نواز شریف کے خلاف درخواستیں چیف جسٹس کو بھیجنے کا حکم

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption نواز شریف کے جس بیان پر یہ درخواستیں دی ہیں وہ انھوں نے قومی اسمبلی میں دیا تھا

پا کستان کی سپریم کورٹ کے ایک تین رکنی بینچ نے وزیر اعظم میاں نواز شریف کی نااہلی کے بارے میں درخواستوں کو چیف جسٹس آف پاکستان کو بھیجنے کا حکم دیتے ہوئے کہا ہے کہ لاہور ہائی کورٹ نے ان درخواستوں کو میرٹ پر خارج نہیں کیا۔

جسٹس جواد ایس خواجہ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے یہ بات وزیر اعظم میاں محمد شریف کی نااہلی کے لیئے دائر درخواستوں کی سماعت کے بعد اپنے مختصر حکم میں کہی ہے۔

سپریم کورٹ میں اس سلسلے میں چار درخواستیں دائر کی گئی ہیں جن کی سماعت پیر کو کوئٹہ رجسٹری میں ہوئی۔

یہ درخواستیں مسلم لیگ (ق) کے سربراہ چوہدری شجاعت حسین ، تحریک انصاف کے لائرز فورم کے نائب صدر گوہر نواز سندھو ایڈووکیٹ کے علاوہ دو دیگر درخواست دہندگان نے دائر کی ہیں۔

ان درخواستوں میں یہ موقف اختیار کیا گیا ہے کہ وزیر اعظم میاں نواز شریف نے فوج کے سربراہ کے حوالے سے غلط بیانی سے کام لے کر فوج کے ادارے کو بدنام کرنے کی کوشش کی۔

درخواست گزاروں نے کہا ہے کہ :’اس کے باعث وزیر اعظم آئین کے تحت صادق اور امین نہیں رہے اس لیے انہیں نااہل قرار دیا جائے۔‘

سماعت کے دوران اٹارنی جنرل آف پاکستان سلمان اسلم بٹ اور درخواست دہندہ گوہر نواز سندھو ایڈووکٹ عدالت میں پیش ہوئے۔

اٹارنی جنرل نے یہ موقف اختیار کیا کہ لاہور ہائی کورٹ نے اسی نوعیت کی بعض درخواستوں کو مسترد کرتے ہوٍْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْئے یہ فیصلہ دیا ہے کہ یہ سیاسی نوعیت کا معاملہ ہے۔

فریقین کا موقف سننے کے بعد سپریم کورٹ نے اپنے حکم میں کہا کہ لاہور ہائی کورٹ نے اس نوعیت کی درخواستوں کو میرٹ پر نہیں بلکہ ان کے قابل سماعت نہ ہونے کی بنیاد پر خارج کیا ہے۔

عدالت نے کہا کہ ان درخواستوں سے اہم آئینی سوالات نے جنم لیا ہے جن پر فیصلہ آنا ضروری ہے ۔

عدالت نے ان درخواستوں پرمناسب حکم کے لیے انہیں چیف جسٹس آف پاکستان کے سامنے پیش کرنے کا حکم دیا۔

ان درخواستوں کی سماعت کے دوران بلوچستان سے لاپتہ افراد کے رشتہ داروں کی تنظیم وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے چیئرمین نصراللہ بلوچ بھی پیش ہوئے ۔

انھوں نے یہ شکایت کی سپریم کورٹ میں بلوچستان سے لاپتہ افراد کے کیسز کی سماعت نہیں ہورہی ہے۔

اسی بارے میں