دہشتگردوں کو دوبارہ منظم ہونے کی اجازت نہیں دیں گے‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption جنرل راحیل شریف 16 نومبر کو سرکاری دورے پر امریکہ روانہ ہوں گے

پاکستان فوج کی اعلیٰ ترین قیادت نے اپنے اس عزم کو دہرایا ہے کہ دہشت گردوں کو ملک کے قبائلی علاقوں یا کسی بھی دوسرے حصے میں دوبارہ اکٹھا ہونے یا منظم ہونے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

بری فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف کی صدارت میں آج راولپنڈی میں جنرل ہیڈکواٹرز میں کور کمانڈروں کے معمول کے ماہانہ اجلاس میں شمالی وزیرستان میں جاری ضربِ عضب اور خیبر ون نامی کارروائیوں میں اب تک کی پیش رفت پر اطمینان کا اظہار کیاگیا۔

فوج کے تعلقات عامہ کے شعبے آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری بیان کے مطابق شرکا کو ملک میں سکیورٹی کی عمومی صورت حال پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ انھیں خصوصی طور پر فوجی کارروائیوں کے بارے میں بھی آگاہ کیا گیا۔

بیان کے مطابق کور کمانڈروں نے ان فوجی کارروائیوں کو دہشت گردوں کے مکمل خاتمے تک جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا: ’ان دہشت گردوں کو ان علاقوں میں دوبارہ منظم ہونے یا اکٹھا ہونے نہیں دیا جائے گا اور نہ ہی انھیں ملک میں کوئی جگہ دی جائے گی۔‘

یہ اجلاس ایک ایسے وقت ہوا ہے جب حکومت پاکستان کے بقول شمالی وزیرستان اور خیبر ایجنسی کے علاوہ جنوبی وزیرستان میں بھی فوجی کارروائی ابھی باضابطہ طور پر ختم نہیں ہوئی ہے۔

فوجی سربراہ جنرل راحیل شریف نےشدت پسندوں کے خلاف جاری کارروائیوں میں اب تک ہونے والی پیش رفت اور کامیابیوں پر مکمل اطمینان کا اظہار کیا۔ انھوں نے ان کارروائیوں کے دوران فوجیوں کی بہادری اور قربانیوں پر انھیں داد تحسین سے نوازا۔

آرمی چیف نے تمام متعلقہ اداروں کو بھی ہدایت کی کہ قبائلی علاقوں سے نقل مکانی کرنے والے لاکھوں افراد کی اپنے علاقوں کو واپسی تک ان کی دیکھ بھال میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی جائے۔

جنرل راحیل نے کور کمانڈروں کو اپنے حالیہ دورہ کابل سے متعلق بھی آگاہ کیا ہے۔ انھوں نے اس دورے کے دوران افغان صدر اشرف غنی کے علاوہ دیگر اعلیٰ سیاسی و عسکری رہنماؤں سے ملاقاتیں کی تھیں۔

توقع ہے کہ افغان صدر بھی رواں ہفتے اسلام آباد کا دورہ کریں گے۔

خیال ہے کہ آرمی چیف 16 نومبر کو امریکہ کا دورہ بھی کریں گے۔ پاکستانی فوج کی کمان سنبھالنے کے بعد یہ ان کا پہلا دورۂ امریکہ ہوگا۔ اسے پاک امریکہ تعلقات اور افغانستان کی صورتحال کے تناظر میں بھی خاصا اہم سمجھا جا رہا ہے۔

اسی بارے میں