اہلکار نے بتایا کہ جب پولیس اطلاع ملنے پر اس گاؤں پہنچی تو دونوں میاں بیوی کو ہلاک کیا جا چکا تھا۔

پولیس کے مطابق جائے وقوع پر چار سو کے لگ بھگ مشتعل افراد موجود تھے۔

وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف نے مسیحی میاں بیوی کو زندہ جلانے کے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے ایک تحقیقاتی ٹیم تشکیل دے دی ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ دونوں میاں بیوی بھٹے پر رہتے تھے اور اُن کی عمریں 30 سے 35 سال بتائی جاتی ہیں۔ خاوند کا نام شہزاد مسیح اور بیوی کا شمع بتایا گیا ہے۔

پولیس اہلکار بنیامین نے بتایا کہ ابھی تک اِس واقعے کے مقدمے کے لیے پولیس کو کوئی درخواست وصول نہیں ہوئی اور اِسی وجہ سے کسی کو گرفتار بھی نہیں کیا گیا۔

اسی بارے میں