اگر مجھے قتل کر دیا گیا

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption مبصرین اس بات پر واضح تھے کہ جنرل ضیا اور ان کے ساتھی بھٹو سے انتہائی خوفزدہ تھے

نام کتاب: اگر مجھے قتل کیا گیا

مصنف: دوالفقار علی بھٹو

صفحات: 336، قیمت: 800 روپے

ناشر: بھٹو لیگیسی فاؤنڈیشن۔ 119۔ طارق بلاک، نیو گارڈن۔ لاہور

کوئی 35 سال پہلے شائع ہونے والی یہ کتاب دراصل اُس وائٹ پیپر کا جواب ہے جو جنرل ضیا الحق کی فوجی حکومت نے ذوالفقار علی بھٹو اور ان کے دورِ حکومت کے بارے میں جاری کیا تھا اور جس کا مقصد ان کی ساکھ کو ہر پہلو سے تباہ اور برباد کرنا تھا۔

بھٹو 1971 سے 1977 تک سول چیف مارشل ایڈمنسٹریٹر، صدر اور پھر وزیراعظم کی حیثیت سے برسرِ اقتدار رہے اور پھر قتل کے مقدمے میں چار اپریل 1979 کو پھانسی پر چڑھا دیے گئے۔

جنرل ضیا کے وائٹ پیپر کا بنیادی مقصد بھی یہی محسوس کیا گیا تھا کہ جب عدالت کے ذریعے بھٹو کو سزا سنائی جائے تو بھٹو کا تشخص اتنا مجروح کر دیا جائے کہ سزا کے فیصلے پر عمل میں کوئی رکاوٹ پیدا نہ ہو۔

تب کے مبصرین اس بات پر واضح تھے کہ جنرل ضیا اور ان کے ساتھی بھٹو سے انتہائی خوفزدہ تھے اور محسوس کرتے تھے کہ بھٹو ان کی زندگیوں کے لیے ایک ایسا خطرہ ہے، جسے جلد از جلد ختم کر دیا جانا چاہیے۔

شاید بھٹو بھی اس بات کو محسوس کر چکے تھے پھر بھی انھوں اپنے دشمنوں کے اس خوف کو دور کرنے کی حکمت عملی اپنانے کی کوئی ضرورت محسوس نہیں کی اور اپنے خلاف مقدمے کو سیاسی پہلو پر زیادہ زور دیا اورعدلیہ میں موجود اپنے مخالفوں کا کام آسان کر دیا۔

جنرل ضیا ان کے اپنے ہی منتخب کردہ چیف آف آرمی اسٹاف تھے جنھوں نے پانچ جولائی 1977 ٹھیک اُس وقت ان کا تختہ الٹا جب وہ 1977 کے انتخابات میں مبینہ دھاندلیوں کی بنیاد پر احتجاج کرنے والے پاکستان قومی اتحاد سے مذاکرات کے بعد مفاہمت کی دستاویز پر دستخط کرنے والے تھے۔

اگرچہ مفاہمت کے اس معاہدے پر دستخط ہونے سے کہنے کو تو فوجی بغاوت کا جواز ختم ہو جاتا کیوں کہ بغاوت کا ہونا طے تھا اور اس کی اطلاع ایک حامی جنرل کے ذریعے بھٹو کو دو دن پہلے ہی مل چکی تھی، لیکن تب تک جوابی انتظامی یا فوجی اقدام کرنے کا وقت گزر چکا تھا۔

جنرل ضیا اور ان کے ساتھیوں سے بہتر کوئی بھی نہیں جانتا تھا کہ نہ تو انتخابات میں بڑی دھاندلی ہوئی ہے اور نہ ہی بھٹو کی مقبولیت میں غیر معمولی کمی آئی ہے اور ضخیم وائٹ پیپر اسی لیے جاری کیا گیا تھا۔

بھٹو راولپنڈی جیل میں تھے اور وائٹ پیپر یا قرطاسِ ابیض کا جواب وہیں سے لکھ لکھ کر وکلا کے ذریعے بھیجتے تھے۔ اس طرح ایک دستاویز تیار ہوگئی جسے سپریم کورٹ میں بھی پیش کیا گیا لیکن فوجی حکومت نے پاکستان میں اُس کی اشاعت پر پابندی عائد کر دی۔

لاہور کے جس پریس نے اس دستاویز کو چھاپنے کی کوشش کی اُس پر چھاپہ پڑا، تمام کاپیاں ضبط کر لی گئیں اور روزنامہ مساوات کے خواجہ نذیر اور ممتاز صحافی عباس اطہر کو ملک سے فرار ہونا پڑا۔

یہ دستاویز لندن سمگل ہوئی۔ اس کی فوٹو کاپیاں سفارتخانوں اور ذرائع ابلاغ کو فراہم کی گئیں۔ اسی دستاویز کو دہلی کے وکاس پبلشنگ ہاؤس نے سنہ 1979 میں کتابی شکل میں چھاپا۔ فوجی حکومت کی تمام کوششوں کے باوجود پاکستان میں یہ کتاب فوٹو سٹیٹ کاپی کی شکل میں گردش کرنے لگی۔

اس کتاب کو 35 عنوانات میں تقسیم کیا گیا ہے جس میں سے پہلے 20 حصوں میں زیادہ تر پاکستان کے اندرونی حالات کے حوالے سے لگائے جانے والے الزامات کے جواب دیے گئے جب کہ باقی میں زیادہ باب بیرونی امور اور پالیسی معاملات سے تعلق رکھتے ہیں۔

پہلے ابواب میں اگر الیکشن کمیشن، خفیہ اداروں، انتحابی دھاندلیوں، حکومتی مشینری اور کچھ افراد کی صفائی پیش کی گئی ہے تو دوسرے حصے میں بختیار فارمولے اور قصوری قتل کیس کے علاوہ افغانستان اور بھارت سے تعلقات، غیر وابستہ کانفرنس، نیوکلیئر ری پروسسنگ پلانٹ، رباط کانفرنس اور اپنے کارہائے نمایاں گنوائے گئے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption اس کتاب کا ہر باب غور سے پڑھے جانے کا تقاضا کرتا ہے۔

وائٹ پیپر میں اگر بھٹو کی عیب جوئی میں انتہا کی گئی ہے تو جواب میں بھٹو نے بھی اپنی تعریف کے مینار تعمیر کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ ان کا انکسار بھی اعتماد سے زیادہ غرور آمیز ہے۔

اسی حصے میں ایک انتہائی عمدہ باب coup-gemony کے عنوان سے لکھا گیا ہے اور خاصے انکشافات سے بھرا ہوا ہے۔

بھٹو کو معلوم تھا کہ فوج سنہ 1958 کے مارشل لا کے دوران پہیہ جام کرنے کی کامیاب مشق کر چکی ہے انھوں نے کراچی کی پہیہ جام ہڑتال کے حوالے سے یہ بات جنرل ضیا کو بھی جتا دی۔

اور یہ کہ جماعت اسلامی کے میاں طفیل کو غیر ملکی فنڈز کی ایک خطیر رقم دی گئی تھی جو انھیں پی این اے کی جماعتوں میں تقسیم کرنی تھی۔

بھٹو اس باب میں فوج کی اہمیت کا بھی جائزہ لیتے ہیں اور یہ بھی بتاتے ہیں: ’برطانوی راج کا خاتمہ ہو چکا ہے اب تیسری دنیا کے ممالک کے لیے سب سے بد ترین خطرہ فوجی بغاوت ہے۔‘

کتاب میں خفیہ ایجنسیوں کے بارے میں جو سوال اٹھائے گئے ہیں وہ آج بھی اہمیت رکھتے ہیں۔

اس کتاب میں خاص طور پر ہارون خاندان اور الطاف گوہر کے بارے میں بتائے گئے واقعات پڑھتے ہوئے اندازہ ہوتا ہے کہ بھٹو میں احسان کر کے دشمن بنانے کی فطری صلاحیت تھی۔

اس کتاب کا ہر باب غور سے پڑھے جانے کا تقاضا کرتا ہے۔ خاص طور اب کیونکہ جنرل ضیا کا جاری کردہ وائٹ پیپر نایاب ہو چکا ہے اب یہی کتاب اُس کی ضرورت بھی پورا کرتی ہے اور ایک ایسی دستاویز ہے جو پاکستان کی تاریخ کے کئی ادوار میں پیش آنے والے کئی واقعات کا درست تعین کرنے کے لیے ناگزیر اہمیت کی حامل ہے۔

سکوڈرن لیڈر (ر) عبدالغنی شوکت کا ترجمہ اچھا اور خاصا رواں ہے۔ پروف پڑھنے پر توجہ زیادہ دی جانی تھی۔ کتاب عمدہ شائع ہوئی ہے، البتہ قیمت زیادہ ہے۔

اسی بارے میں