بورے والا ہسپتال ’ریپ‘، ’تین ملزمان گرفتار‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption ایف آئی آر میں تین افراد کو نامزد کیا گیا ہے جن کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں

جنوبی پنجاب کے ضلع ویہاڑی کے ضلعی رابطہ افسر صادق علی ڈوگر کا کہنا ہے کہ بورے والا کے سول ہسپتال میں مبینہ طور پر ریپ ہونے والی خاتون کے ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

یہ خاتون سول ہسپتال میں اپنے شوہر اور نومولود بچے کے ہمراہ طبی معائنے کے لیے آئی تھیں اور ان کو مبینہ طور پر ریپ کیا گیا تھا۔

خاتون کے شوہر عبدالرحمان نے بتایا کہ ان کے ہاں چند روز پہلے بچے کی پیدائش ہوئی تھی جس کے بعد ان کی اہلیہ کی طبیعت ناساز تھی۔ دو روز پہلے وہ انھیں ڈاکٹر کو دکھانے سول ہسپتال گئے۔ بیوی اور بچے کو ہپستال کے برآمدے میں ایک بنچ پر بٹھا کر وہ پرچی بنوانے گئے اور جب دس منٹ بعد واپس آئے تو بچہ بھی وہیں موجود تھا اور ان کی اہلیہ کا پرس اور دوسرا سامان بھی لیکن وہ خود غائب تھیں۔

عبدالرّحمان کا کہنا ہے کہ یہ دن 11 بجے کا وقت تھا اس کے بعد انھوں نے اپنی بیوی کو تلاش کرنا شروع کیا لیکن کہیں نام و نشان نہ پایا۔ پھر تنگ آ کر انھوں نے بچے کو گھر بھجوایا دیا۔ دن اڑھائی بجے بیوی کی گمشدگی کی رپورٹ درج کروائی اور اپنے دو رشتےداروں کے ہمراہ ہپستال واپس آگئے تاکہ ہسپتال کے دوسرے حصوں میں بھی انھیں تلاش کر سکیں۔

’میں نے کوئی کمرہ اور غسل خانہ نہیں چھوڑا۔ پھر میں نیچے کی منزل پر گیا۔ وہاں ایک دروازہ تھا جس کا شیشہ ٹوٹا ہوا تھا۔ اس کے آگے بنچ رکھ کر اسے بند کیا گیا تھا۔ مجھے شک پڑا میں ڈرتے ڈرتے اندر داخل ہوگیا۔ میری بیوی سٹریچر پر نیم بے ہوش پڑی تھی۔ میں اسے لے کر گھر آ گیا۔‘

عبدالرّحمان کا کہنا ہے کہ رات تین بجے تک ان کی اہلیہ بےہوش رہیں۔ ’جب انھیں ہوش آیا تو انھوں نے بتایا کہ انھیں تین آدمیوں نے ٹیکہ لگایا جس کے بعد انھیں ہوش نہیں کہ ان ساتھ کیا ہوا، لیکن یہ واضح ہے کہ ان کے ساتھ برا بھلا ہوا۔‘

عبدالرّحمان نے بوریوالا کے ماڈل ٹاون تھانے میں اس واقعے کی ایف آئی آر درج کروائی ہے۔ تھانے کے ایس ایچ او محمد سعید نے کہا کہ خاتون ابھی بھی ہسپتال میں زیرِ علاج ہیں اور اس قابل نہیں کہ بیان دے سکیں لیکن ایف آئی آر درج کر لی گئی ہے اور معاملے کی تفتیش کی جا رہی ہے۔ ایف آئی آر میں تین افراد کو نامزد کیا گیا ہے جن کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔

’ابتدائی میڈیکل رپورٹ سے تو ابھی کچھ نہیں کہا جاسکتا ہے لیکن ہم جلد از جلد تمام شواہد اکٹھے کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘

ایس ایچ او نے مزید کہا کہ ’خاتون کا بیان بھی کافی اہمیت کا حامل ہے۔ جونہی ڈاکٹر اجازت دیں گے ہم ان کا بیان ریکارڈ کر لیں گے۔ لیکن کیمیکل ایگزامینر اور ڈی این اے رپورٹ کے بعد ہی حتمی طور پر کچھ کہا جا سکتا ہے، جس اس میں کچھ ماہ لگیں گے۔ تاہم ملزمان کی گرفتاری کے لیے دو ٹیمیں تشکیل دے دی گئی ہیں اور چھاپے مارے جارہے ہیں۔‘

اسی بارے میں