’خیبر ایجنسی میں بمباری، غیر ملکیوں سمیت 13 ہلاک‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC Urdu
Image caption آپریشن خیبرون میں ڈھائی لاکھ سے زائد افراد نے نقل مکانی کی، ایف ڈی ایم اے

پاکستانی فوج نے قبائلی علاقے خیبر ایجنسی میں فضائی کارروائی میں متعدد غیرملکیوں سمیت 13 شدت پسندوں کو ہلاک کرنے کا دعوی کیا ہے۔

پاکستان فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ کی جانب سے منگل کو جاری ہونے والے ایک بیان کے مطابق یہ کارروائی دراس نامی علاقے میں کی گئی جس میں شدت پسندوں کے تین ٹھکانوں کو تباہ کیا گیا۔

آئی ایس پی آر کے مطابق یہ کارروائی لاہور میں واہگہ بارڈر پر ہونے والے خودکش حملے میں ملوث شدت پسندوں کی علاقے میں موجودگی کی خفیہ اطلاعات پر کی گئی۔

تاہم بیان میں یہ واضح نہیں کہ مارے جانے والے افراد میں مذکورہ شدت پسند بھی ہیں یا نہیں۔

خیال رہے کہ خیبر ایجنسی میں پاکستانی فوج نے گذشتہ ماہ سے شدت پسندوں کے خلاف ’خیبر ون‘ کے نام سے فوجی آپریشن شروع کر رکھا ہے۔

منگل کو ہی عسکری ذرائع نے اس آپریشن کے دوران اب تک اہم کمانڈروں سمیت 135 شدت پسندوں کی ہلاکت اور 250 شدت پسندوں کے ہتھیار ڈالنے کا دعوے کیے ہیں۔

فوجی ذرائع کی جانب سے موصول ہونے والے تحریری بیان میں کہا گیا ہے کہ ’آپریشن خیبر ون منصوبہ بندی کے مطابق جاری ہے، اس کے آغاز سے اب تک چند اہم کمانڈروں سمیت 135 شدت پسند ہلاک ہو چکے ہیں۔‘

اس بیان میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا ہے کہ آپریشن خیبر ون کے آغاز سے لے کر اب تک جاری کاروائی میں شدت پسندوں کے چند اہم کمانڈروں نے ہتھیار بھی ڈالے ہیں۔

دوسری جانب کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے نومنتخب ترجمان محمد خراسانی نے بھی میڈیا کو ایک تحریری بیان ارسال کیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ خیبر ایجسنی کی تحصیل جمرود میں فوج کے ساتھ منگل کی صبح شروع ہونے والی جھڑپیں جاری ہیں۔

کالعدم تحریکِ طالبان کے ترجمان کے مطابق اس کاروائی میں پاکستانی فوج کے آٹھ اہلکار ہلاک ہوئے جبکہ تین گاڑیوں کو تباہ کیا گیا۔

اسی بارے میں