پاکستان کے آئی ایم ایف سے مذاکرات پالیسی مرحلے میں

تصویر کے کاپی رائٹ PID
Image caption دبئی میں جاری مذاکرات میں وزیر خزانہ اسحٰق ڈار پاکستانی وفد کی قیادت کریں گے

پاکستان اور بین الاقوامی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کے درمیان قرضے کی پانچویں اور چھٹی قسط کے اجرا کے لیے دبئی میں جاری مذاکرات آج پالیسی مرحلے میں داخل ہو جائیں گے جس میں وزیر خزانہ اسحٰق ڈار پاکستانی وفد کی قیادت کریں گے۔

آئی ایم ایف نے گذشتہ برس پاکستان کو ساڑھے چھ ارب ڈالر کے قرض کی منظوری دی تھی جسے پاکستان کی اقتصادی کارکردگی سے مشروط کیا گیا تھا۔

آئی ایم ایف کا جائزہ مشن ہر تین ماہ بعد اس کارکردگی کا جائزہ لے کر قرض کی رقم کا کچھ حصہ جاری کرتا ہے۔ تاہم آخری دفعہ اگست میں اسی نوعیت کے جائزہ اجلاس کے دوران پاکستان کی کارکردگی غیر تسلی بخش ہونے کے باعث قرض کی پانچویں قسط جاری نہیں ہو سکی تھی۔

تاہم پاکستانی حکام توقع کر رہے ہیں کہ اس دوران پاکستان نے آئی ایم ایف کی جانب سے مقرر کردہ اہداف کو بہت حد تک حاصل کر لیا ہے اس لیے دبئی میں جاری مذاکرات کے نتیجے میں پانچوں اور چھٹی قسط ایک ساتھ جاری ہو جائیں گی جن کی کل مالیت 1. 1 ارب ڈالر بنتی ہے۔

29 اکتوبر سے شروع ہونے والے یہ مذاکرات جمعہ سات نومبر کو مکمل ہو جائیں گے۔ ان مذاکرات میں اب تک تکنیکی بحث ہوتی رہی ہے جبکہ منگل کے روز سے پالیسی سطح کی بات چیت شروع ہوئی ہے۔

پاکستان نے آئی ایم ایف کی جانب سے اپنے پروگرام کو جاری رکھنے کے لیے عائد شرائط میں سے بعض پر عمل کرنے کے لیے حالیہ دنوں میں خاصی تیزی سے کام کیا ہے۔

ان میں سے ایک تیل اور گیس کی تلاش کے سرکاری ادارے او جی ڈی سی ایل کی نجکاری اور دوسرا بجلی پر دی جانے والی سبسڈی یا رعایت کا خاتمہ ہے۔

حکومت نے پچہلے ہفتے او جی ڈی سی ایل کے ساڑھے سات فیصد حصص فروخت کرنے کا اعلان کیا جس پر اس ادارے کے ملازمین اور حزب اختلاف کی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی نے احتجاج بھی کیا۔ اس احتجاج کے باوجود نجکاری کے وزیر مملکت محمد زبیر نے اس عمل کو جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔

حکومت نے پچھلے دو ماہ میں بجلی کی قیمت پر دی جانے والی سبسڈی میں سے 27 ارب روپے کی سبسڈی بھی واپس لے لی ہے۔ اس کے نتیجے میں پچھلے ماہ بجلی کے بعض صارفین کے بل بھی زیادہ آئے ہیں۔ حکومت نے ان ’اضافی بلوں‘ کی تحقیقات بھی شروع کر رکھی ہیں۔

وزیر خزانہ اسحٰق ڈار آئی ایم ایف کے جائزہ مشن کو ٹیکس وصولیوں اور اصلاحات کے پروگرام کے بارے میں بھی اعتماد میں لیں گے اور اس قرض کی اگلی قسط کے لیے شرائط پر بھی بات کی جائے گی۔

اسی بارے میں