شمالی وزیرستان کے متاثرین واپسی کے لیے بے چین

Image caption شمالی وزیرستان کے متاثرین نے اپنے علاقوں میں واپسی جانے کی اجازت کے لیے احتجاج بھی کیا ہے

پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا کے جنوبی شہر بنوں میں مقیم شمالی وزیرستان میں جاری فوجی آپریشن ضرب عضب کے نتیجے میں بےگھر ہونے والے متاثرین آج کل پناہ گزین کیمپوں یا شہر کے دیگر علاقوں میں جرگوں کی شکل میں سر جوڑ کر بیٹھے ہوئے نظر آتے ہیں۔

یہ متاثرین اس بات کے منتظر ہیں کہ کب حکومت کی طرف سے ان کی واپسی کے بارے میں کوئی اہم اعلان ہو تاکہ وہ جلد از جلد اپنے اپنے علاقوں کو واپس چلے جائیں۔

بنوں کے لنک روڈ پر واقع متاثرین کیمپ کے مکین ہر صبح اٹھ کر سب سے پہلے یہ جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ کہیں سے ان کی واپسی کے بارے میں کوئی خبر تو نہیں آئی۔

اس کیمپ میں مقیم میران شاہ کے ایک شخص اصل مرجان کا کہنا ہے کہ پہلے متاثرین نے گرمیوں کی سختیاں برداشت کیں جس کی وجہ سے کئی ہلاکتیں بھی ہوئیں، اور اب لگتا ہے کہ سردی کی وجہ سے بھی انھیں شدید مشکلات کا سامنا ہوگا۔

انھوں نے کہا کہ ’رات کے وقت کیمپ میں سخت سردی ہوتی ہے اور بچے ساری رات ٹھنڈ کی وجہ سے چیختے چلاتے رہتے ہیں۔ ہمیں ٹینٹ بھی ایسے دیے گئے ہیں جس میں سردی سے بچاؤ کا کوئی انتظام نہیں جبکہ خیمے کے اندر آگ بھی نہیں جلائی جا سکتی۔ ایسے میں ہم مریں گے نہیں تو اور کیا ہوگا۔ ‘

’ہمیں نہ آٹا چاہیے، گھی چاول اور نہ چینی چاہیے بلکہ حکومت ہمیں اپنے وطن واپس بھیج دے تو ان کی بڑی مہربانی ہوگی کیونکہ ہم مزید یہ سختیاں برداشت نہیں کر سکتے۔‘

اصل مرجان کے مطابق شمالی وزیرستان کے متاثرین کیمپ کی زندگی سے اتنے عاجز آ چکے ہیں اگر فوج یا حکومت ان سے علاقے بھی لینا چاہے تو وہ اس کے لیے بھی خوشی سے راضی ہوں گے بشرطیکہ حکومت ان کو واپس اپنے اپنے علاقوں میں واپس بھیج دے۔

Image caption ’پہلے شدید گرمی اور اب سردی کی وجہ سے بھی انھیں شدید مشکلات کا سامنا ہوگا‘

شمالی وزیرستان میں فوج کی طرف سے جاری آپریشن ضرب عضب کو تقریباً پانچ ماہ پورے ہوگئے ہیں۔ فوج کا دعویٰ ہے کہ 70 سے 80 فیصد علاقہ شدت پسندوں سے پاک کر دیا گیا ہے جبکہ ایجنسی کے مرکزی مقامات میران شاہ اور میرعلی میں بھی صفائی کا عمل پورا ہو چکا ہے۔ تاہم ابھی تک حکومت کی طرف سے متاثرین کی واپسی کا کوئی ٹائم فریم نہیں دیا گیا ہے۔

گذشتہ تقریباً دو تین ہفتوں کے دوران بنوں میں شمالی وزیرستان کے متاثرین کے کئی جرگے منعقد ہو چکے ہیں جن میں حکومت سے متاثرین کی واپسی کا عمل شروع کرنے کا پر زور مطالبہ کیا جاتا رہا ہے۔

اس سلسلے میں متاثرین کی جانب سے احتجاج بھی کیے گئے ہیں لیکن تاحال حکومت یا فوج کی طرف سے بے گھر افراد کی واپسی کے سلسلے میں کوئی حتمی بات نہیں کی گئی ہے۔

الخدمت کیمپ میں مقیم سپین وام کے ایک قبائلی ملک ہدایت اللہ نے بتایا کہ حکومت کے بقول جب زیادہ تر علاقے شدت پسندوں سے صاف ہو چکے ہیں تو پھر متاثرین کو اپنے اپنے گھروں میں واپس جانے کی اجازت کیوں نہیں دی جاتی۔

Image caption شمالی وزیرستان میں فوج کی طرف سے جاری آپریشن ضرب عضب کو تقریباً پانچ ماہ پورے ہوگئے ہیں

انھوں نے کہا کہ سردی کی شدت میں روز بروز اضافہ ہوتا جا رہا ہے اور اگر حکومت کی طرف سے بروقت کوئی انتظام نہیں کیا گیا تو خاص طور پر بچے بیماریوں اور اموات کا شکار ہو سکتے ہیں۔

’ ہمارے پاس کیا ہے، ہم تو متاثرین ہیں، ہم تو ایک ایک جوڑا کپڑوں میں بے گھر ہوئے تھے ہمارے پاس کپڑے تک نہیں تو سردی سے بچاؤ کا کیا انتظام کریں گے۔‘

ہدایت اللہ کے مطابق دس لاکھ کے قریب متاثرین سالوں تک کیمپوں، کرائے کے مکانات اور بنگلوں میں نہیں رہ سکتے، لہٰذا اب ان کو اپنے اپنے علاقوں کو جانے کی اجازت ملنی چاہیے۔

شمالی وزیرستان کے متاثرین شدید گرمی کے موسم میں بے گھر ہوئے تھے۔ زیادہ تر متاثرین کا خیال تھا کہ شاید وہ سردی کا موسم اپنے ہی گھروں پر گزاریں گے لیکن شاید ان کو یہ اندازہ نہیں تھا کہ گرمی کی طرح انھیں اب شدت سرد موسم کے اثرات کو بھی جھیلنا پڑے گا۔

اسی بارے میں