’جسٹس تصدق حسین جیلانی پر سب سے زیادہ اتفاق ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption اٹھارہویں ترمیم کے موقع پر بھی کہا گیا تھا کہ چیف الیکشن کمشنر کے عہدے کو ججوں تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ اس کو کُھلا چھوڑدیا جائے: احمد بلال

پاکستان مسلم لیگ نواز کے رہنما اور وزیر اطلاعات و نشریات پرویز رشید کا کہنا ہے کہ چیف الیکشن کمشنر کے عہدے کے لیے عمومی طور پر جسٹس ریٹائرڈ تصدق حُسین جیلانی کے نام پر سب سے زیادہ اتفاق کیا جارہا ہے۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا ’جسٹس تصدق حسین جیلانی کے نام پر سب سے زیادہ اتفاق ہے۔‘

پرویز رشید نے کہا کہ اس سے پہلے چیف الیکشن کمشنر کے عہدے کے لیے جسٹس رانا بھگوان داس کے نام پر سب متفق نظر آرہے تھے لیکن انھوں نے اس عہدے کو قبول کرنے سے معذرت کرلی۔

’غالباً رانا بھگوان داس کا خیال یہ ہے کہ جس طرح سیاسی جماعتوں کی طرف سے سابق چیف الیکشن کمشنر جسٹس فخر الدین جی ابراہیم کے لیے جو الفاظ استعمال کیے گئے اور ان کی خدمات کے عوض میں انھیں جس طرح تضحیک کا نشانہ بنایا گیا، وہ اس سے اپنے آپ کو محفوظ رکھنا چاہتے ہیں۔‘

چیف الیکشن کمشنر آخر عدلیہ ہی سے کیوں کے سوال پر وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ سیاسی جماعتوں سمیت سول سوسائٹی میں بھی یہ رائے موجود ہے کہ اس عہدے کے لیے جج ہونا ضروری نہیں ہونا چاہیے۔ لیکن دشواری یہ ہے کہ اس وقت یہ کام آئین کے مطابق ہی کرنا ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے کوشش کی تھی کہ اس عہدے کی تقرری کے لیے کچھ وقت مل جائے تو آئین میں ترمیم کر لی جائے۔ ’اس ترمیم میں چھ سات ماہ کا وقت لگ سکتا ہے لیکن چونکہ سپریم کورٹ کی جانب سے چیف الیکشن کمشنر کی تقرری کے لیے تیرہ نومبر کی حتمی تاریخ دے دی گئی ہے تو یہ کام اُس تاریخ تک ہونا ضروری ہے۔‘

پاکستان میں 1970 سے پہلے ہونے والے انتخابات میں چیف الیکشن کمشنر کا عہدہ بیوروکریٹس کو ہی سونپا جاتا تھا۔

سابق سیکریٹری الیکشن کمیشن کنور دلشاد بتاتے ہیں کہ ’یکم جولائی 1970 کو اُس وقت کے چیف مارشل لاء ایڈ منسٹریٹر اور سابق صدرِ پاکستان جنرل آغا محمد یحییٰ خان نے سیاسی جماعتوں کے ساتھ مشاورت کے بعد یہ فیصلہ کیا تھا کہ آئندہ پاکستان میں جو انتخابات ہوں گے اُس میں سپریم کورٹ آف پاکستان کی خدمات لی جائیں گی اور چیف الیکشن کمشنر ایک ریٹائرڈ جج ہوگا۔

’1970 کے انتخابات میں جسٹس ریٹائرڈ اسرار خان کو چیف الیکشن کمشنر منتخب کیا گیا اور اُس کے بعد 1973 کے آئین میں باقاعدہ ایک شق ڈال دی گئی کہ آئندہ کے چیف الیکشن کمشنر سپریم کورٹ کے ریٹائرڈ جج ہوں گے یا ایسا جج ہوگا جو سپریم کورٹ کا جج بننے کا اہل ہو۔ اس لحاظ سے ہم آئینی طور پر پابند ہیں کہ چیف الیکشن کمشنر کے عہدے کے لیے سپریم کورٹ کی خدمات لیں۔‘

اس فیصلے کے پیچھے منطق کے بارے میں کنور دلشاد نے کہا کہ اُس وقت کی سیاسی جماعتوں کا نقطہ نظر یہ تھا کہ آئی سی ایس کے یا سی ایس پی افسران جنھیں چیف الیکشن کمشنر بنایا جاتا ہے وہ حکومت کے تابع ہوتے ہیں۔ ’اس لیے اس عہدے پر سپریم کورٹ کے جج کو اس عہدے پر فائز ہونا چاہیے جو کسی آئین کے علاوہ کسی کے تابع نہیں ہوتا۔‘

پاکستان میں قانون سازی اور جمہوریت سے متعلق کام کرنے والی غیر سرکاری تنظیم پلڈیٹ کے سربراہ احمد بلال محبوب کہتے ہیں کہ کچھ عرصے سے ہمارا یہ رومانس رہا ہے کہ عدلیہ ہمارے ہر مسئلے کا حل ہے لیکن اب یہ رومانس کسی حد تک ختم ہوگیا ہے۔‘

’اٹھارہویں ترمیم کے موقع پر بھی کہا گیا تھا کہ چیف الیکشن کمشنر کے عہدے کو ججوں تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ اس کو کُھلا چھوڑدیا جائے۔‘

ان کا کہنا تھا ’ججز کا انتظامی تجربہ اتنا گہرا نہیں ہوتا حالانکہ چیف الیکشن کمشنر کے عہدے کے لیے انتظامی تجربہ ہونا بہت ضروری ہے۔ پچھلے انتخابات میں جو مسئلے دیکھنے میں آئے وہ انتظامی فقدان کی وجہ سے زیادہ تھے بجائے کسی اور کے۔‘

احمد بلال نے تجویز دی کہ اس سلسلے میں وفاق سپریم کورٹ سے وقت طلب کرے اور فوری طور پر دستوری ترامیم کریں۔ ’ان ترامیم میں سب سے پہلے تو چیف الیکشن کمشنر کے عہدے کے لیے عمرکی حد مقرر کی جائے اور دوسرے یہ شرط ختم کردی جائے کہ منتخب شخص کا تعلق عدلیہ سے ہو۔‘

اسی بارے میں