’شدت پسندی کے خلاف لڑائی بے خوف ہوکر لڑنی ہوگی‘

Image caption بلاول بھٹو زرداری نے سندھ میں اپنی جماعت کا دفاع کیا

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ پاکستان اور باقی دنیا میں جاری شدت پسندی کے خلاف لڑائی بے خوف ہوکر لڑنی ہوگی اور اس لڑائی کے نتیجے میں شدت پسندی کو شکست ہوگی۔

برطانیہ کے اہم تعلیمی شہر آکسفورڈ میں آکسفورڈ یونین کے چیمبر میں بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ شدت پسند اپنے خوف کو بڑھا کر ظاہر کرتے ہیں جس سے معصوم لوگ خوفزدہ ہوجاتے ہیں۔

’شدت پسندی کے خلاف لڑائی بے خوف ہوکر لڑنی ہوگی‘: ویڈیو رپورٹ

اپنی والدہ کے پورٹریٹ سے سجے اس ہال میں شرکت تو بلاول بھٹو زرداری، نوجوان مصنفہ ساریہ بے نظیر کی کتاب کی لانچنگ کی تقریب میں کرنے آئے تھے لیکن ان کے خطاب کا مرکز بے نظیر بھٹو کی شدت پسندی کے خلاف بلا خوف جدوجہد تھا۔

عالمی شدت پسندی ہو یا پاکستان میں جاری شدت پسندی، فرقہ واریت اور بے گناہ شہریوں کا قتل عام، بلاول بھٹو زرداری اور ان کی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کا موقف بہت واضع رہا ہے لیکن اندرونی طور پر بلاول بھٹو زرداری کو اور بھی کئی چیلنجوں کا سامنا ہے۔

بلاول بھٹو زرداری کے لیے سب سے بڑا چیلنج سندھ میں حکومت کی کارکردگی ثابت کرنا ہے جو پچھلے چھ برسوں سے صوبے میں اقتدار میں رہنے کے باوجود خاطر خواہ کارکردگی نہیں دکھا سکی۔

پچھلے کئی ہفتوں سے سندھ کے صحرائے تھر میں قحط، سوکھے اور بھوک کا غلبہ ہے جس میں 40 سے زیادہ بچوں سمیت درجنوں افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔

بلاول بھٹو زرداری بی بی سی اردو کے تھر سے متعلق سوالوں کے جواب دینے سے کتراتے رہے تاہم اب انھوں نے جواب دیا بھی تو ساری ذمے داری غربت پر ڈال دی۔

بلاول بھٹو زرداری کے بقول تھر، پاکستان کے بے تحاشہ مسائل میں سے ایک مسئلہ ہے لیکن بدقسمتی سے میڈیا کے بعض افراد یہ باور کرانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ سابق وزارتِ صحت کی نااہلی اور کرپشن کی وجہ سے ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ اس بات سے متفق نہیں۔

بلاول بھٹو زرداری نے عندیہ دیا کہ ملک سے غربت اگلی نسل ختم کر سکے گی۔

پاکستان بلاشبہ شدت پسندی کے نرغے میں ہے اور اس کے خلاف لڑائی اولین حیثیت رکھتی ہے، لیکن اس لڑائی سے متعلق بیان بازی کسی بھی حکومت کو اس کے بنیادی کام، یعنی عوام کو تعلیم، صحت، خوراک اور سلامتی فراہم کرنے سے مثتسنیٰ نہیں کر سکتی۔

اسی بارے میں