پاکستان ایجنڈے اور پروگرام کے ساتھ آیا ہوں: افغان صدر

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption 30 رکنی وفد کے ہمرا افغان صدر دو روزہ دورے پر اسلام آباد پہنچے ہیں

افغان صدر اشرف غنی کا کہنا ہے کہ ان کا دورۂ پاکستان ماضی کے دوروں سے مختلف ہے کیونکہ وہ ایک جامع ایجنڈے اور پروگرام کے ساتھ اسلام آباد آئے ہیں۔

یہ بات انھوں نے آج صبح کابل سے اسلام آباد کے دو روزہ سرکاری دورے پر سفر کے دوران طیارے میں صحافیوں سے گفتگو میں کی۔

اس گفتگو میں بی بی سی پشتو کابل کے محمود کوچی بھی موجود تھے۔ ان کے مطابق افغان صدر نے مزید کہا کہ ’کرزئی صاحب نے جو پچھلے 20 سفر کیے، یہ دورہ ان سے مختلف ہے۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ کرزئی صاحب جب بھی پاکستان آئے، اچانک آئے۔ ان کا کوئی ایجنڈا نہیں ہوتا تھا۔ میں ایک ایجنڈے اور پروگرام کے ساتھ آیا ہوں، میں نے کئی وفود کابل مدعو کیے، ان سے اس ایجنڈے اور پروگرام پر مشاورت کی، میں بہت صلاح مشورے کے بعد آیا ہوں، اسی لیے میں بہت پراعتماد اور پرامید ہوں کہ یہ دورہ خاطر خواہ نتائج دے گا۔‘

اشرف غنی کے ساتھ 30 رکنی وفد بھی آیا ہے جس میں تاجر بھی شامل ہیں۔ افغان صدر آمد کے بعد وفاقی وزرا سے ملاقاتوں کے علاوہ جعمیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان سے بھی ملے ہیں۔

افغان صدر اشرف غنی کے دورۂ پاکستان کی اہمیت آج انھیں راولپنڈی میں قائم فوجی صدر دفاتر یا جی ایچ کیو میں دیے گئے استقبالیے سے بھی واضح ہوتی ہے۔ اشرف غنی کو نہ صرف جی ایچ کیو کے دورے کی دعوت دی گئی بلکہ انھیں گارڈ آف آنر دیا گیا اور انھوں نے یادگارِ شہدا پر پھولوں کی چادر چڑھائی۔

وہ ایوان صدر میں عشائیے پر بھی مدعو ہیں۔ وزیر اعظم نواز شریف کے ساتھ وہ سنیچر کو ملاقات کریں گے اور اسی دن دونوں ممالک کی اے ٹیموں کے درمیان کرکٹ میچ بھی دیکھیں گے۔

فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ کے سربراہ میجر جنرل عاصم باجوہ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر لکھا:

’افعان صدر پاکستان میں: سلامتی اور استحکام ہمارا مشترکہ مقصد ہے۔ ہماری سلامتی ایک دوسرے کے ساتھ لازمی طور پر منسلک ہے۔ توجہ کا مرکز طویل مدت شراکت اور سرحدی تعاون کے میکانزم ہیں۔‘

افغانستان میں مزید جنگ نہ پاکستان اور نہ ہی افغانستان کے عوام دیکھنا چاہتے ہیں۔ وہاں امریکہ کی قیادت میں کثیر ملکی افواج انخلا مکمل کرنے کے قریب پہنچ چکی ہیں۔ لیکن پاک افغان سرحد کی دونوں جانب سرگرم شدت پسندوں کی کارروائیوں میں بظاہر کوئی کمی نہیں آئی ہے۔ افغانوں کی حد تک کم از کم آج بھی یہ سمجھا جا رہا ہے کہ اس تشدد کے خاتمے کی کنجی پاکستان کے پاس ہے۔ البتہ مشترکہ لائحہ عمل ضروری ہے۔

عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ اسفندیار ولی خان کہتے ہیں کہ اگر دونوں ممالک نے ایسا نہ کیا تو یہاں بہت خون بہے گا اور حالات مزید خراب ہوں گے۔

قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں جاری فوجی کارروائی دونوں ممالک کے درمیان اشتراک کی ایک اچھی مثال بن سکتی تھی۔ لیکن بیانات سے بظاہر محسوس ہوتا ہے کہ ایسا نہیں ہوسکا۔ اس ناراضی کی صدا گذشتہ دنوں پشاور میں پاکستان فوج کے ترجمان میجر جنرل عاصم باجوہ کی جانب سے سنائی دی۔

حامد کرزئی کی پاکستان کے ساتھ اپنے اقتدار کے آخری ایام کی سرد مہری کے بعد اب ایک نئی گرمجوشی کا آغاز دکھائی دے رہا ہے۔ پاکستانی قیادت افغانستان کے ساتھ روابط دوبارہ استوار کرنے کے لیے نئے افغان صدر کا طویل عرصے سے انتظار کر رہی تھی۔ تو کیا ایسے میں پاکستان اور افغانستان مشترکہ مسئلے کے حل پر ایک پیج پر ہیں؟

پاک افغان امور کے ماہر امان اللہ غلزئی سیاسی حکومت کے ایک پیج پر ہونے کے قائل ہیں لیکن سکیورٹی اسٹیبلشمنٹ کے بارے میں واضح نہیں: ’دونوں کو مل کر ایک دوسرے کے تحفظات دور کرنا ہوں گے۔‘

اشرف غنی کی افغان صدارتی انتخابات میں کامیابی کی بڑی وجہ ان کا اقتصادی بحالی کا پروگرام بھی تھا۔ اہم ہمسایہ پاکستان کے لیے بھی بظاہر اسی قسم کا ایک اقتصادی منصوبہ ساتھ لایا ہے۔ لیکن تجزیہ نگاروں کے مطابق طالبان کے ساتھ مذاکرات کے امکانات پر بھی یقیناً بات ہوگی۔

فائدہ ہوگا یا نہیں، اس بابت ابھی کچھ نہیں کہا جا سکتا۔

اسی بارے میں