جنرل رضوان اختر کو کئی چیلنجوں کا سامنا

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption جنرل رضوان اختر کمانڈ اینڈ سٹاف کالج کوئٹہ اور نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی اسلام آباد کے گریجویٹ ہیں

آئی ایس آئی کے سربراہ بن جانے کے بعد لیفٹیننٹ جنرل رضوان اختر پاکستان کی بااثر ترین شخصیتوں میں سے ایک بن جائیں گے، جو صرف بری فوج کے سربراہ کو جواب دہ ہوں گے۔

جنرل رضوان اختر آئی ایس آئی کے انتہائی ڈسپلن والے ادارے کے سربراہ ہوں گے جس کے مخبروں کا جال پاکستان کے تمام بڑے شہروں اور چھوٹے قصبوں میں پھیلا ہوا ہے۔

پاکستان میں آئی ایس آئی واحد سرکاری ادارہ ہے جس کی مخالفت کوئی بھی مول نہیں لے سکتا۔

پاکستان کی کاروباری اور ایلیٹ کلاس ٹیکس حکام کا مذاق اڑا سکتی ہے، پولیس کو تنگ کر سکتی ہے یہاں تک کہ عدالتی نظام پر اثر انداز ہو سکتی ہے تاہم ان میں سے کوئی بھی آئی ایس آئی سے ٹکر لینے کی جرات نہیں کر سکتا۔

ان سب باتوں کے باوجود جنرل رضوان اختر ایک ایسے وقت میں آئی ایس آئی کی کمان سنبھالیں گے جسے ملک اور ملک سے باہر کئی چیلنجوں کا سامنا ہے۔

پاکستان کو طالبان کے جہادیوں کا سامنا ہے جو ریاست کو شکست دینا چاہتے ہیں، بلوچ قوم پرست آزادی کے لیے لڑ رہے ہیں اور ملک میں فرقہ واریت قتل و غارت اپنے عروج پر ہے۔

امریکہ کا افغانستان سے انخلا بھی پاکستان کے لیے متعدد مسائل پیدا کر رہا ہے جس کے وجہ سے اسے بین الاقوامی تنہائی کا سامنا ہے۔

امریکہ کے سینیئر حکام پاکستان پر تنقید کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ نائین الیون کے بعد آئی ایس آئی کے ذریعے پاکستان کو دی جانے والے اربوں ڈالر کی امداد کے بدلے انھیں پاکستان کی دوغلی پالیسی ہی ملی ہے۔

ان میں سے چند تو یہ بھی کہتے ہیں کہ واشنگٹن کی افغانستان میں لمبی جنگ پاکستان کی افغان طالبان کی حمایت کی وجہ سے ناکام ہوئی۔

امریکہ کے ان تمام الزامات کے باعث جنرل رضوان اختر کے امریکی حلیف ان پر بھروسہ نہیں کریں گے کیونکہ دونوں ممالک کے درمیان اعتماد ختم ہو چکا ہے۔

آئی ایس آئی کے نئے سربراہ کی حیثیت سے جنرل رضوان اختر کو معلوم ہے کہ امریکہ جوہری صلاحیت کے حامل پاکستان کی مکمل ناکامی کا تصور نہیں کر سکتا۔

جنرل رضوان اختر کو سنہ 1982 میں فرنٹیئر فورس میں کمیشن ملا تھا۔ وہ فونٹیئر فورس کے مسلسل چھٹے آئی ایس آئی چیف ہیں جنھیں اس کور سے لایا گیا ہے۔

ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ اچھی تعلیم اور تجربہ رکھتے ہیں۔ انھوں نے سنہ 2008 میں امریکی فوج کے پینسلوونیا میں واقع وار کالج میں جنگی کورس بھی کیا ہے۔

جنرل رضوان اختر کمانڈ اینڈ سٹاف کالج کوئٹہ اور نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی اسلام آباد کے گریجویٹ ہیں۔

لیکن ان تمام باتوں کے باوجود خطے میں آج کے حالات بہت زیاد مختلف ہیں۔

بھارت کے نئے وزیرِ اعظم نریندر مودی نے حکومت سنبھالنے کے بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر کا دورہ کیا اور ان کی جماعت آئین کی دفعہ 370 کو منسوخ کرنے کی بات کرتی ہے جس کے تحت جموں اور کشمیر کو خاص خود مختاری حاصل ہو جائے گی۔

حالیہ ہفتوں کے دوران پاکستان اور بھارت کی افواج کے درمیان لائن آف کنٹرول پر گولہ باری میں اضافہ ہوا ہے۔

پاکستان اور بھارت کے درمیان لائن آف کنٹرول پر کشیدگی کے بعد جنرل رضوان اختر پر اپنے فوجی ساتھیوں کی جانب سے دباؤ ہو گا کہ اس بارے میں سخت موقف اپنائیں۔

پاکستان کو اپنی مغربی سرحدوں پر بھی غیر یقینی صورتِ حال کا سامنا ہے۔

سوویت یونین کے خلاف جہاد کے دنوں سے آئی ایس آئی افغانستان میں ایک بڑا کھلاڑی رہی ہے۔

پاکستانی طالبان کی قیادت افغانستان میں پناہ گزین ہے۔ طالبان پاکستانی ریاست کو شکست دینا چاہتی ہے اور اس نے آئی ایس آئی کے متعدد اہلکاروں کو ہلاک بھی کیا ہے۔

جنرل اختر کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ ٹھنڈے مزاج کے حامل ہیں۔ انھیں جس قدر چیلنجوں کا سامنا ہے، اسے دیکھتے ہوئے انھیں تمام تر برداشت اور تحمل کا مظاہرہ کرنا ہو گا۔

اسی بارے میں