’پولیو کے خاتمے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں،‘ چارسدہ میں پیمفلٹ تقسیم

تصویر کے کاپی رائٹ ap
Image caption گورنر نے کہا کہ قبائلی علاقوں اور پناہ گزینوں کے کیمپوں میں موجود بچوں کو انسداد پولیو کے قطرے دیے جائیں گے

گورنر خیبر پختونخوا نے کہا ہے کہ قبائلی علاقوں سے پولیو وائرس کے خاتمے کے لیے تمام اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

ادھر ضلع چارسدہ میں پولیو مہم کے خلاف پیمفلٹ تقسیم کیے گئے ہیں جن میں اس کی ویکسین کے مضر صحت اجزا کے بارے میں بتایا گیا ہے۔

پاکستان میں اس سال پولیو کے 237 مریض سامنے آئے ہیں جس میں زیادہ تعداد قبائلی علاقوں اور خیبر پختونخوا سے بتائی جاتی ہے۔

گورنر خیبر پختونخوا مہتاب احمد خان نے جمعرات کو یونیسف کے حکام سے ملاقات کے بعد ایک اخباری کانفرنس میں کہا کہ پولیو کے وائرس کو ختم کرنے کے لیے مشترکہ کوششیں کی جائیں گی۔

اس پریس کانفرنس میں ان کے ہمراہ یونیسف کے ریجنل ڈائریکٹر کارن ہلشاوف بھی موجود تھے۔ گورنر نے کہا کہ قبائلی علاقوں اور پناہ گزینوں کے کیمپوں میں موجود بچوں کو پولیو کے قطرے پلائے جائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ شمالی اور جنوبی وزیرستان میں ایسے علاقے ہیں جہاں پولیو ٹیموں کو رسائی نہیں ہے۔

یاد رہے کہ خیبر پختونخوا میں حکام کے مطابق انسداد پولیو کی ہر مہم میں اوسطاً 20 ہزار والدین بچوں کو یہ قطرے پلانے سے انکار کر دیتے ہیں۔ قبائلی علاقوں میں نو گو ایریاز کے علاوہ شدت پسندوں کی جانب سے رضا کاروں یا ان کی حفاظت پر مامور اہلکاروں پر حملے کیے جاتے ہیں جس وجہ سے اس مہم پر اثرات پڑتے ہیں۔

چارسدہ میں پیمفلٹ

ادھر خیبر پختونخوا کے ضلع چارسدہ میں گذشتہ روز نامعلوم افراد نے انسداد پولیو مہم کے خلاف پیمفلٹ تقسیم کیے جن میں کہا گیا ہے کہ اس ویکسین میں مضر صحت اجزا ہیں۔

پاکستان اور دنیا بھر میں ماہرین پہلے ہی اس الزام کو رد کر چکے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ پولیو ویکسین میں اس بیماری سے بچاؤ کے علاوہ کوئی اور اجزا شامل نہیں ہیں۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ پمفلٹ شہر کے مرکزی چوک میں مسجد اور ہسپتال کے قریب لگائے گئے تھے جسے پولیس اور انتظامیہ کے اہلکاروں نے فوری طور پر تلف کر دیا۔

یہ پمفلٹ کمپیوٹر پر ٹائپ کیا گیا تھا جس میں املا کی غلطیاں بھی تھیں اور اس کی فوٹو سٹیٹ کاپیاں شہر میں دیواروں پر چسپاں کی گئی تھیں۔

اس پمفلٹ میں لکھا گیا ہے کہ نائجیریا کے ایک ڈاکٹر کی تحقیق کے مطابق اس میں ایسے اجزا پائے جاتے ہیں جو بانجھ پن کا سبب بنتے ہیں۔

یاد رہے کہ دو ہفتے پہلے پاکستان کے قبائلی علاقے مہمند ایجنسی میں کالعدم تنظیم تحریک طالبان کی جانب سے پشتو زبان میں ایک پمفلٹ جاری کیا گیا تھا جس میں دیگر اہلکاروں کے علاوہ انسداد پولیو مہم کے رضا کاروں پر حملوں کی دھمکی دی گئی تھی۔ اس سے پہلے بھی طالبان کی جانب سے جب بھی ایسے پمفلٹ جاری کیے گئے تو ان پر تنظیم کا نام ضرور لکھا ہوتا تھا۔

اگر قبائلی علاقے ۔۔۔

وزیر اعلیٰ پرویز خٹک نے وزیر اعظم کے ساتھ بدھ کو ملاقات میں کہا کہ اگر قبائلی علاقے خیبر پختونخوا کے ساتھ واقع نہ ہوتے تو شاید اس صوبے سے پولیو کا ایک مریض بھی سامنے نہ آتا۔

پرویز خٹک نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں پولیو وائرس کی بڑی وجہ قبائلی علاقے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبے میں تمام بچوں کو انسداد پولیو کے قطرے دیے جاتے ہیں:

’ایسا نہیں ہے کہ لوگ یہ قطرے پلانے سے انکار کر دیتے ہیں۔ پولیو کا مریض قبائلی علاقوں سے ہو یا افغانستان سے، اس کی خبر پشاور ہی سے دی جاتی ہے۔‘

اسی بارے میں