بلوچ سٹوڈنٹس آرگنائزیشن کی سربراہ کے کزن لاپتہ

Image caption کریمہ بلوچ: ’ایک چھوٹی کار اور پولیس موبائل کے ساتھ کچھ لوگ آئے اور علی کو زبردستی اپنے ساتھ لے گئے‘

کراچی سے بلوچ سٹوڈنٹس آرگنائزیشن کی چیئرپرسن کریمہ بلوچ کے کزن لاپتہ ہو گئے ہیں۔

کریمہ بلوچ کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی ان پر دباؤ ڈالنے کے لیے کی گئی ہے۔

انھوں نے بی بی سی کو ٹیلی فون پر بتایا کہ ان کے کزن علی بلوچ حب ریور روڈ پر واقع نیول کالونی میں اپنی والدہ کے ساتھ رہتے تھے اور دو نومبر کو جب وہ اپنے گھر کے باہر کھڑے تھے تو ایک چھوٹی گاڑی اور پولیس موبائل کے ساتھ کچھ لوگ آئے۔ انھوں نے علی کو تھپڑ مارے اور کچھ منٹوں کے بعد انھیں اپنے ساتھ لے گئے۔

کریمہ نے کہا کہ علی کی بزرگ والدہ پولیس تھانے پر گئیں لیکن پولیس نے انھیں دھکے دے کر باہر نکال دیا۔ وہ تمام تھانوں سے معلوم کر چکی ہیں لیکن علی کا کوئی پتہ نہیں چل سکا۔ انھیں یقین ہے کہ علی کو خفیہ اداروں نے حراست میں لیا ہے۔

کریمہ نے دعویٰ کیا ہے کہ علی بلوچ کسی سیاسی سرگرمی میں شریک نہیں ہیں، انھوں نے حال ہی میں ایف ایس سی کیا ہے اور کراچی میں کسی یونیورسٹی میں داخلہ لینے کا ارادہ رکھتے تھے۔ اپنے اکلوتے بیٹے کے ساتھ ماں بھی کراچی منتقل ہو رہی تھیں۔

بلوچ سٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے چیئرمین زاہد بلوچ کی گمشدگی کے بعد کریمہ بلوچ نے بی ایس او کی سربراہی سنبھالی تھی۔ بلوچستان میں طالبات کو بلوچ تحریک میں شامل رکھنے اور احتجاجوں میں شریک کرانے میں ان کا اہم کردار رہا ہے۔

کریمہ بلوچ کا کہنا ہے کہ انھیں دھمکیاں دی جارہی ہیں کہ وہ بلوچ حقوق کی جدوجہد سے دستبردار ہو جائیں، ورنہ ان کے خاندان کے کسی بھی مرد کو نہیں چھوڑا جائے گا، اور علی بلوچ کی گرفتاری بھی اس کا تسلسل ہے۔

انھوں نے کہا: ’ہم نے خود اس مشکل راہ کو منتخب کیا ہے اس لیے میں دھمکیوں سے اپنی جدوجہد سے دستبردار نہیں ہوں گی۔‘

کریمہ کے مطابق علی بلوچ سے پہلے ان کے تین کزن گرفتار کیے جا چکے ہیں جن میں سے بعد میں ایک کو ہلاک کر دیا گیا تھا۔ حال ہی میں تمپ کے علاقے میں ان کے گھر بھی دھمکیاں پہنچائی گئی ہیں کہ اب خواتین کو حراست میں لیا جائے گا۔

یاد رہے کہ اس سے پہلے کراچی سے بلوچستان کے سابق رکن اسمبلی کچکول علی فرزند نبیل لاپتہ ہوگئے تھے جن کی بازیابی کے لیے کراچی پریس کے باہر احتجاجی کیمپ قائم ہے۔

مقامی پولیس نے نبیل بلوچ کی طرح علی بلوچ کی گمشدگی سے لاعلمی اور لاتعلقی کا اظہار کیا ہے۔

اسی بارے میں