گجرات: تفتیش کے دوران ’توہین مذہب‘ کرنے پر ملزم قتل

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption پولیس نے لڑائی جھگڑے کے الزام میں ضلع جھنگ کے رہائشی طفیل حیدر نقوی کو بدھ کی شب حراست میں لیا تھا

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے وسطی شہر گجرات میں ایک پولیس افسر نے ایک زیر حراست ملزم کو تفتیش کے دوران مبینہ طور پر توہین مذہب کرنے پر اسے گردن اور سر پر کلھاڑی کے وار کر کے اسے موت کے گھاٹ اُتار دیا۔

پولیس نے پولیس اہلکار کو گرفتار کر کے اُس کے قبضے سے آلۂ قتل برآمد کر لیا ہے۔

مقامی انتظامیہ کے مطابق پولیس حکام کی جانب سے قانونی دستاویزات نہ ملنے کی وجہ سے ابھی تک مقتول کا پوسٹ مارٹم نہیں ہو سکا اور نہ ہی اس ضمن میں میڈیکل بورڈ تشکیل دیا گیا ہے۔

مقامی پولیس کے مطابق تھانہ سول لائن پولیس نے لڑائی جھگڑے کے الزام میں ضلع جھنگ کے رہائشی طفیل حیدر نقوی نامی شخص کو بدھ کی شب حراست میں لیا تھا۔

مقامی تھانہ سول لائن کے ایس ایچ او محمد عامر کے مطابق لڑائی جھگڑے کے اس واقعے کی تفتیش اسسٹنٹ سب انسپکٹر فراز نوید کو دے دی گئی اور طفیل حیدر نقوی کو مذکورہ پولیس افسر کی تحویل میں دیا گیا۔

ایس ایچ او کے بقول طفیل حیدر کا ذہنی توازن درست نہیں تھا اور وہ ہر کسی کو گالیاں دیتا رہتا تھا۔ اُنھوں نے کہا کہ تفتیش کے دوران طفیل حیدر نے صحابۂ کرام کی شان میں گُستاخانہ الفاظ کہے تھے، جس پر تفتیشی پولیس افسر کو غصہ آ گیا اور اُنھوں نے کمرے میں رکھی کلھاڑی کے وار کر کے طفیل حیدر نقوی کو موت کے گھاٹ اُتار دیا۔

بی بی سی کے استفسار پر تھانہ سول لائن کے انچارج کا کہنا تھا کہ پولیس اس معاملے کی چھان بین کر رہی ہے کہ اس سے پہلے مقتول طفیل حیدر کے خلاف توہین مذہب کا کوئی مقدمہ تو درج نہیں ہے۔

محمد عامر کے مطابق طفیل حیدر کا ذہنی توازن درست نہیں ہے اور وہ کچھ عرصہ دماغی مریضوں کےہسپتال میں زیر علاج رہا ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ مقتول جھنگ سے گجرات دینی تعلیم حاصل کرنے آیا تھا لیکن گجرات میں شیعہ مسلک سے تعلق رکھنے والے ایک مدرسے کے منتظمین نے اُنھیں داخلہ دینے سے انکار کر دیا تھا۔

پولیس افسر کے مطابق اس مدرسے کے ذمہ داروں نے اس ضمن میں تحریری بیان دیا ہے۔

مقتول طفیل حیدر کی میت کو سول ہسپتال کے مردہ خانے میں رکھ دیا گیا ہے اور ابھی تک پوسٹ مارٹم نہیں ہو سکا۔

سول ہسپتال کے میڈیکل سپرنٹینڈنٹ محمد واجد نے بی بی سی کو بتایا کہ چونکہ ایک شخص کی موت پولیس کی تحویل میں ہوئی ہے اس لیے اس کے پوسٹ مارٹم کے لیے میڈیکل بور ڈ تشکیل دیا جائے گا۔

اُنھوں نے کہا کہ ابھی تک پولیس کی طرف سے قانونی کارروائی مکمل نہیں ہو سکی جس کی وجہ سے میڈیکل بورڈ تشکیل نہیں دیا جا سکا۔

ضلع گجرات کے ڈسٹرکٹ ہیلتھ افسر ڈاکٹر عابد غوری نے بی بی سی کو بتایا کہ ابھی تک ضلعی انتظامیہ کی طرف سے اُنھیں میڈیکل بورڈ تشکیل دینے سے متعلق احکامات موصول نہیں ہوئے۔

یاد رہے کہ اس سے پہلے پنجاب پولیس کے اہلکار ممتاز قادری نے توہین مذہب کے الزام میں موت کی سزا پانے والی خاتون آسیہ بی بی سے ملاقات کی پاداش میں پنجاب کے گورنر سلمان تاثیر کو اسلام آباد میں موت کے گھاٹ اُتار دیا تھا۔

راولپنڈی کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نے ممتاز قادری کو موت کی سزا سُنا رکھی ہے۔

اس کے علاوہ راولپنڈی کی اڈیالہ جیل کے ایک اہلکار نے توہین مذہب کےمقدمے میں موت کی سزا پانے والے برطانوی شہری راجہ اصغر کو جیل کے اندر حملہ کر کے زخمی کر دیا تھا۔

اسی بارے میں