شدت پسند اب بھی صلاحیت رکھتے ہیں

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ذرائع ابلاغ میں شائع ہونے والی بعض رپورٹوں میں سکیورٹی ذرائع کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ واہگہ دھماکہ کسی ایک تنظیم کی کاروائی نہیں ہوسکتی

پاکستان کے صوبے پنجاب کے شہر لاہور کے قریب پاکستان اور بھارت کی سرحد واہگہ میں مبینہ خودکش حملے میں 50 سے زآئد افراد کی ہلاکت سے بظاہر یہ بات ثابت ہوگئی ہے کہ آپریشن ضرب عضب سے بھی شدت پسندوں کی طاقت پر کوئی خاص اثرا نہیں پڑا ہے بلکہ وہ بدستور ملک کے کسی بھی کونے میں بڑے بڑے حملے کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں 15 جون کو شروع ہونے والے فوجی آپریشن ضرب عضب کے بعد حکومت اور سکیورٹی اداروں کی طرف سے ایسا تاثر دیا جارہا تھا کہ جسے ان کاروائیوں کی وجہ سے شدت پسندوں کا قلع قمع کردیا گیا ہے۔ آپریشن کے آغاز پر شدت پسند تنظیموں کی طرف سے بھی کچھ ایسی خاموشی اختیار کی گئی جس سے کوئی بات حتمی طور پر سامنے نہیں آرہی تھی۔

آپریشن کے آغاز کے بعد تقریباً ایک ماہ تک شدت پسند مکمل طورپر خاموش رہے۔ ان کی جانب سے نہ تو ملک میں کوئی انتقامی کاروائی کی گی اور نہ ہی ان کا ذرائع ابلاغ سے کوئی باقاعدہ رابطہ رہا۔

اس دوران کالعدم تنظیم تحریکِ طالبان پاکستان میں اندرونی اختلافات، محسود طالبان کی علحیدگی اور جماعت الحرار کی جانب سے الگ گروپ بنانے اور ٹی ٹی پی کے بعض کمانڈروں کی طرف سے دولت اسلامیہ کے ساتھ الحاق سے اس بات کو مزید تقویت ملی کہ شاید عسکری تنظیموں میں اب وہ قوت باقی نہیں رہی جو کبھی پہلے ہوا کرتی تھی۔

اسی اثناء میں حکومت اور سکیورٹی فورسز کی طرف سے کچھ ایسے بڑے بڑے دعوے سامنے آئے جس سے ایسا لگ رہا تھا کہ آپریشن ضربِ عضب کے باعث شدت پسندوں کی کمر ٹوٹ چکی ہے اور وہ اب مزید ملک میں کوئی بڑی کاروائی کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتی۔ تاہم اس دوران عسکری تنظیموں کی جانب سے دبے الفاظ یہ بات بھی سامنے آتی رہی کہ وہ ایک حکمتِ عملی کے تحت خاموش ہیں اور وہ وقت آنے پر تمام دعوؤں کو غلط ثابت کردیں گے۔لیکن شاید اس بات کو کسی نے کوئی زیادہ اہمیت نہیں دی۔

لیکن اب واہگہ سرحد پر ہونے والے خودکش حملے سے یہ بات کسی حد ثابت ہوگئی ہے کہ شمالی وزیرستان آپریشن کے باعث شدت پسندوں کی کمزوری کے حوالے سے حکومت اور سکیورٹی فورسز کی جانب سے دعوے شاید عجلت میں کیے گئے تھے۔ پنجاب کے شہر میں حملہ کرنے سے بظاہر لگتا ہے کہ عسکری تنظیموں کے درمیان رابط بھی پایا جاتا ہے اور ان کی طاقت پر بھی کوئی خاص اثر نہیں پڑا ہے۔

پھر یہ دھماکہ بھی ایک ایسے مقام پر کیا گیا ہے جسے کوئی عام ہدف بھی نہیں کہا جاسکتا۔ واہگہ ایک بین الااقوامی سرحد ہے جہاں عام علاقوں کے مقابلے میں سکیورٹی انتہائی سخت ہوتی ہے۔ لیکن وہاں تک خودکش حملہ آوار کا پہنچنا اور چیک پوسٹوں کو عبور کرکے عوام کے درمیان دھماکہ کرنا کئی سوالات کو بھی جنم دیتا ہے۔ اس سے سکیورٹی اداروں کی کارکردگی پر اب کئی سوالات بھی اٹھائے جا رہے ہیں۔

Image caption شمالی وزیرستان میں جاری آپریشن ضرب عضب کے بعد پاکستان میں اب شدت پسندوں کا بظاہر اب کوئی مستقل ٹھکانہ نہیں رہا

واہگہ خودکش حملے کی ذمہ داری تین شدت پسند گروہوں کی طرف سے قبول کی گئی ہے۔ تاہم تحریک طالبان جماعت الحرار کے ترجمان احسان اللہ احسان کی طرف سے جو دعوی کیا گیا ہے اس میں کچھ حد تک حقیقت بھی نظر آتی ہے۔ احسان اللہ احسان کی طرف سے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو ایک ای میل جاری کی گئی ہے جس میں ثبوت کے طور پر خودکش حملہ آوار کا نام بھی دیا گیا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ کچھ دیگر تنظیموں کی طرف سے بھی واہگہ حملے کی ذمہ داری لی گئی ہے لیکن اس میں کوئی حقیقت نہیں اور وہ بہت جلد میڈیا کو اس حملےکی وڈیو بھی جاری کردیں گے۔

ذرائع ابلاغ میں شائع ہونے والی بعض رپورٹوں میں سکیورٹی ذرائع کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ واہگہ دھماکہ کسی ایک تنظیم کی کاروائی نہیں ہوسکتی بلکہ اس میں کئی گروہ ملوث ہوسکتے ہیں۔ تاہم اس حوالے سے حتمی بات تحقیقات کے بعد ہی سامنے آئی گی۔

شمالی وزیرستان میں جاری آپریشن ضرب عضب کے بعد پاکستان میں اب شدت پسندوں کا بظاہر اب کوئی مستقل ٹھکانہ نہیں رہا۔ اس طرح کی اطلاعات ہیں کہ ان کارروائیوں کی وجہ سے بیشتر شدت پسند یا تو افغانستان منتقل ہوگئے ہیں یا پاک افغان سرحدی علاقوں کی طرف فرار ہوگئے ہیں۔

ایسی اطلاعات بھی ہیں کہ شمالی وزیرستان آپریشن کے باعث کئی تنظیموں کے جنگجوؤں نے شہروں کا رخ بھی کیا ہے۔ اگرچہ یہ جنگجو وہاں آزادانہ نقل و حرکت تو نہیں کرسکتے تاہم اس بات کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا کہ وہ حکومت کےلیے مسلسل ایک خطرہ ضرور ہے۔ واہگہ حملے نے ثابت کردیا ہے کہ شدت پسند بدستور شہروں میں موجود ہیں اور وہاں حملہ کرنے کی منصوبہ بندی بھی کرسکتے ہیں۔

اسی بارے میں